امریکہ کا بڑا یوٹرن : ایران پر وار 10 دن کیلئے مؤخر

, ,

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور غیر متوقع مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے ماہرین خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان نہایت اہم اور مثبت نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں، جن کے نتیجے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت سے قبل ایران نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی جزوی بحالی کی اجازت دی۔ اس اقدام کو امریکا کے لیے ایک مثبت اشارہ اور “اعتماد سازی” کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی پیش رفت امریکی فیصلے کی بنیاد بنی، جس کے نتیجے میں حملوں میں عارضی مہلت دی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے نرمی اور امریکا کی طرف سے مہلت دینا ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
تاہم، اس تمام صورتحال کے باوجود خطے میں غیر یقینی برقرار ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو یہ کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ دوسری جانب عالمی برادری اس پیش رفت کو بغور دیکھ رہی ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات کا شکار ہے، اور کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ اب سب کی نظریں آنے والے دنوں پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ 10 دن کی مہلت کسی مستقل حل کی طرف لے جاتی ہے یا محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *