امارتی حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاع نے بیلسٹک میزائل حملے کو ناکام بنایا ، ابوظبی کے علاقے بنی یاس میں میزائل کے ٹکڑے گرے جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا۔
متحدہ عرب امارات میں حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 7 ہوگئی ہے، حالیہ کشیدگی میں تین پاکستانی شہری مارے جاچکے ہیں، ایک پاکستانی دبئی میں جبکہ 2 ابوظبی میں جاں بحق ہوئے۔
افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔وزارت اطلاعات کے مطابق اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا۔ یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے ڈیلیٹ ویڈیو پر سوال اٹھا دیےوزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عیدالفطر کے پیش نظرحکومت پاکسان نے اپنے طور پر اقدام کرتے ہوئے اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کو مدد فراہم کرنے والے ڈھانچے کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں عارضی طور پر وففے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں وقفہ 18 اور 19 مارچ 2026 کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک لاگو ہوگا۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان یہ وقفہ نیک نیتی اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہا ہے تاہم سرحد پار سے کسی بھی حملے، ڈرون حملے یا دہشت گردی کے واقعے پر’آپریشن غضب للحق’ فوری دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، انٹیلی جینس بیورو تمام اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی رپورٹ پیش کرے گی.، ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں، حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں۔بریفنگ کے مطابق تمام صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے، اور پیٹرولیم مصنوعات کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے، تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ہوسکے ۔بریفنگ میں کہا گیا کہ تمام کابینہ ارکان نے رضاکارانہ طور تنخواہیں نہیں لیں. سرکاری محکموں کی تیل کی کٹوتی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بچت کے اقدامات سے موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی، ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے ملک میں ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ ورک فرام ہوم کے حوالے سے سرکاری ای-افس کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی کنیکٹیویٹی کے انتظامات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے کیے جا چکے ہیں۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد سے وہاں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سڑک کے راستے واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 28 فروری سے لے کر گذشتہ روز تک ایران سے پانچ ہزار 615 پاکستانی شہری ضلع چاغی اور گوادر کے راستے واپس پہنچ چکے ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کے علاوہ دو ہزار 117 ایرانی ڈرائیورز اور 431 دیگر ممالک کے شہری بھی ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کو گوادر اور چاغی کے انتظامیہ نے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت دونوں سرحدی گزرگاہوں پر مسافروں کو ہر ممکن معاونت کی فراہمی کے لیے متحرک ہے۔
ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔یل پر پہلی مرتبہ ‘سجیل میزائل’ کے حملےدوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔










