خواتین میں ذیابیطس کیوں زیادہ خطرناک ہوتی ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

خواتین میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، تاہم اصل فکر صرف اس بیماری کی تعداد نہیں بلکہ اس کے سنگین اثرات ہیں، جو مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ شدت اختیار کرلیتے ہیں۔نئی طبی رپورٹس کے مطابق اگرچہ دنیا بھر میں مردوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے، لیکن جب یہی بیماری خواتین کو لاحق ہوتی ہے تو اس کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔تحقیقی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ خواتین میں ذیابیطس دل کی بیماری، گردوں کے مسائل، ڈپریشن اور ہارمونل بے ترتیبی جیسے پیچیدہ مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مردوں میں ذیابیطس ہونے کی صورت میں دل کے دورے کا خطرہ تقریباً 50 فیصد بڑھ جاتا ہے، جبکہ خواتین میں یہی خطرہ 150 فیصد تک جا پہنچتا ہے، جو ایک تشویشناک فرق ہے۔ماہرین اس فرق کی ایک بڑی وجہ خواتین کے جسم میں ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں۔ بلوغت، ماہواری، حمل اور مینوپاز جیسے مراحل کے دوران ہارمونز میں اتار چڑھاؤ خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے عمل کو متاثر کرتا ہے، جس کے باعث خواتین میٹابولک مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتی ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *