دودھ ہماری روزمرہ غذا کا اہم حصہ ہے اور صحت کے لیے بے حد ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں ملاوٹ کے بڑھتے رجحان نے اس بنیادی خوراک پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔پہلے جہاں دودھ میں صرف پانی ملانے کی شکایات ہوتی تھیں، اب اس میں مختلف کیمیکلز شامل کیے جا رہے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دودھ کو زیادہ گاڑھا، سفید اور کریمی دکھانے کے لیے اس میں ڈٹرجنٹ، اسٹارچ، یوریا اور یہاں تک کہ ڈالڈا گھی بھی شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم چند سادہ گھریلو طریقوں کی مدد سے یہ جاننا ممکن ہے کہ دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ۔اگر دودھ کا ذائقہ غیر معمولی محسوس ہو تو اس میں آدھا چمچ سویا بین یا دال کا پاؤڈر شامل کریں اور چند منٹ بعد سرخ لٹمس پیپر ڈالیں۔ اگر پیپر نیلا ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ دودھ میں یوریا شامل کیا گیا ہے

کھیرا عام طور پر ایک صحت بخش اور ہلکی غذا کے طور پر جانا جاتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں اسے اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔اس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سلاد، رائتہ، جوس اور اسموتھیز میں شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔ماہرین غذائیت کے مطابق کھیرے میں 95 فیصد سے زائد پانی کے ساتھ وٹامن کے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فائبر جیسے اہم اجزا موجود ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسم میں سوزش کم کرنے، تاہم جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ کچھ مخصوص طبی مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کھیرا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ماہر غذائیت کے مطابق کھیرے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جو بعض افراد میں بلغم بڑھا سکتی ہے۔ نزلہ، کھانسی، دمہ، سائنوس یا دیگر سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے اس کا استعمال مسائل کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر سرد موسم میں۔اگرچہ کھیرے میں موجود فائبر ہاضمے کے لیے مفید ہے، لیکن حساس معدہ رکھنے والے افراد کے لیے یہ مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اس میں موجود کیوکربیٹاسن نامی مرکب بعض لوگوں میں گیس، اپھارہ اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً وہ افراد جو آئی بی ایس یا دیگر معدے کے مسائل کا شکار ہوں۔ماہرین کے مطابق گٹھیا یا جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ کھیرے کی سرد تاثیر بعض کیسز میں سوزش اور درد کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ٹھنڈے موسم میں۔کھیرے میں قدرتی طور پر پیشاب آور خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس لیے پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا دیگر مسائل میں مبتلا افراد کے لیے اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو محدود مقدار میں استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔اگرچہ کھیرا عام طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے بیج بعض صورتوں میں شوگر لیول کو حد سے زیادہ کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر مریض انسولین یا دیگر ادویات استعمال کر رہا ہو۔ اس سے کمزوری، چکر اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ماہرین غذائیت رات کے وقت کھیرے کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کی زیادہ پانی والی ساخت رات میں بار بار واش روم جانے کی وجہ بن سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ٹھنڈی تاثیر بھی رات کے وقت جسم کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی۔ماہرین کے مطابق کھیرا بلاشبہ ایک مفید غذا ہے، لیکن ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔ اس لیے اپنی صحت اور جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔

آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں ناکہ بندی کے باعث اس وقت تقریباً 2 ہزار بحری جہاز مختلف مقامات پر رُکے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی بحری ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور گلف آف عمان کے اطراف 20 سے زائد جہازوں پر حملے رپورٹ ہوئے جن میں کم از کم 10 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان واقعات کے بعد بحری راستے کو محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ دیگر بحری جہازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
کئی جہازوں کو سوئز کینال کی طرف موڑا جا رہا ہے جبکہ کچھ کو طویل سفر اختیار کرتے ہوئے کیپ آف گُڈ ہوپ کے بحری راستے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کرنا پڑ رہی ہے جس سے لاگت اور وقت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو محدود قرار دیتا ہے تاہم ایرانی بحریہ کی چھوٹی آبدوزیں مڈگیٹ سب میرینز اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں جو اس اہم گزرگاہ کے استعمال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی اجازت سے صرف 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے جو کہ جنگ سے پہلے کے معمولات کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم ہے۔

ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کا تیار کردہ منصوبہ ایران اور امریکی قیادت کو پہنچا دیا گیا ہے۔رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ موصول ہو گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تیار کردہ فریم ورک تہران اور واشنگٹن کو پیش کیا گیا جس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی تجاویز شامل ہیں۔منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنے کا امکان ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔منصوبے کے مطابق 45 روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں حتمی مذاکرات متوقع ہیں جبکہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عوام موجودہ جعلی حکومت اور ریاستی اداروں سے نالاں ہیں۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عام آدمی کا سکون چھین لیا گیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ جے یو آئی اگلے جمعے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی جبکہ 12 اپریل کو مردان سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گھریلو تشدد سمیت کئی قوانین شریعت کے خلاف بنائے اور غیر اسلامی قوانین اسمبلی میں لائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت جعلی ہے اور پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑی ہے۔انہوں نے عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مغربی اور مشرقی سرحدیں بند ہیں، تجارت متاثر ہو رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان کیمرا بریفنگ میں بتانا چاہیے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، صوبائی حکومت آپریشنز کے معاملے پر متضاد پالیسی اپنا رہی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بھی ایوان میں پیش نہیں کی جا رہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام حکومت اور ریاستی اداروں سے نالاں ہیں اور یہ حکومت ایک دن کی مار ہے۔

ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو مشن کے دوران تباہ ہونے والے امریکی طیاروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں استعمال ہونے والے دو جدید ایم سی 130 جے ٹرانسپورٹ طیارے ایک متروک (استعمال سے باہر) ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد امریکی فوج کو انہیں خود ہی تباہ کرنا پڑا۔امریکی فضائیہ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے مطابق ان دونوں طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر (یعنی 10 کروڑ ڈالر) سے زائد ہے، جس کے باعث اس واقعے کو مالی لحاظ سے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن کے علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و حرکت، دراندازی (انفلٹریشن) اور انخلا جیسے حساس مشنز انجام دیتے ہیں۔ان میں جدید سینسرز اور دفاعی نظام نصب ہوتے ہیں جو انہیں خاص طور پر ہیٹ سیکنگ میزائلوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ یہ طیارے کم بلندی پر پرواز کرنے اور دشمن کی نظروں سے بچ کر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں دورانِ پرواز ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ خود بھی ہیلی کاپٹروں اور دیگر طیاروں کو ایندھن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ یہ طیارے جدید ڈیجیٹل ایویانکس، نیویگیشن سسٹم اور طاقتور ٹربو پراپ انجنز سے لیس ہوتے ہیں، جو انہیں مشکل ترین حالات میں بھی آپریشن جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ طیارے عموماً رات کے وقت مشنز انجام دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے بچا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق یہ طیارے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیے ہیں اور ان کی پرواز کی رینج تقریباً 3 ہزار میل ہے۔ ہر طیارے میں 5 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جن میں پائلٹس اور اسپیشل مشن کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔

پشاور سمیت صوبے بھر میں مار کیٹوں کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،پشاور سمیت ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بازار اور دکانیں رات 9 بجے بند ہوں گے جبکہ دیگر اضلاع میں تمام مارکیٹیں رات 8 بجے بند کی جائیں گی، ریسٹورنٹس اور کیفے رات 10 بجے بند ہوں گے تاہم ہوم ڈیلیوری جاری رہے گی، شادی ہالز اور ایونٹ ہالز کو بھی رات 10 بجے تک تقریبات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ،غیر ضروری لائٹس، فلوڈ لائٹس اور ڈیکوریشن لائٹنگ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہےبل بورڈز اور ایل ای ڈی اسکرینز دکانیں بند ہونے کے بعد بند رکھنا لازم قرار دیا گیا،اعلامیہ کے مطابق جنریٹرز کا استعمال غیر ضروری تجارتی سرگرمیوں کیلئے ممنوع قرار دیا گیا، تمام ڈپٹی کمشنرز کو فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت گئی ہےتاہم ہسپتال، فارمیسی، پٹرول پمپ اور تندور کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے نئے احکامات آج 6 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گے

تحقیق کے مطابق اس کا تعلق چاکلیٹ میں موجود مخصوص مرکبات سے ہے جو دماغی کارکردگی کو متحرک کرتے ہیں۔
’کرنٹ ریسرچ ان فوڈ سائنس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ میں پائے جانے والے ’فلیوینولز‘ نہ صرف اس کے کڑوے ذائقے کی وجہ بنتے ہیں بلکہ یہی مرکبات دماغ کو متحرک کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی فلیوینولز سے بھرپور غذاؤں کے فوائد سامنے آ چکے تھے، تاہم اس تحقیق میں یہ واضح کیا گیا کہ یہ عمل دراصل کیسے ہوتا ہے۔
تحقیقی تجربے کے دوران چوہوں کو ایک خاص عمل سکھانے سے پہلے فلیوینولز دیے گئے، جس کے نتیجے میں ان کی یادداشت میں تقریباً 30 فیصد بہتری دیکھی گئی۔ یہ اثر تقریباً ایک گھنٹے تک برقرار رہا، اس دوران دماغ کا وہ حصہ زیادہ فعال ہو گیا جو یادداشت سے تعلق رکھتا ہے اور جسے ہپوکیمپس کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فلیوینولز دماغ میں ایک ایسا سلسلہ متحرک کرتے ہیں جو اندرونی ’الارم سسٹم‘ کو فعال بنا دیتا ہے۔ اس عمل کے دوران دماغ کے ایک حصے ’لوکس کوریولیس‘ کو تحریک ملتی ہے، جس کے نتیجے میں نورایڈرینالین نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل توجہ بڑھانے اور معلومات کو بہتر انداز میں محفوظ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق تمام بازار اور کاروباری مراکز رات 8 بجے تک کھلیں گے، میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق تمام شادی ہالز اور باہرمنعقدہ شادی کی تقریبات بھی رات 10بجے تک ختم کی جائیں گی، جاری کردہ ہدایات کے مطابق 6 اپریل 2026 سے عملدرآمد ہوگا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پرعمل درآمد کا باضابطہ آغاز کردیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔
اعلامیے کے مطابق توانائی بچت کیلئے مارکیٹوں، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار تبدیل کردیے گئے، مارکیٹیں رات 8 بجے بند، دواخانے اور تندور مستثنیٰ ہوں گے۔ شادی ہالز اور تقریبات رات 10 بجے تک ختم کرنے کی ہدایت کردی گئی، ریسٹورنٹس اور ہوٹل رات 10 بجے بند ہوں گے
حکام کے مطابق عوامی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے نئے اوقات کار مقرر کیے گئے ہیں، تمام اضلاع کی انتظامیہ کو احکامات پرعملدرآمد کرانے کی ہدایت کردی۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت بھی توانائی کے وسائل پر دباؤ کم کرنے کے لیے بازار کے اوقات میں کمی سمیت اقتصادی کفایت شعاری اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ تجویز نافذ ہوئی تو مارکیٹیں معمول کے شیڈول سے پہلے بند کر دی جائیں گی۔
چند روز قبل ایک اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ اجلاس میں بازاروں کے اوقات میں کمی پر غور کیا گیا، جبکہ صرف شادی ہال اور ریستوران رات 10 بجے تک کھلے رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی دو مرحلوں پر مشتمل ہوگی، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کسی بڑے یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع تصور کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور بڑے پیمانے پر تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے