صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے۔ مگر امریکی حکام کی جانب سے متعدد بریفنگز بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مبینہ طور پر زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ صدر جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز پر غور کر رہے ہیں۔
گذشتہ رات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اور اس کے جوان امریکی فوجیوں کے ’انتظار میں ہیں۔‘

صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اہم وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، ساتھ ہی خلیجی ممالک پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکا کو چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس پر اعتماد میں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں موجود پٹرولیم ذخائر اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
شرکا کو ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر ہنگامی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیورز کو سبسڈی دینے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔

کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک سے متصل سپر اسٹور میں لگی آگ پر 9 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ سپراسٹور کے بیسمنٹ میں لگی ہوئی ہے، اور بیسٹمنٹ میں سپر اسٹور کا گودام ہے۔
حکام کا کہنا ہے عمارت میں آگ کو پھیلنے سے روک دیا گیا ہے، بیسمنٹ میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 15 گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بظاہر مذاکرات کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خلیجی ریاست کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے میں ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی کارکن ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ مختلف خلیجی ممالک نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کے جواب میں ایرانی افواج نے جنوبی اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگنے اور کیمیائی اخراج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر اسرائیل نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں تمام ممالک نے جنگ میں کمی لانے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی کرکٹر نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اظہارِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے،پرامن تنقید جمہوریت کا ستون ہے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے مزید کہا کہ پی سی بی کو اس معاملے میں مکمل طور پر نیوٹرل رہنا چاہیے۔نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی کارروائی ایک خطرناک حد سے تجاوز کی نمائندگی کرتی ہے جو جمہوریت کے ایک بنیادی ستون کو نقصان پہنچاتی ہے، پر امن تنقید پر کسی کو سزا دینا خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔جاری بیان کے مطابق پبلک آفس کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں، عوامی عہدہ رکھنے والے کسی فرد کو خواہ اس کا قد کچھ بھی ہو عوامی جانچ کا سامنا کرنے کی ذمہ داری سے بری نہیں ہونا چاہیے۔این ڈی سی نے مطالبہ کیا کہ کرکٹر نسیم شاہ کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے،کرکٹ بورڈ ایک قومی ادارہ ہے جو کروڑوں پاکستانیوں کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسے ایک غیر جانبدار ادارہ رہنا چاہیے۔این ڈی سے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سرکاری اداروں سے مزید مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کریں جو آزادی اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سینٹرل کانٹریکٹ اور میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کیا تھا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں، غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور دفاتر و کام کی جگہوں پر ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کے لیے مناسب مقدار موجود ہے اور حالیہ صورتحال میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔وزیراعظم کے مطابق تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 125 ارب روپے مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے فراہم کیے تاکہ عالمی کشیدگی کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں موٹر سائیکلوں اور رکشہ مالکان کو رجسٹریشن اپنے نام پر کروانے کے لیے سہولیات فراہم کریں۔ اس اقدام سے ملک بھر کے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کا ڈیٹا ڈیجیٹائز ہوگا اور مالکان مستقبل میں حکومتی ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد اور سپلائی چین کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے جبکہ اپریل کے لیے پیٹرول کی درآمد کا انتظام بھی مکمل ہے۔

گھروں میں روزمرہ کھانا پکانے کے لیے کوکنگ آئل کا استعمال معمول کی بات ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کی زیادتی صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ تیل کھانے کا ذائقہ اور خوشبو بہتر بناتا ہے اور پکانے کے عمل کو آسان کرتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہارٹ اٹیک اور دیگر قلبی مسائل میں اضافے نے بھی اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی مناسب مقدار ہر فرد کے وزن، عمر اور طرزِ زندگی پر منحصر ہوتی ہے، تاہم عمومی طور پر ایک صحت مند شخص کے لیے روزانہ تقریباً دو کھانے کے چمچ، یعنی 25 سے 30 ملی لیٹر تیل کافی سمجھا جاتا ہے۔ہفتہ وار بنیاد پر یہ مقدار 150 سے 170 ملی لیٹر کے درمیان ہونی چاہیے۔ یہ حد صرف کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے تیل کے لیے ہے، جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور پراسیسڈ فوڈ اس میں شامل نہیں ہوتے۔زیادہ تیل کے استعمال سے جسم میں خراب کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے، جو شریانوں کی بندش، دل کے دورے اور فالج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپا، پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اور ایک بار چربی جمع ہو جائے تو اسے کم کرنا آسان نہیں رہتا۔ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایک ہی قسم کے تیل پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف صحت بخش تیلوں کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے۔ زیتون، سرسوں، مونگ پھلی، سورج مکھی اور سویا بین کے تیل نسبتاً بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں دل کے لیے مفید چکنائیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ کولڈ پریسڈ آئل کے استعمال کو ترجیح دینے اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور تیل سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔

ایران کے شمال مغربی شہر تبریز میں ایک اہم پیٹروکیمیکل پلانٹ پر مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فوری طور پر ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے سمیت صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے باوجود کسی خطرناک یا زہریلے مادے کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی، جس سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقصان کا خدشہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔ تاہم علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے واقعے کی نوعیت اور اس کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ حملے کے ممکنہ اثرات اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر نو کنگز کے عنوان سے احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئیں، جن میں میڈیا رپورٹس کے مطابق 70 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جبکہ منتظمین کے مطابق ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ریاست مینی سوٹا میں ہونے والی بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ امریکی عوام سے ایران جنگ کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس جنگ کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں پر امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے مگر اس کے برعکس انہوں نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ایران جنگ غیر آئینی ہے کیونکہ اس کے لیے کانگریس سے اجازت نہیں لی گئی، جبکہ اس تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی شہری جاں بحق ہوئے اور سیکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔سینیٹر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر خطے میں جنگ کو ہوا دی۔ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے باعث لبنان، مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں بھی انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد نے اینڈ دا وار اور نو کنگز کے نعرے لگائے، جبکہ کچھ مقامات پر اسرائیلی حکومت کے خلاف بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بزرگ افراد نے شرکت کی اور ایران جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز بھی امریکا کی مختلف ریاستوں میں مزید 3200 احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں اور منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک ثابت ہو سکتے ہیں۔

میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں دیے گئے ریمارکس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق میامی میں منعقدہ سعودی انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ولی عہد کے حوالے سے سخت اور نازیبا انداز میں گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کو ابتدا میں یہ اندازہ نہیں تھا کہ انہیں ان کی تعریف کرنی پڑے گی، اور وہ انہیں سابق امریکی صدور کی طرح کمزور قیادت سمجھتے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اب سعودی ولی عہد کو ان کے ساتھ احترام سے بات کرنا پڑتی ہے اور انہیں ایسا کرنا ہی ہوگا۔ ان کے اس بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے بیانات امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ٹرمپ کے ان ریمارکس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے