پشاور کے علاقہ یو نیورسٹی ٹاؤن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے یورولوجسٹ ڈاکٹر آصف زخمی ہوگئے،مجروح کو گھر کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا،ڈاکٹر آصف اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی ،وہ سابق سی سی پی پشاور ملک سعد شہید کے چچا زاد بھائی ہیں،واضح رہے خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں ڈاکٹروں پر فائرنگ کے تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس ڈاکٹروں میں بے چینی پائی جارہی ہے
امریکہ کے صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اگلے ’دو سے تین ہفتوں میں‘ ایران سے ’نکل‘ جائے گا۔
منگل کے روز اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ایک ہی ’مقصد‘ تھا – کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ نہیں کر سکے اور امریکی صدر کے مطابق انھوں نے وہ حاصل کر لیا ہے۔
’ہمارا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے۔‘ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ’شاید دو ہفتوں کے اندر، یا اس سے دو چار دن زیادہ لگ جائیں کام ختم ہونے میں۔‘
’ہم ان کی ہر ایک چیز تباہ کر دینا چاہتے ہیں – لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم اس سے پہلے کوئی معاہدہ کر لیں۔‘
اوول آفس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ، ’ضروری نہیں کہ ایران کوئی معاہدہ کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران سے نکل جائے گا جب اسے یقین ہو جائے کہ ایرانی حکومت ’سالوں تک‘ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتی۔
’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایران سے امریکہ کے انخلا کا تہران کے ساتھ معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران میں بمباری کے نتیجے میں سب کچھ تباہ ہو گیا ہے اور ان کے پاس اب اپنے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں بھی نہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ’اب لڑ نہیں پا رہے۔ وہ اب ہم پر فائر بھی نہیں کر رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ’ان کا جنگی ساز و سامان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے‘ اور ’فائر کرنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔‘
صدر ٹرمپ کا دعوی ہے کہ ایران کے پاس اب بحریہ یا فوج بھی نہیں ہے۔
’وہ ہار رہے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ہار رہے ہیں۔ وہ ایک معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں۔‘
پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کیلیے پانچ نکاتی مشترکہ ایجنڈا پیش کردیا۔تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات میں دونوں ممالک نے خلیج و مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پانچ نکاتی مشترکہ منصوبہ پیش کیا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ و خلیج میں تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے، جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔دونوں ممالک نے زور دیا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کا تحفظ کیا جائے جبکہ پاکستان اور چین نے مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو واحد مؤثر راستہ قرار دیتے ہوئے تمام فریقین پر تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی۔آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک نے جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ و جلد آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔چین اور پاکستان نے کثیرالجہتی نظام کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر جامع امن فریم ورک تشکیل دینے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے نکات خطے میں دیرپا امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔قبل ازیں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ اہم سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے جہاں انکی چینی ہم منصب سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور چینی سفیر یوئے شیاو یونگ نے بیجنگ پہنچنے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا استقبال کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں بھلے آبنائے ہرمز بند رہے۔
ٹرمپ اور ان کے معاونین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائیاں ایران کے تنازع کو چار سے چھ ہفتوں کی ٹائم لائن سے آگے دھکیل دیں گی۔ انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ صدر کے پاس فوجی اختیارات ہیں، لیکن وہ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور میزائلوں کو تباہ کرکے اپنے مقاصد حاصل کرے، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران پر سفارتی دباؤ ڈالے گا اور دشمنی کو ختم کرے گا۔ اور اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو واشنگٹن یورپ اور خلیج میں اتحادیوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھلوائیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے شہری بنیادی انفراسٹرکچر پر حملہ کر دیں گے۔
ڈی ایچ اے پشاورمیں 25 مارچ 2026 کو ریزیڈنشل پلاٹس کی بیلٹنگ کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جسے شرکاء نے ایک یادگار اور تاریخی لمحہ قرار دیا۔ اس موقع پر شہریوں کے خوابوں کو حقیقت کا روپ ملتا دکھائی دیا اور ماحول خوشی و مسرت سے بھر گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے پشاور، بریگیڈیئر ہارون رشید خان تھے، جن کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ بیلٹنگ میں 5 مرلہ، 10 مرلہ اور 1 کنال کے رہائشی پلاٹس شامل تھے۔ جیسے ہی نتائج کا اعلان کیا گیا، کامیاب امیدواروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور شرکاء نے اس عمل کو شفاف اور منظم قرار دیا۔تقریب کے دوران نہ صرف بیلٹنگ کے مراحل کو شفاف انداز میں مکمل کیا گیا بلکہ شرکاء کی تفریح کے لیے موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں گلوکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے آئندہ بیلٹنگ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا گیا، جس سے عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا۔ڈی ایچ اے پشاور کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارہ مستقبل میں بھی اسی شفافیت اور معیار کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کو بہترین رہائشی سہولیات فراہم کرتا رہے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں آدھے سے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ نے ایران کے پاسداران انقلاب کے “ہزاروں” ارکان کو ہلاک کرنے سمیت کئی اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم ان کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے بھی قریب ہیں۔
نیتن یاہو نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران کی اسلامی جمہوریہ ختم ہوجائے گی تاہم انہوں نے اضافہ کیا کہ جنگ کا مقصد یہ نہیں تھا
واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ جنگ کا آغاز کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ آپریشن چار سے چھ ہفتے تک جاری رہے گا۔
سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنگ مہینوں کے بجائے ہفتوں جاری رہے گی۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے جبکہ یہ الزام اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹ کیخلاف ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بیان آئی ڈی ایف کی جانب سے ٹیلیگرام پر شائع کیا گیا۔
بیان کے مطابق 22 سالہ کیپٹن نوم مادمونی، سٹاف سارجنٹ 21 سالہ بن کوہن اور سٹاف سارجنٹ 22 سالہ میکسم اینٹس جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی انتظامیہ کے مطابق دو افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک فوجی کو ’شدید زخمی حالت جبکہ دوسرے کو قدرِ کم زخم آئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے مزید کہا کہ اسی واقعے میں ایک اور فوجی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔ جنوبی لبنان میں یہ جھڑپیں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے سرحدی علاقوں میں راکٹ فائر کیے، جبکہ اسرائیل نے جوابی فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔
گذشتہ چند ہفتوں میں دونوں جانب سے چھوٹے اور بڑے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے علاقے میں امن کی صورت حال غیر مستحکم ہو گئی ہے۔
معروف چاکلیٹ برانڈ کٹ کیٹ کی 12 ٹن چاکلیٹس سے بھرا ٹرک چوری ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی کمپنی نیسلے کی ملکیت کٹ کیٹ کی تقریباً 4 لاکھ 13 ہزار سے زائد چاکلیٹ بارز اٹلی سے پولینڈ منتقل کی جا رہی تھیں کہ راستے میں نامعلوم افراد ٹرک سمیت سامان لے اڑے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نہ صرف ٹرک بلکہ مکمل کارگو تاحال لاپتہ ہے جبکہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
نیسلے کے مطابق چوری ہونے والی چاکلیٹس مختلف یورپی ممالک میں سپلائی کے لیے بھیجی جا رہی تھیں اور خدشہ ہے کہ یہ غیر قانونی مارکیٹ میں فروخت کی جا سکتی ہیں۔
کمپنی نے بتایا کہ ہر چاکلیٹ پر مخصوص بیچ کوڈ موجود ہے جس کے ذریعے انہیں ٹریس کیا جا سکتا ہے جبکہ صارفین کو مشکوک مصنوعات کی اطلاع دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
نیسلے نے اس واقعے کو یورپ میں بڑھتی ہوئی کارگو چوری کی وارداتوں کا حصہ قرار دیا ہے، تاہم کمپنی کے مطابق اس سے صارفین کے لیے کسی قسم کا حفاظتی خطرہ نہیں۔
وائٹ ہاؤس کی حالیہ پریس بریفنگ کے دوران ایسا اشارہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک سے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ سے پیر کے روز پریس بریفنگ کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا عرب ممالک کو جنگ کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں جیسا کہ سنہ 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران امریکہ کے اتحادیوں نے واشنگٹن کی مداخلت کے لیے مالی معاونت کی تھی۔‘
لیویٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے لیے صدر انھیں کہنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس معاملے میں ان سے آگے نہیں بڑھوں گی، لیکن یقیناً یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے بارے میں مُجھے علم ہے کہ اُن (امریکی صدر) کے ذہن میں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ اس بارے میں ان کی طرف سے مزید سنیں گے۔‘
ساتھ ہی امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔
کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔
لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران United Arab Emirates اور Bahrain نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کیے ہیں، جس سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک نے ایران کی جانب سے داغے گئے 11 میزائل اور 27 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک یو اے ای کی دفاعی افواج مجموعی طور پر 1941 ڈرونز اور 440 میزائلوں کو ناکارہ بنا چکی ہیں۔
سرکاری بیان میں مزید بتایا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 178 افراد زخمی جبکہ آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم فوری دفاعی کارروائیوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
دوسری جانب بحرین کی دفاعی فورس نے بھی اسی نوعیت کے دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں آٹھ میزائل اور سات ڈرونز کو تباہ کیا۔ بحرینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک وہ مجموعی طور پر 182 میزائل اور 398 ڈرونز کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بڑے تنازع کا حصہ ہے جو Iran اور Israel کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ United States کی خطے میں موجودگی بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران ان ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکی افواج یا ان کے اڈے موجود ہیں، جس کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں براہِ راست اس تنازع کے اثرات کا سامنا کر رہی ہیں










