نیتن یاہو منظرعام پر، پریس کانفرنس میں اہم انکشاف
وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے تو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں، اور آپ کے سامنے ہوں،۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کے مطابق ’ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل اور ڈرونز کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ان صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق حملوں کا ہدف وہ فیکٹریاں ہیں جو میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے لیے پرزے تیار کرتی ہیں۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ان کے مطابق ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات پہلے جاری تھے مگر ناکام ہو گئے، جس کے بعد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے۔ اس دوران ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک پر میزائل داغے اور آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی نقل و حرکت محدود کی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی عوام کو خود کرنا ہوگا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!