امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑا اقدام کرتے ہوئے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات ایک مکمل فوجی بٹالین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات عالمی سطح پر سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی۔ اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا۔
صحافیوں کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا۔ بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی اور کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے بٹالین کی معطلی کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جنگ کے جواز کے لیے مذہب کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں ناقابل قبول ہیں۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جو لوگ جنگ کو مذہب کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، وہ درحقیقت انسانیت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا نہیں سنتا‘، اور مذہب کو تشدد یا تباہی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی، اور کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور امن میں ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران سے متعلق جاری جنگ میں شامل مختلف فریقین کے بعض رہنما اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کا بیان ایک اہم اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذہب کو جنگ اور تصادم کے لیے استعمال کرنے کے بجائے امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے۔ مگر امریکی حکام کی جانب سے متعدد بریفنگز بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مبینہ طور پر زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ صدر جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز پر غور کر رہے ہیں۔
گذشتہ رات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اور اس کے جوان امریکی فوجیوں کے ’انتظار میں ہیں۔‘
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اہم وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، ساتھ ہی خلیجی ممالک پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکا کو چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس پر اعتماد میں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں موجود پٹرولیم ذخائر اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
شرکا کو ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر ہنگامی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیورز کو سبسڈی دینے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔
کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک سے متصل سپر اسٹور میں لگی آگ پر 9 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ سپراسٹور کے بیسمنٹ میں لگی ہوئی ہے، اور بیسٹمنٹ میں سپر اسٹور کا گودام ہے۔
حکام کا کہنا ہے عمارت میں آگ کو پھیلنے سے روک دیا گیا ہے، بیسمنٹ میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 15 گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بظاہر مذاکرات کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خلیجی ریاست کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے میں ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی کارکن ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ مختلف خلیجی ممالک نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کے جواب میں ایرانی افواج نے جنوبی اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگنے اور کیمیائی اخراج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر اسرائیل نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں تمام ممالک نے جنگ میں کمی لانے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی کرکٹر نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اظہارِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے،پرامن تنقید جمہوریت کا ستون ہے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے مزید کہا کہ پی سی بی کو اس معاملے میں مکمل طور پر نیوٹرل رہنا چاہیے۔نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی کارروائی ایک خطرناک حد سے تجاوز کی نمائندگی کرتی ہے جو جمہوریت کے ایک بنیادی ستون کو نقصان پہنچاتی ہے، پر امن تنقید پر کسی کو سزا دینا خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔جاری بیان کے مطابق پبلک آفس کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں، عوامی عہدہ رکھنے والے کسی فرد کو خواہ اس کا قد کچھ بھی ہو عوامی جانچ کا سامنا کرنے کی ذمہ داری سے بری نہیں ہونا چاہیے۔این ڈی سی نے مطالبہ کیا کہ کرکٹر نسیم شاہ کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے،کرکٹ بورڈ ایک قومی ادارہ ہے جو کروڑوں پاکستانیوں کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسے ایک غیر جانبدار ادارہ رہنا چاہیے۔این ڈی سے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سرکاری اداروں سے مزید مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کریں جو آزادی اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سینٹرل کانٹریکٹ اور میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کیا تھا
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں، غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور دفاتر و کام کی جگہوں پر ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کے لیے مناسب مقدار موجود ہے اور حالیہ صورتحال میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔وزیراعظم کے مطابق تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 125 ارب روپے مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے فراہم کیے تاکہ عالمی کشیدگی کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں موٹر سائیکلوں اور رکشہ مالکان کو رجسٹریشن اپنے نام پر کروانے کے لیے سہولیات فراہم کریں۔ اس اقدام سے ملک بھر کے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کا ڈیٹا ڈیجیٹائز ہوگا اور مالکان مستقبل میں حکومتی ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد اور سپلائی چین کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے جبکہ اپریل کے لیے پیٹرول کی درآمد کا انتظام بھی مکمل ہے۔
ایران کے شمال مغربی شہر تبریز میں ایک اہم پیٹروکیمیکل پلانٹ پر مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فوری طور پر ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے سمیت صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے باوجود کسی خطرناک یا زہریلے مادے کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی، جس سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقصان کا خدشہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔ تاہم علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے واقعے کی نوعیت اور اس کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ حملے کے ممکنہ اثرات اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔










