چینی آئل سیکٹر نشانے پر، امریکا کی نئی پابندیاں
امریکا نے ایران کے تیل کی برآمدات روکنے کے لیے چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یہ قدم ان دھمکیوں پر اُٹھایا جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور کمپنیوں پر بھی ثانوی پابندیاں لگائی جائیں گی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ چینی کمپنیوں پر پابندی ایران کی سب سے بڑی آمدنی یعنی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کی مہم کا حصہ ہے تاکہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکا اس ماہ پہلے ہی آبنائے ہرمز پرعملی ناکہ بندی کرچکا ہے جو عالمی توانائی کی ترسیل کی نہایت اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔
نئی پابندیاں اس لیے بھی حیران کن ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اور چین کے صدر شی جنپنگ کے درمیان بیجنگ میں ملاقات متوقع ہے۔
اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور جغرافیائی سیاسی معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے نہ صرف ایران بلکہ چین اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ پابندی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں پکڑے جانے والے ایرانی جہاز سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ اس میں سے چین کا بھیجا گیا ایک تحفہ ملا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ پکڑے گئے جہاز کے چین سے تعلق پر حیرت ہوئی کیونکہ میرے صدر شی جنپنگ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ ہم دونوں میں کئی باتوں پر اتفاق ہے۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!