انسانی جانوں کے محافظ، خطرے میں جان ڈالنے والوں کو سلام

ہر سال 4 مئی کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل فائر فائٹرز ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ان بہادر مردوں اور خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دوسروں کی زندگیاں بچاتے ہیں۔
یہ دن نہ صرف شہید فائر فائٹرز کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے بلکہ موجودہ فائر فائٹرز کی خدمات کو سراہنے کا عالمی پیغام بھی ہے۔
یہ دن 1999 میں آسٹریلیا میں جنگلاتی آگ کے دوران پانچ فائر فائٹرز کی المناک شہادت کے بعد متعارف کروایا گیا۔ 4 مئی کا انتخاب سینٹ فلورین کے دن کی مناسبت سے کیا گیا، جو فائر فائٹرز کے سرپرست بزرگ مانے جاتے ہیں۔ اس دن سرخ اور نیلے ربن پہن کر آگ اور پانی (فائر فائٹرز کے بنیادی عناصر) کی علامت کے طور پر اظہارِ یکجہتی کیا جاتا ہے۔
پاکستان، خصوصاً بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں آتشزدگی کے واقعات ایک مستقل مسئلہ بن چکے ہیں۔ ناقص بلڈنگ قوانین، غیر معیاری وائرنگ، حفاظتی اقدامات کی کمی اور ہنگامی اخراج کے ناقص انتظامات اکثر بڑے سانحات کو جنم دیتے ہیں۔
کراچی میں ماضی میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی، رہائشی عمارتوں میں آگ، صنعتی علاقوں کے حادثات اور مارکیٹوں میں لگنے والی تباہ کن آگ نے بارہا یہ ثابت کیا کہ پاکستان کو جدید فائر سیفٹی انفرااسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *