تین دن میں ایک کنواں بھی نہیں پھٹا،امریکی ناکہ بندی پر دوٹوک مؤقف،تیل مہنگا ہونے کی وارننگ
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر طنز کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔
26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اقدامات اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے پاس اب تیل کی ترسیل کے لیے ’کوئی جہاز باقی نہیں رہا‘ اور اس صورتحال کے نتیجے میں ایران کی تیل پائپ لائنیں ’پھٹ سکتی ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں۔
یہی دعویٰ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی طرف سے 28 اپریل کو سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور ’جلد ہی کنویں سے تیل نکالنے کا عمل رُک جائے گا۔‘
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘
انھی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے باقر قالیباف نے ایکس پوسٹ میں لکھا: ’تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا۔‘
ایرانی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مدت کو مزید 30 دن بڑھا کر کنویں کی صورتحال براہ راست نشر بھی کر سکتے ہیں۔‘
ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی کارروائی کرے گا جو یاد رکھی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور سمندری قزاقی کے مترادف ہیں۔
ایرانی حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا عالمی تجارت میں مداخلت کر رہا ہے اور ایرانی املاک پر غیر قانونی قبضہ کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف ایران کو بھرپور جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!