عطا تارڑ نےکہا پاکستان کشیدگی میں کمی کیلئے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے، پاکستان نے پہلے بھی تنازعات کےحل کیلئےکامیابی سے ثالثی کاکردار ادا کیا تھا۔ وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پرحملوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں حصہ دار بننےکا خواہاں ہے۔
ایران نے بھارت کے سامنے مطالبہ رکھتے ہوئے کہا کہ بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنا ہے تو ایران کے تین جہاز واپس بھیجے تاہم بھارت نے ایران کی جانب سے یہ مطالبہ کیے جانے کی تردید کی ہے۔
یاد رہے ایران کے تیل سے بھرے تین جہاز بھارت نے جنگ شروع ہونے سے پہلے اس وقت قبضے میں لیے تھے جب بھارت کی امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل ہو رہی تھی۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایران نے اپنے تین بحری جہازوں کی واپسی کے ساتھ بھارت سے دواؤں اور طبی آلات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے، اس وقت 22 بھارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
فخر زمان نے سوشل میڈیا پر اپنی فٹنس پر سابق کرکٹر عبدالرؤف کے تبصرے پر ردعمل دیا ہے۔
فخر زمان نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ میں 50 اوور کی کرکٹ کیلئے 100 فیصد فٹ نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے عاقب جاوید کی بات بالکل ٹھیک تھی۔
فخر زمان نے مزید کہا کہ میں 15 مارچ کو فٹنس ٹیسٹ کلیئر کرنے کے بعد نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں شریک ہوا۔
واضح رہے کہ سابق کرکٹر عبدالروف نے فخر زمان کی فیلڈنگ کی تصویر لگا کر سلیکشن کمیٹی کے بیان پر سوال اٹھایا تھا۔

واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایک طاقتور ملک ہونے کے ناطے امریکا اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔انہوں نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اس وقت ایک بڑی غلطی کر رہا ہے اور اسے اس صورتحال میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میکرون جلد عہدہ چھوڑ دیں گے۔ٹرمپ نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک امریکا کے مؤقف سے متفق تھے، لیکن مشکل وقت میں انہوں نے عملی مدد فراہم نہیں کی۔یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین پہلے ہی آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ممکنہ کارروائی میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔

بجلی صارفین کیلئے بری خبر ہے جب کہ سی پی پی اے نے فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے لیے نیپرا میں درخواست دائر کی ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمت میں 1 روپے 64 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔نیپرا اتھارٹی اس درخواست پر 31 مارچ کو سماعت کرے گی۔ منظوری کی صورت میں ملک بھر کے بجلی صارفین، بشمول کراچی، پر 14 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔سی پی پی اے کے مطابق فروری میں مجموعی طور پر 7 ارب 69 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جن میں سے 7 ارب 42 کروڑ 70 لاکھ یونٹس ڈسکوز کو فراہم کی گئیں۔ڈسکوز کو فراہم کی جانے والی بجلی کی لاگت 8 روپے 37 پیسے فی یونٹ رہی جبکہ پیداواری لاگت 8 روپے 15 پیسے فی یونٹ رہی۔فروری کے لیے ریفرنس لاگت 6 روپے 73 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی

سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا جس کے باعث عیدالفطر 20 مارچ بروز جمعہ کو ہو گی ۔تفصیلات کے مطابق سعودی سپریم کورٹ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 12 مختلف مقامات پر چاند دیکھنے کیلئے کمیٹیوں کا اجلاس ہوا لیکن ملک بھر میں کہیں سے بھی چاند دیکھنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی ۔ اس لیئے عیدالفطر 20 مارچ بروز جمعہ کو ہو گی ۔

اماراتی حکام کے مطابق عید الفطر کی نماز صرف مساجد کے اندر ادا ہوگی، کھلے میدانوں میں عید کی نماز کی اجازت نہیں ہو گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تمام مساجد میں اس حوالے سے کیے گئے تمام انتظامات مکمل ہیں، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔
دوسری جانب عید الفطر کا چاند دیکھنے کے لیے امارات اور سعودی عرب میں اجلاس آج ہوں گے۔

ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران کی اندرونی سیکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندہ خدا سے جا ملا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عملی طور پر قیادت سنبھال چکے تھے، اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔
علاوہ ازیں اسرائیل کے ایک اور علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جو اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں لیکن اسے جلد بحال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک مستند اور قابلِ عمل منصوبے کی ضرورت ہے، تاہم اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
اسٹارمر نے بتایا کہ اب تک 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں جبکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اس تنازع کے تیز ترین حل کے لیے کام کرتا رہے گا اور وقت بتائے گا کہ اس جنگ کے بارے میں برطانیہ کا مؤقف درست تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔
یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے جاری تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہتے۔
یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ یوهان واڈیفل نے کہا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع میں کسی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو اپنے اہداف اور حکمت عملی کے بارے میں اتحادیوں کو واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی کہا کہ ان کا ملک فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے گا۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی واضح کیا کہ ان کا ملک اس تنازع کو نیٹو مشن نہیں سمجھتا اور وہ وسیع جنگ میں شامل نہیں ہوگا، البتہ اتحادیوں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے