چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی شہزادے خالد بن سلمان سے ملاقات کی جہاں دونوں کے درمیان خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا دورہ کہا جہاں انہوں نے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔دونوں رہنماؤں نے مملکت پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی اور اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے اندر انہیں روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔اس بات پر زور دیا گیا کہ بلا اشتعال جارحیت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے آپشنز کو روکتا ہے۔دونوں فریقوں نے امید اور خواہش کا اظہار کیا کہ برادر ملک ایران کسی غلط فہمی سے بچنے کے لیے ہوشیاری اور سمجھداری کا مظاہرہ کرے گا اور بحران کے پرامن حل کے خواہاں دوست ممالک کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد خام تیل کی قیمت 9 فیصد تک بڑھ گئی ۔عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی خام تیل 88 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران پر حملہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران اپنی غیر مشروط سرینڈر کرنے کا اعلان نہیں کردیتا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج (IDF) کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ اسرائیل ایران کی حکومت کو کچل رہا ہے اور اپنی کامیابیوں کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھائے گا۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کیخلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے۔ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہیں،ہمارا دوسرے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ عبوری لیڈر شپ کونسل نے پڑوسی ممالک کیخلاف کوئی حملہ یا میزائل حملہ نہ کرنےکی منظوری دے دی ہے، پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔مسعود پزشکیان کا کہنا تھا ایران، امریکا اسرائیل کےسامنے سرینڈرنہیں کرےگا، دشمن کو ایرانی عوام کے ہتھیار ڈالنے کی خواہش کو قبر میں لےجاناپڑےگا۔

ایرانی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے آغاز سے اب تک 6 ہزار668 سے زائد سویلین یونٹس کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ایرانی ہلال احمر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 5ہزار 535 رہائشی یونٹس نشانہ بنے، اب تک ایک ہزار 41کمرشل یونٹس، 14میڈیکل سینٹرز اور 65 اسکولوں کو نشانہ بنایاگیا۔ایرانی ہلال احمر کا بتانا ہے کہ جنگ کےآغازسےاب تک ہلال احمرکے 13مراکز کو بھی نشانہ بنایاگیا، حملوں کےدوران متعدد ریکسیوریلیف کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، ریلیف آپریشن کےدوران ہلال احمرکےورکرز بھی زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران اور اصفہان شہر میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب ترجمان ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ان تمام اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران پر حملے شروع ہوئے تھے، ہماری پوری کوشش تھی کہ پڑوسی مسلم ممالک کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران پرحملےکے لیے فضائی حدود فراہم نہ کرنے والے ممالک پر حملہ نہیں کیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کی درمیانی شب کے بعد سے ہفتہ کی صبح تک ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی پانچ لہریں بھیجی گئی ہیں۔ ان حملوں کے باعث لاکھوں اسرائیلی شہری رات بھر پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق محدود تعداد میں میزائل داغے گئے جس کے باعث وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تازہ بیلسٹک میزائل حملوں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ تمام میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے اور کسی مقام پر براہِ راست گرنے کی اطلاع نہیں ہے۔

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران جنگ آٹھویں روز بھی شدت اختیار کرگئی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رات گئے تہران کے مختلف علاقوں پر وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے، جن کے بعد شہر میں سائرن گونجتے رہے اور سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔
ادھر امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ایران کے 43 بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا گیا یا انہیں تباہ کردیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں جاری فوجی آپریشنز کے دوران کی گئیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے امریکی دعووں کی مکمل تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد خلیجی خطہ مزید عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے

انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 برس قید کی سزا سنا دی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 9 مئی جی ایچ کیو کیس کا فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے اشتہاری ملزمان کو قید کے ساتھ 5،5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت سے سزا پانے والوں میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب اور راشد شفیق شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ بھی ملزمان میں شامل ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی کو بھی قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سزا پانے والے ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ اور آرمی میوزیم پرحملوں میں ملوث پائے گئے، جے آئی ٹی رپورٹ نے ملزمان کو پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں ملوث مرکزی ملزم قرار دیا۔
فیصلے کے مطابق ملزمان پر 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پرحملوں اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے، مقدمےمیں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سمیت 118 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی، 118 ملزمان پر دسمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ مقدمے میں اب تک استغاثا کے کل 44 گواہان کے بیانات رکارڈ ہوچکے ہیں، 118ملزمان میں 18 ملزمان دوران ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر پائے گئے، 29ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔
عدالت نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کےتحت47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا، پراسیکیوشن نے رواں سال 6 جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائرکی، عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر انکوائری تشکیل دی، رواں سال 8 جنوری کو 47 مفرور ملزمان کا اشتہار جاری کیا گیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اشتہاری ملزمان کو 7دن کےاندر عدالت کےسامنےسرنڈر کرنے کاموقع دیا، عدالتی احکامات اور اشتہار جاری ہونےکے باوجود کوئی ملزم عدالت پیش نہیں ہوا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو علیحدہ کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم 15 دہشتگرد ہلاک کر دیئے گئے۔ 5 مارچ کو خفیہ اطلاع پر ضلع ہرنائی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔
کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 12 بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے خوارج مارے گئے۔
ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع بسیمہ میں کیا گیا جہاں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کا سراغ لگایا گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے مختلف ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا۔ شدید مقابلے کے بعد 3 بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ یہ دہشتگرد متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔
علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن عزمِ استحکام کے تحت ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھیں۔