عالمی گزرگاہ خطرے میں، ہرمز کی کلیئرنس میں نصف سال لگنے کا امکان

امریکی محکمہ جنگ پنٹاگون کی جانب سے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایسی کوئی کارروائی ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے تک شروع نہیں کی جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ اس تنازع کے معاشی اثرات رواں سال کے آخر یا اس کے بعد تک جاری رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرن نے مذاکرات کو امریکی ناکہ بندی سے مشروط کر دیا ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔
پاکستان میں ایرانی سفیررضا امیری سے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا ایران مذاکرات میں بھرپور شرکت کرے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ ایران مذاکرات یا جنگ بندی کے لیے وقت کی کوئی پابندی نہیں، صدر ٹرمپ ایران کو ایک متفقہ تجویز لانے کے لیے چند دن کا وقت دے رہے ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *