ٹرمپ کا قوم سے خطاب، جنگ جاری رکھنے کا اعلان، تیل مہنگا، عالمی مندی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
امریکی عوام سے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ان کے بقول آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔
صدرکےخطاب میں ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر برطانوی معیار کا خام تیل برینٹ تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 105.55 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 3 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے جہاں سرمایہ کاروں نے حالیہ عالمی حالات اور ٹرمپ کے خطاب کے بعد محتاط رویہ اختیار کر لیا۔
جاپان کی نکی 225 میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کوسپی 2.6 فیصد نیچے آ گئی۔ اسی طرح ہانک کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!