عالمی کشیدگی کا براہِ راست اثر، پنجاب میں روٹی کی قیمت بڑھنے کا خدشہ
پاکستان میں خلیج کی جنگ کے اثرات مختلف طریقوں سے روز مرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سب سے زیادہ نظر آںے والے اثرات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی شکل میں نمودار ہوئے جس سے نمٹنے کے لیے شام آٹھ بجے سے لاک ڈاون کی شکل میں ’حکومتی مینیجمنٹ‘ نظر آتی ہے۔
دو مہینوں سے جاری اس جنگی صورت کے اثرات اشیائے خورونوش پر مگر اس طرح سے ابھی تک نظر نہیں آ رہے۔
کھانے پینے کی اشیا خصوصا سبزیوں ، دالوں اور گوشت کے ریٹس میں نمایاں اضافہ ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ روٹی اور دودھ کے حوالے سے ایسوسی ایشنز حکومت پر دباو بڑھا رہی ہیں کہ اب قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی نان بائیوں کی تنظیم نے روٹی کی قیمت بڑھانے کے لیے حکومت سے مدد مانگی تو انہیں بتایا گیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
محمد رزاق جو اس تنظیم کے رکن ہیں انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت ایل پی جی گیس بلیک میں مل رہی ہے۔ تندور چلانے مشکل ہو گئے ہیں۔ ہم نے متعدد دفعہ حکومت کو کہا کہ ہم پلے سے روٹ عوام کو نہیں کھلا سکتے۔‘
ان کے مطابق ’بدھ کو جو ہماری میٹنگ ہوئی ہے اس میں حکومت نے کہا ہے کہ روٹی کی قیمت نہیں بڑھا سکتے لیکن خمیری اور نان کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں تو یہ ایک طرح سے ہمیں ریلیف ملا ہے۔
خیال رہے وزیر اعلی مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی صوبے میں روٹی کی قیمت کو 14 روپے مقرر کیا تھا اور کسی بھی طرح سے حکومت اس قیمت کو بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پنجاب کے پرائس کنٹرول محکمے کی سربراہ سلمہ بٹ کے مطابق ’میں اب تک نان بائی ایسوسی ایشن سے بیس میٹنگز کر چکی ہوں اور ہم نے انہیں واضع کیا ہے کہ روٹی کے معاملے پر وزیر اعلی کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں ہیں تو اس کا کوئی درمیانہ راستہ نکالتے ہیں تو پھر انہیں نان کلچے اور دیگر مصنوعات میں اضافے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ وہ پھر بھی چوائس میں آتا ہے جبکہ روٹی بنیادی ضرورت ہے۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!