بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن کا کبیر باہیا کے ساتھ ڈیٹنگ کی افواہوں اور اپنی شادی سے متعلق ردعمل وائرل ہوگیا۔
اداکارہ کریتی سینن اور برطانیہ میں مقیم کاروباری شخصیت کبیر باہیا کے درمیان ڈیٹنگ کی افواہیں اس وقت خبروں کی زینت بنیں جب دونوں کو ایک ساتھ دیکھا گیا۔
دونوں سوشل میڈیا پر بھی ایک دوسرے کے لیے پوسٹس شیئر کرتے رہے ہیں۔
تاہم، حال ہی میں جب کبیر، کریتی کے ساتھ ان کی بہن کی شادی میں شریک ہوئے اور تصاویر شیئر کیں، تو ان افواہوں نے مزید زور پکڑ لیا۔
ایک حالیہ تقریب میں جب کریتی سے ان کی شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح ردعمل دیا۔
ایک انٹریو کے دوران میزبان نے شادی سے متعلق سوال کیا تو اداکارہ کا کہنا تھا کہ کیا آپ وہی چاچی جی ہیں جو پوچھتی ہیں کہ میں کب شادی کر رہی ہوں؟ زندگی میں شادی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ تب ہی شادی کریں گی جب انہیں خود مناسب وقت محسوس ہوگا اور مجھے نہیں لگتا کہ مجھے کوئی جلدی ہے۔
واضح رہے کہ 25 مارچ 2026 کو کریتی سینن نے پنک ولا اسکرین اینڈ اسٹائل آئیکنز ایوارڈز 2026 میں شرکت کی، جہاں انہوں نے سبز لباس میں سب کی توجہ حاصل کی اور بہترین اداکارہ (پاپولر چوائس) کا ایوارڈ جیتا۔
ایوارڈ جیتنے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ’ شکریہ پنک ولا کہ آپ نے مجھے ’تیرے عشق میں‘ کے لیے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا۔
آسٹریلیا نے چند ماہ پہلے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔
اس کے بعد سے دنیا کے مختلف ممالک میں اس طرح کی تجاویز سامنے آئی تھیں اور اب ایک یورپی ملک میں ایسا کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
آسٹریا کی جانب سے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی رسائی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آسٹرین حکومت کی جانب سے جاری بیان میں ایک نئے بل کا اعلان کیا گیا جسے جون 2026 کے آخر تک متعارف کرایا جائے گا۔
اس قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ اس قانون کا مقصد آن لائن 14 سال سے کم عمر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
اس بل میں اسکولوں میں میڈیا کے حوالے سے آگاہی کے مضمون کو متعارف کرانے کی شق بھی شامل کی جائے گی تاکہ بچے آن لائن گمراہ کن تفصیلات کو شناخت کرسکیں۔
آسٹرین حکومت کے مطابق یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر بچوں کو توہین آمیز رویے کا سامنا ہوتا ہے جبکہ دماغی صحت کے مسائل بھی عام ہو رہے ہیں۔
اس بیان میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ عمر کی تصدیق کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کی ٹیم ایک نئے تنازعے کی زد میں آ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس نے لاہور قلندرز کی ٹیم پر سیکیورٹی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کے مطابق ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور ایک غیر ملکی کھلاڑی سکندر رضا نے مبینہ طور پر ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے چار غیر مجاز افراد کو ہوٹل کے اس فلور تک پہنچایا جہاں ٹیم قیام پذیر تھی۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ایک کھلاڑی کے کمرے میں تقریباً تین گھنٹے تک موجود رہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے ٹیم کے لائژن افسر نے متعلقہ حکام سے ان افراد کو داخلے کی اجازت دینے کی درخواست کی، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اسے مسترد کر دیا گیا۔
بعد ازاں فرنچائز کی انتظامیہ کی جانب سے بھی اجازت لینے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی ناکام رہی۔
اس کے باوجود مبینہ طور پر کھلاڑیوں نے سیکیورٹی عملے کی مزاحمت کے باوجود مہمانوں کو اندر لے جانے میں کامیابی حاصل کی۔
پولیس نے اس عمل کو سیکیورٹی پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے پر لیگ حکام سے رابطہ جاری ہے اور جلد وضاحت پیش کی جائے گی۔
سکندر رضا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سکندر رضا نے کہا کہ شاہین نے کوئی من مانی نہیں کی، میں نے اس سے کہا تھا کہ میری فیملی آئی ہے، وہ میری درخواست پر انہیں لے کر آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میرا پی ایس ایل میں یہ پانچواں سال ہے، پہلے چار سالوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا، اب اگر پروٹوکول بنے ہیں تو اس سے میں اور شاہین لاعلم تھے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف پہلے سے باعزت بری ہونے والے مقدمے میں نیا چالان پیش کر دیا گیا۔
عدالت نے پہلے فیصلے کی بنیاد پر کیس کو داخل دفتر کر دیا۔
کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے کی جب کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکلا سردار مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران سردار مصروف خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عدالتی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کسی ملزم کو بری کیے جانے کے بعد اسی مقدمے میں دوبارہ چالان پیش کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی کچہری میں عدالت پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کو بری کر چکی ہے۔ اس پر جج شہزاد خان نے ہدایت دی کہ پہلے والا عدالتی حکم پیش کیا جائے تاکہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا سکے
بعد ازاں بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے بریت کا آرڈر عدالت میں پیش کیا، جس پر عدالت نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا اور نئے چالان والے کیس کو داخل دفتر کر دیا۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف آزادی مارچ کے سلسلے میں تھانہ ترنول میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گیس کی کمی کے باعث ملک میں سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ (اپریل) سے ملک بھر کے پاور پلانٹس کو صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی، جس کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مارچ میں ملنے والی 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور ایل این جی کی فراہمی بند ہو جائے گی۔ سی این جی سیکٹر کے لیے بھی گیس مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے۔
پاور سیکٹر کو 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی جائے گی اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گیس بھی ممکنہ طور پر بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی 1500 سے 1800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فیصد بجلی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ساہیوال اور جامشورو کے پلانٹس کوئلے کی قلت کا شکار ہیں ۔ کوئلے کا موجودہ ذخیرہ صرف 3 سے 7 دن کے لیے کافی ہے، جس کے باعث مزید 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایس ایس جی سی کو بھی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق 2 گیس فیلڈز میں ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس غیر متوقع قلت کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ غالب امکان ہے کہ ایران امریکا کا معاہدہ ہوجائے گا لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوسکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو ہم ایران میں اپنے ’’قیام‘‘ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ جزیرے (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے جنہیں ہم نے جان بوجھ کر اب تک نہیں چھیڑا۔امریکی صدر نے مزید لکھا کہ یہ کارروائی ہمارے ان متعدد فوجیوں اور دیگر افراد کے بدلے میں ہوگی جنہیں ایران نے سابقہ حکومت کے 47 سالہ ’’دورِ دہشت‘‘ میں قتل کیا اور ہلاک کیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس بجلی گھر کو تباہ کریں گے تاہم خدشہ ہے کہ جو بھی سب سے بڑا بجلی گھر ہے پہلے وہ تباہ کیا جائے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ 31 دن میں داخل ہوچکی ہے اور کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی قیادت نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں بھی شدت آ گئی ہے۔
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا بظاہر مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن پس پردہ زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ توانائی کے مراکز پر حملے بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال کو بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں حملے کیے، جن میں اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکےہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔
وسطی شہر اصفہان میں ایک یونیورسٹی پر بھی دوبارہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل بھی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اب تک سینکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ لبنان سے حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے، جس سے متعدد شہروں میں سائرن بج اٹھے۔
اسرائیل کے جنوبی صنعتی علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہاں ایک فیکٹری کو نقصان پہنچا جبکہ بعض علاقوں میں لوگ زخمی ہوئے۔ شمالی شہر حیفہ میں بھی میزائلوں کے ملبے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خلیجی ممالک میں بھی خطرے کی صورتحال برقرار ہے، جہاں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت اور بحرین میں سائرن بجائے گئے۔
اسی دوران پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں اہم اجلاس کیا، جس میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، جس میں اب یمن کے حوثی گروپ بھی شامل ہو چکے ہیں، اور اس صورتحال سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑا اقدام کرتے ہوئے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات ایک مکمل فوجی بٹالین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات عالمی سطح پر سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی۔ اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا۔
صحافیوں کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا۔ بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی اور کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے بٹالین کی معطلی کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جنگ کے جواز کے لیے مذہب کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں ناقابل قبول ہیں۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جو لوگ جنگ کو مذہب کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، وہ درحقیقت انسانیت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا نہیں سنتا‘، اور مذہب کو تشدد یا تباہی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی، اور کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور امن میں ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران سے متعلق جاری جنگ میں شامل مختلف فریقین کے بعض رہنما اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کا بیان ایک اہم اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذہب کو جنگ اور تصادم کے لیے استعمال کرنے کے بجائے امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔










