پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 148042کی سطح پر آگیا ہے۔اسٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی کی وجہ سے مارکیٹ کو ہولڈ کردیا گیا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی کی وجہ سے کاروبار بھی عارضی طور پر معطل ہوگیا ہے۔انڈیکس ٹریڈنگ 9780 پوائنٹس کم ہوکر 1 لاکھ 47 ہزار 715 پوائنٹس کی حد پر روک دی گئی ہے۔ کے ایس ای 30 انڈیکس ٹریڈنگ 3133 پوائنٹس کم ہوکر 45 ہزار 196 پر روک دی گئی۔مزید برآں کے ایس ای 30 انڈیکس ٹریڈنگ منفی 6.93 فیصد پر معطل ہوئی۔ اسٹاک ٹریڈنگ کو ایک گھنٹے کیلئے روک دیا گیا تھا جس کے بعد کاروبار کا دوبارہ آغاز کردیا گیا ہے۔ابھی ہنڈریڈ انڈیکس 11725 پوائنٹس کمی سے 145770 کی سطح پر آگیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 12343پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 10242پوائنٹس کی مندی ہے۔ ہنڈریڈ انڈیکس گھٹ کر 1لاکھ 47ہزار 253پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے۔ہنڈریڈ انڈیکس گھٹ کر 1لاکھ 45ہزار 152پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔ 100 انڈیکس میں 7.84 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا، ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جو کہ اسٹاک مارکیٹ کی مندی کی بڑی وجہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی موثر جوابی کاروائیاں جاری ہیں۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی پوسٹ کو نشانہ بنایا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ افغان طالبان کی اس پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔افواج پاکستان نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے پکتیکا میں شاہین بیس کے امیونیشن ڈپوذ کو مکمل تباہ کر دیا۔ پاک افغان بارڈر پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔
چین نے پاکستان اور افغانستان کے مابین گزشتہ 10 دنوں سے جاری کشیدگی ختم کرانے کیلیے کوششیں شروع کردی ہیں۔اس کیلئے چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان یو شیاؤ یونگ کو کابل بھیج دیا ہے جہاں انھوں نے اتوارکو افغانستان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی سے ملاقات کی ہے۔اس ضمن میں افغان وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں ملا امیرخان متقی اور یو شیاؤ یونگ کے درمیان دوطرفہ تعاون اور خطے کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی مندوب نے افغان حکومت پر زوردیا کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے،دونوں ملکوں میں کشیدگی کا خاتمہ خطے کے استحکام اور سلامتی کیلیے ضروری ہے۔یو شیاؤ یونگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک حالات کو بہتر بنانے کیلیے دونوں ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کے یہ دورہ ایسے موقع پر ہورہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں،پاکستان افغانستان کے اندرزمینی و فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسلام آباد میں پاکستانی حکام کاکہنا ہے کہ افغان حکومت سرحد پار سے دہشتگرد گروپوں کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے لہٰذا فوجی کارروائی کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔افغانستان کے اندرٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے اندر آکر کارروائیاں کرتی ہے۔پاکستان بارہا افغان حکومت کو باور کرا چکا ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی۔برینٹ خام تیل کی قیمت 23فیصد اضافےسے114.36ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل 27فیصد بڑھ کر 115.11 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو تیل 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔
واقعہسرگودھا کہ علاقہ کوٹ ناجہ کے قریب پیش آیا جہاں قائدآباد سے جانے والے آئل ٹینکر کا ٹائر پھٹ گیا۔سرگودھا پولیس کے مطابق آئل ٹینکر کا عملہ ٹائر بدلنے میں مصروف تھا کہ اس دوران وہاں 2 ڈاکو پہنچ گئے۔ ڈاکوؤں نے آئل ٹینکر سے 80 لیٹر پیٹرول نکال لیا اور عملے سے نقدی بھی چھین کر فرار ہوگئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے اہم اقدامات کرتے ہوئے سعودی عرب سے طویل المعیاد اقتصادی تعاون کے لیے رجوع کر لیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کو طویل مدتی اقتصادی تعاون کی 8 درخواستیں کر دیں جن میں موجودہ 5ارب ڈالر کے ذخائر کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔پاکستان نے سعودی عرب کی حکومت سے ڈیفرڈ ادائیگی کے تحت تیل کی سہولت کو 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کرنے کی درخواست کی ہے۔اس کے علاوہ اس کی مدت میں اضافہ کرنا، بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم 10 ارب ڈالر کی سکیورٹائزیشن کرنا اور دیگر امور شامل ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تیسری جائزے کی تکمیل کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی جامع اقتصادی تعاون کے پیکج پر مذاکرات کر رہے تھے۔
ڈیرہ غازی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران 4 دہشتگرد مارے گئے۔ذرائع کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ڈی جی خان کے سرحدی گاؤں جوتر میں 15دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا۔سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلےمیں 4 دہشتگرد مارے گئے اور 11 دہشتگرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ذرائع نےبتایا کہ ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے جب کہ مفرور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
اسرائیلی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد زخمی افراد اسرائیل کے مختلف اسپتالوں میں لائے جا چکے ہیں۔وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 157 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 112 زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔اسرائیلی ریسکیو سروسز کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب پر کیے گئے تازہ میزائل حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں ایک درجن سے زائد مقامات پر میزائل یا اس کے ٹکڑے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب تھا۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سارجنٹ فرسٹ کلاس ماہر خطار شامل ہیں جبکہ دوسرے فوجی کا نام بعد میں جاری کیا جائے گا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان میں ایک فوجی چوکی کے قریب پیش آیا جو اسرائیلی سرحدی بستی منارا کے سامنے واقع ہے۔ابتدائی فوجی تحقیقات کے مطابق علاقے میں کارروائی کے دوران ایک پیوما بکتر بند گاڑی کو نکالنے کے لیے فوج نے ایک اور پیوما گاڑی اور دو ڈی 9 بکتر بند بلڈوزر بھیجے تھے۔فوج کے مطابق بلڈوزروں میں سے ایک کو ایک گولہ لگا جو ممکنہ طور پر اینٹی ٹینک میزائل یا مارٹر تھا، جس کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی اور دونوں فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک افسر معمولی زخمی ہوا
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں، جو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔رپورٹس کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مجلس خبرگان نے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کیا۔ یہ 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے جو ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں اپنے کمپاؤنڈ پر ہونے والے فضائی حملے میں مارے گئے تھے، اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی والدہ، اہلیہ اور ایک بہن بھی شہید ہو گئی تھیں، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔مجلس خبرگان نے اپنے بیان میں ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی قیادت کی حمایت کریں اور قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔مجتبیٰ خامنہ ای کئی دہائیوں سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، انہیں ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کبھی کسی عوامی انتخاب میں حصہ نہیں لیا اور عام طور پر عوامی تقریروں یا سیاسی بیانات سے بھی گریز کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں نے کبھی ان کی آواز بھی نہیں سنی۔گزشتہ کئی برسوں سے انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری سے ایران میں خاندانی طرز کی قیادت کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جو 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے کی پہلوی بادشاہت سے مشابہت رکھتا ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای پر ماضی میں ایرانی حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے دبانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، خاص طور پر 2009 کی گرین موومنٹ کے دوران جب متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا۔فی الحال ایران میں شدید جنگی صورتحال کے باعث اطلاعات کا بہاؤ محدود ہے اور حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث نئی قیادت سے متعلق مزید تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں
امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں اقتدار کی بڑی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔ریاستی میڈیا کے مطابق ماہرین کی مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔88 رکنی مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا، وہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ملک کے تیسرے سپریم لیڈر ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بھی ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سونپ دی گئی۔مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم ہیں اور انہیں ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث طویل عرصے سے اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق ایران کی حکومتی اشرافیہ کے بعض حلقے پہلے ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت کے لیے موزوں سمجھتے تھے جبکہ ان کے والد کے دفتر اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا انقلابی نظریہ موروثی اقتدار کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تاہم موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کی طاقت کے مراکز خاص طور پر انقلابی گارڈز کی حمایت کے باعث ممکن ہوئی۔










