ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔یل پر پہلی مرتبہ ‘سجیل میزائل’ کے حملےدوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق بغداد میں امریکی سفارتخانہ پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
عراقی سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حملوں کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے شدید حملہ تھا۔‘
سفارتخانے نے تقریباً چھ گھنٹے قبل عراق میں موجود امریکی شہریوں کے لیے ایک نیا سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ’ایران سے منسلک دہشت گرد ملیشیا بار بار بغداد کے مرکزی انٹرنیشنل زون پر حملے کر رہی ہیں۔‘
دوسری جانب متحدہ عرب امارات بھی مسلسل حملوں کی زد میں ہے، جہاں ایرانی کارروائیوں میں بغیر پائلٹ طیارے اور میزائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دبئی انٹرنیشنل ایرپورٹ کے قریب واقعے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں، جبکہ فجیرہ بندرگاہ اور ابو دبئی کے مضافات میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان پے در پے حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور خطہ کسی بڑے تصادم کے قریب پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بر وقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے لیے اقدامات کا نفاذ ہو چکا ہے اور مزید پر کام جاری ہے۔وزیراعظم کی جانب سے کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی۔وزیراعظم نے کہا کہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لیے جا رہے ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے تاہم انہیں نہیں لگتا کہ تہران کسی معاہدے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے معاملے پر تقریباً سات ممالک سے بات چیت کر رہا ہے اور ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل بھی اس مقصد کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر نیٹو ممالک نے اس مسئلے میں تعاون نہ کیا تو اس اتحاد کا مستقبل بہت خراب ہو سکتا ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ رواں ماہ کے آخر میں شی جنگ پنگ کے ساتھ طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات اسی صورت میں مفید ہوگی جب وہ ممالک جو ہرمز کے راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کریں۔واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین، اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے جنگی جہاز ہرمز کے علاقے میں بھیجیں تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
پشاور میں رمضان اور عید کے موقع پر سکیورٹی سخت کرنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے ،ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے ،اعلامیہ کہ مطابق اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ اور آتش بازی ،ون ویلنگ اور بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائیگا،تیز رفتاری اور خطرناک ڈرائیونگ پر بھی ضلعی انتظامیہ نے سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے ہیں ،نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیموں اور دریاؤں میں لائف جیکٹ کے بغیر نہانے ،تفریحی پارکس میں غیر محفوظ رائیڈز چلانے ،ڈبل سائلنسر بائیکس اور اسپورٹس گاڑیوں کے استعمال پر پابندی ہوگی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 پی پی سی کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے۔
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کے 3 کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی۔
آسٹریلوی وزیرداخلہ نے اپنےبیان میں کہا3 ایرانی کھلاڑیوں نے واپس ایران جانے کا فیصلہ کیا ہے،اب تک 7 میں سے 4 کھلاڑی آسٹریلیا چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی ہیں،ایک کھلاڑی نے گزشتہ ہفتے ہی اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا تھا۔
ایرانی کھلاڑیوں کی جانب سے قومی ترانہ نہ پڑھنے پر تنازعہ شروع ہوا تھا،ایران میں شدید تنقید پر 7 کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دی تھی۔
خیبر پختونخوا میں پولیس کی بروقت کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے۔ تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پولیس چوکی فتح خیل پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں کے ایک گروہ نے حملے کی کوشش کی، تاہم چوکی پر تعینات پولیس جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور الرٹ پوزیشن کے باعث فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا گزشتہ شب تقریباً 2 بجے پولیس چوکی فتح خیل کے گردونواح میں تھرمل کیمروں کے ذریعے 15 سے زائد شرپسند عناصر کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی گئی، جہاں دہشت گرد چوکی کے سامنے جنگل میں پوزیشن لینے کی کوشش کر رہے تھے۔چوکی پر موجود پولیس پارٹی پہلے ہی ہائی الرٹ تھی، جس نے فوری طور پر دہشت گردوں پر بھرپور فائرنگ شروع کر دی۔پولیس کی اس اچانک اور شدید جوابی کارروائی سے دہشت گرد حواس باختہ ہو گئے اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پسپائی اختیار کر کے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ی آئی جی بنوں ریجن نے کامیاب کارروائی پر پولیس جوانوں کی ہمت اور بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس چوکی فتح خیل کے جوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔










