لاہور سمیت صوبہ بھر میں بھینسوں کے گوبر پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،فی بھینس 30روپے روزانہ گوبر ٹیکس وصولی کی جائے گی، ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت گوبر سے بائیو گیس تیار کی جائے گی۔روزنامہ دنیا کے مطابق لاہور سمیت صوبہ بھر کی 168 گوالہ کالونیز سے ٹیکس وصولی کی جائے گی ،گوالہ کالونیز میں موجود بھینسوں کے فضلے کی صفائی اور کولیکشن پر فیس وصولی کی جائے گی ،گوالہ کالونیز میں50لاکھ بھینسیں موجود ہیں ،ابتدائی طور پر لاہور کی دو گوالہ کالونیوں پر ٹیکس وصولی کا فارمولہ طے کیا گیا ہے ، ہربنس پورہ اور گجر پورہ گوالہ کالونیوں پر فی بھینس گوبر فیس وصولی کی جائے گی، گوالوں نے گوبر ٹیکس دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے ،وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ گوالہ کالونیوں سے گوبر کولیکشن کی مد میں فیس وصولی کی جائے گی۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔وزیرپیٹرولیم اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے عالمی بحران اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔وزیرپیٹرولیم نے بتایا کہ آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عالمی منڈیوں کی صورت حال کے پیش نظر سبسڈی صرف مخصوص طبقے کو دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگلے ایک ہفتے کیلیے پیٹرول کی قیمت اضافے کے بعد 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت اضافے کے بعد 520 روپے 35 پیسے مقرر کی ہے۔وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے، اس وقت قوم کو اتحاد اور نظم و ضبط کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے نکلنے کیلیے مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے جارہی ہے، مہنگائی کے طوفان کو برپا کرنے میں حکومت کا کردار نہیں البتہ دو سال میں کابینہ نے معاشی استحکام اور جامع پائیداری کیلیے جو اقدامات کیے وہ سفر عالمی صورت حال کی وجہ سے رُک گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خارجہ محاذ پر اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل کی کاوشوں کے ساتھ اس آگ کو بجھانے کی بھرپور کوشش کرنی ہے تاکہ پرانے راستے کی طرف جاسکیں۔علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان دبئی اور عمان سے 90 فیصد تیل حاصل کرتا ہے وہاں کی منڈیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل تاریخ کی بلند ترین سطح 250 ڈالر فی بیرل سے زائد قیمت پر پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ تنخواہوں کی کٹوتی، دیگر اقدامات سمیت ترقیاتی فنڈز کو روکا تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور عام آدمی مہنگائی سے بچ سکے، یکم مارچ سے آج تک حکومت 129 ارب روپے عوام پر خرچ کرچکی ہے۔وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ بہت سے ممالک امیر اور اُن کے پاس ذخائر ہیں مگر وہاں توانائی کی ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ پمپس پر پولیس یا مسلح افواج موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام کی تکلیف کا احساس ہے مگر عالمی معاہدوں اور معاشی صورت حال کی وجہ سے پیسے بڑھانا ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اہم بیٹھک ہوئی جس میں وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت موجود تھی اور اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل میں عالمی منڈیوں کے ریٹ پر سب کو مزید ریلیف نہیں دیا جاسکتا ورنہ پاکستان پرانے راستے پر چل پڑے گا مگر عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اب صرف مخصوص صارفین کو ریلیف دینا ہوگا۔وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے موٹرسائیکل والوں کیلیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی مقرر کی ہے اور ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول سبسڈی پر دیا جائے گا جبکہ اس کا اطلاق تین ماہ کیلیے ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ چھوٹے ذمینداروں کیلیے فصل کی کٹائی کے وقت 1500 روپے ایک بار سبسڈی دی جائے گی جبکہ انٹر سٹی مسافر گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کیلیے 100 روپے فی لیٹر، مال بردار ٹرک کیلیے ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑی مال بردار گاڑیوں کیلیے 80 ہزار روپے، مسافر بسوں کیلیے ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت ایک ماہ بعد سبسڈی کے حوالے سے پھر نظر ثانی کرے گی، ریلوے کو بھی سبسڈی دی جائے گی جس کا فائدہ لوئر کلاس کے مسافروں کو ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مارکیٹیں دن کے اوقات میں کھلیں گی تاکہ بجلی کی کھپت اور ایندھن کو بچایا جائے، مارکیٹ کے اوقات صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر کے اگلے ہفتے تک طے کرلیے جائیں گے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز توہین آمیز فحش مواد سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔قومی اسمبلی میں این سی سی آئی اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ٹک ٹاک پر توہین آمیز فحش مواد کی روک تھام کیلئے اقدامات جاری ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال سائبر ہراسگی پر545، نفرت انگیز تقریروں پر 322، جعلی معلومات دینے پر 187،بچوں سے زیادتی پر 58 مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 360 خواتین 110مرد سائبر ہراسمنٹ کا شکار ہوئیں جبکہ نفرت انگیز تقاریر پر 42 خواتین،273مرد متاثر ہوئے، اسی کے ساتھ غلط معلومات کی فراہمی سے 21 خواتی ن180 مرد متاثر ہوئے۔این سی سی آئی اے نے رپورٹ میں بتایا کہ توہین آمیز مواد پر 600 سے زائد یو آر ایلز بلاک کیے گئے جبکہ 435 شکایات درج کی گئی جن میں سے 98 کی انکوائریز اور 42 مقدمات درج ہوئے جبکہ توہین آمیز فحش مواد پر 73 افراد کو گرفتار کیا گیا، عدالتوں میں 3 افراد کو سزائیں دی۔پی ٹی اے نے بتایا کہ ایک سال کے دوران 15 لاکھ غیر قانونی یو آر ایلز کے خلاف کاروائی کی، 65 لاکھ فحش مواد کی ڈومینز کوڈبلیو ایم ایس کے ذریعے بلاک کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس کو مکمل بلاک کرنے کے لیے ڈبلیو ایم ایس سسٹم فعال کردیا گیا ہے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے پاکستان کا مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے اور ہر شہری تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورکا اجلاس منعقد ہوا۔اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے ذمے مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے جس میں مقامی قرضے کی مالیت 55 ہزار ارب روپے سے زائد ہے جب کہ بیرونی قرضوں کا حجم 26 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔حکام نے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ مالی خسارہ ہے، مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے، روپے کی قدر گرنے سے بھی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے۔کمیٹی نے معاشی پالیسیوں کا ذمہ دار پارلیمنٹ کو قرار دینے پر تحفظات کا اظہار کیا، چیئرمین کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک پارلیمنٹ سے بل پاس کراکر ملک کی دھجیاں اڑا رہا ہے، اگلے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 300 ارب روپے کا قرضہ لیا، قرضہ استعمال نہیں ہوا مگر صوبائی حکومت سود ادا کررہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی جانب سے کامیاب سفارت کاری کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی گئی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسلم امت کا اتحاد ضروری ہے۔ 4 وزرائے خارجہ نے ایران امریکہ کے اسلام آباد میں مذاکرات کی سپورٹ کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رہی۔ پاکستان ،سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں بیٹھک ہوئی۔ 4 فریقی اجلاس کا یہ دوسرا دور تھا۔ اس سے قبل ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اسحاق ڈار کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کی تھیں۔ترجمان کے مطابق ان وزرائے خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ اسحاق ڈار نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اس اقدام کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر دورہ چین کیا۔ پاکستان اور چین نے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے 5 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں ہورہی ہے۔ پاکستان نے اپنا وفد چین کے شہر ارومچی بھیجا ہے۔ وفد بھیجنے کا مقصد ہے کہ افغانستان کے اندر سے دہشتگردی بند کی جائے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستانی وفد ابھی چین میں بات چیت کے لیے موجود ہے، واپس نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا۔ ہم افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی انگیج ہیں۔میڈیا بریفنگ میں طاہر انداربی کا کہنا تھا کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان سے فیک نیوز کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی وزرات خارجہ کے ترجمان سے منسوب بیان کو بھی غلط پیش کیا گیا ہے۔ بعد میں ایرانی وزارت خارجہ سے وضاحت جاری ہوئی۔ ان فیک نیوز والوں اور جھوٹ بولنے والوں سے ہوشیار رہیں

وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کردیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے شرکت کی، وزیراعظم آزاد کشمیر بھی اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے ممکنہ بحران پر غور کیا گیا جب کہ اجلاس میں حکومت کے کفایت شعاری اقدامات اور توانائی کی بچت سے متعلق مجوزہ اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم معاملات زیر غور آئے جب کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی نے نو اپریل کو راولپنڈی میں جلسہ کرنے کا اعلان کردیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل ہم انتظامیہ کو جلسہ کرنے کے لیے این او سی دیں گے، اگر این او سی نہ ملا جو نو اپریل کو ہر فرد اپنی اپنی جگہ جلسہ کرے گا۔خیبر پختون خواہ ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ان کی تین سے چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں انہوں نے اپنا اور عوام کا مقدمہ پیش کیا، تاہم ان کے مطابق وفاقی حکومت انہیں ان کا حق نہیں دے رہی اور این ایف سی ایوارڈ میں بھی صوبے کا حصہ غیر آئینی طور پر 2018 سے اب تک تقسیم کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد خیبرپختونخوا کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا لیکن حکومت عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت اب تک پندرہ ارب روپے اپنے وسائل سے خرچ کر چکی ہے۔انہوں نے موقف اپنایا کہ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے باوجود وفاق نے ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا اور صوبائی بجٹ میں بھی کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کی آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے، جبکہ انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سے بھی اختلاف کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے ہمیشہ آئینی و قانونی راستہ اپنایا مگر انہیں سمگلر اور دہشت گرد کہا گیا، حالانکہ وہ شہداء کے جنازوں میں شریک ہوئے اور سوال اٹھایا کہ ان کے شہداء کے لیے کون آیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ججز پر فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دوہرا رویہ اپنایا جا رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ ہوگا جس کے لیے این او سی جمع کرایا جائے گا اور اگر اجازت نہ ملی تو جہاں روکا گیا وہیں احتجاج کیا جائے گا۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد کی حمایت کرتا ہے، لیکن اب یہ واضح نہیں کہ مزید کیا اقدامات درکار ہیں یا اس عمل کا حتمی نتیجہ کیا ہونا چاہیے۔
ان کے یہ بیانات نیشنل پریس کلب میں خطاب کے دوران آئے، یہ وہی وقت تھا کے جب امریکی صدر ٹرمپ قوم سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعظم سے ٹرمپ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے دیے گئے وقت کے تعین کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس پر انھوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا سے اس کے آغاز سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم تناؤ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس بات پر زیادہ وضاحت ہو کہ یہ معاملہ کیسے ختم ہوگا۔‘
ہ بیانات البانیز کے تقریباً 24 گھنٹے قبل کی گئی مختصر تقریر کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انھوں نے آسٹریلوی عوام کو خبردار کیا تھا کہ ’آنے والے مہینے آسان نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’آسٹریلیا اس جنگ کا فعال فریق نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود تمام آسٹریلوی اس کے باعث زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔‘

یونان کے شہر کریٹ کے بعد ریت کا سُرخ طوفان اب مشرقی بحیرۂ روم اور شمالی افریقہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کریٹ پہلے ہی اس سُرخ طوفان کی زد میں آ چکا ہے اوراب یہ طوفان بڑھتے ہوئے مصرف اور لیبیا کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس طوفان کو عام طور پر صحارن ڈسٹ اسٹارم کہا جاتا ہے۔ یہ صحارا کے ریگستان سے اٹھنے والی سرخ مٹی ہوتی ہے جو تیز ہواؤں کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر تک سفر کرتی ہے۔اس کے ممکنہ اثرات میں فضائی آلودگی میں شدید اضافہ، سانس کے مسائل خاص طور پر دمہ کے مریضوں کیلئے اور نظر کی کمی شامل ہے۔اس طوفان کی غیرمعمولی بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں آسمان کا رنگ سرخی مائل نارنجی ہو جاتا ہے۔واضح رہے کہ ایسے طوفان وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے جس سے وہ یورپ تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائل حملوں کی تازہ لہر کے نتیجے میں تل ابیب سمیت متعدد شہروں میں دھماکوں اور نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایک میزائل نے بنی براک کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ شمالی علاقے گالیلی میں بھی دو راکٹ گرے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، رامت گان اور بنی براک میں میزائلوں کے ملبے گرنے سے متعدد مقامات پر نقصان ہوا، جبکہ صرف تل ابیب میں 11 مختلف جگہوں پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بنی براک کے مشرقی علاقے میں کم از کم 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
حملوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔