میٹرک امتحانات میں شفافیت کے دعوے دھرے رہ گئے ، پشاور میں اردومضمون کا پرچہ امتحان شروع ہونے سے قبل ہی آوٹ ہوگیا اردو مضمون کے ایم سی کیوز امتحان شروع ہونے سے پہلے منظرعام پر آگئے، گزشتہ روز اسلامیات کا پرچہ بھی آو ٹ ہوگیا تھا، تعلیمی بورڈ امتحانی نظم برقرار رکھنے میں ناکام ںطر آرہا ہے پرچوں کے مسلسل آوٹ ہونے کی وجہ سے ذہین طلبہ اور والدین مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔
خیبر پختون خوا میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 25 افراد جاں بحق جبکہ 77 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 18 بچے، 2 مرد اور 5 خواتین جبکہ زخمیوں میں 33 مرد، 9 خواتین اور 35 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 88 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 71 گھروں کو جزوی جبکہ 17 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت ،کرم، ہنھگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر ،باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں کی انتظامیہ کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو امداد جلد از جلد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
ہی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یہ بارشوں کا نیا سلسلہ یکم اپریل سے 4 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
عوام سےاپیل کی جاتی ہے کے بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔
آسٹریلوی لیگ اسپنر ایڈم زمپا نے انڈین پریمیئر لیگ کے بجائے پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کی وجہ بتاتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زمپا نے واضح کیا کہ انہوں نےانڈین پریمئر لیگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا اور پاکستان شپر لیگ میں شامل ہوکر کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے لگے۔بھارتی میڈیا کے مطابق زمپا کا کہنا تھا کہ ان کی مہارت کے لحاظ سے آئی پی ایل میں انہیں مناسب معاوضہ نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ جیسے اسپنر کو وہ مالی معاوضہ نہیں دیا جاتا جو دیگر مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کو ملتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی ایل کا دورانیہ بھی کافی طویل ہوتا ہے جس کے مقابلے میں اسے کھیلنا ان کے لیے مناسب فیصلہ نہیں تھا۔پی ایس ایل 11: اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ بارش کے باعث منسوخ انہوں نے کہا کہ اول تو میرا کرکٹ سے کچھ ٹائم کے لیے وقفہ لینے کا ارادہ تھا، تاہم پی ایس ایل میں کھیلنے کا موقع ملا اور اسے قبول کرلیا۔واضح رہے کہ زمپا اس وقت پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بھارتی اداکارہ پونم پانڈے کی نئی پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر الجھن پیدا کردی اور صارفین اس حوالے سے کشمشن کا شکار ہیں کہ آیا وہ حمل سے ہیں یا یہ تصاویر آے آئی سے بنوائی گئی ہیں۔ بھارتی اداکارہ پونم پانڈے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے، انہوں نے بظاہر اپنی حمل کی خبر شیئر کی، تاہم زیادہ تر لوگ اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔31 مارچ کو 35 سالہ اداکارہ نے انسٹاگرام پر دو تصاویر پوسٹ کیں۔ ایک تصویر میں وہ اپنی ٹی شرٹ اوپر اٹھائے ہوئے نظر آئیں، جس میں ان کا بیبی بمپ دکھائی دے رہا ہے۔دوسری تصویر میں انہوں نے شرٹ نیچے کی ہوئی ہے، لیکن ان کا حمل واضح نظر آ رہا ہے جب کہ پوسٹ کے کیپشن میں حاملہ خاتون، دودھ کی بوتل اور ایک بچے کا ایموجیز شامل کیا گیا تھا۔ یہ پوسٹ وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچ گیا، لیکن صرف مبارکباد کے پیغامات ہی نہیں آئے بلکہ مداحوں کے ردعمل ملے جلے رہے۔ کچھ نے مبارکباد دی جب کہ کئی صارفین حیران اور کنفیوز نظر آئے۔ایک صارف نے لکھا ’واقعی‘؟ دوسرے نے لکھا ’یہ کیا‘؟ ایک اور نے سوال اٹھایا، ’لیکن بچے کا باپ کون ہے‘؟ کئی صارفین نے شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا اور کچھ نے تصاویر کو جعلی قرار دیا، ایک صارف نے لکھا ’اے آئی تصاویر ہیں‘۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک اور جعلی اسٹنٹ ہے جب کہ کچھ لوگوں نے اسے اپریل فول کا مذاق بھی قرار دیا۔واضح رہے کہ 2024 میں پونم پانڈے نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سروائیکل کینسر سے انتقال کر گئی ہیں، لیکن ایک دن بعد واپس آ کر اسے آگاہی مہم کا حصہ قرار دیا تھا، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 56 ارب روپے سے زائد نیا قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 20 کروڑ ڈالر کے مساوی رقم ریونیو نظام کو ڈیجیٹل بنانے پر خرچ کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق 56 ارب روپے سے زائد قرض لینے کا مقصد ٹیکس اور کسٹمز نظام میں شفافیت اور بہتری لانا ہے، پوائنٹ آف سیل سسٹم اور ڈیجیٹل انوائسنگ کو فروغ دینا پلان میں شامل ہے۔ٹیکس وصولی میں اضافے کے لیے ریونیو سسٹم میں خامیاں دور کی جائیں گی، ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے کارکردگی بہتر بنانا اور تجارتی عمل کو آسان اور شفاف بنانا بھی اہداف میں شامل ہے، معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے گا، خودکار اور جدید ریونیو سسٹم کے قیام کی طرف بھی پیشرفت ہوگی۔حکام کے مطابق ایف بی آر نظام کو جدید بنانا منصوبے کا حصہ ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی حکومت کے صدر نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم آبنائے ہرمز کھلنے پر اس درخواست پر غور کریں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ‘ایران کی نئی حکومت کے صدر اپنے پیش رؤں کے مقابلے میں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہے اور اب امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس پر اس وقت غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے، فری اور محفوظ ہو، اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تہس نہس کر رہے ہیں یا جیسے وہ کہتے ہیں پتھر کے دور میں بھیج دیں گے’۔یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور دیگر اہم شخصیات اور شہری شہید ہوئے جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی بیسز اور اسرائیل پر میزئل اور ڈرونز فائر کیے، جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز یقیناً دوبارہ کھلے گی، لیکن آپ کے لیے نہیں؛ یہ ان لوگوں کے لیے کھلی رہے گی جو ایران کے نئے قوانین کی تعمیل کریں گے۔‘
اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں عزیزی نے ایران کے 1979 کے انقلاب کے بعد کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مہمان نوازی کے 47 سال ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے ہیں۔‘
عزیزی کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ نے بالآخر ’حکومت کی تبدیلی‘ کا اپنا خواب پورا کر لیا ہے لیکن یہ تبدیلی خطے کی سمندری حکومت میں آئی ہے۔
یاد رہے کہ سوموار کے روز ایران کے نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے خبر دی تھی کہ ملک کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی حکومت نے معاہدے کے برعکس سولر سسٹم سے بجلی بنانے والے صارفین کے لیے بلنگ کے طریقہ کار میں ترمیم کر دی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اضافی بجلی کو ’صفر‘ یونٹ ڈکلیئر کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے کنکشن پر ’ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک‘ نافذالعمل کر دیا گیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت اس چیک کے نفاذ کے بعد اضافی پینلز سے بننے والی بجلی پر دیا جانے والا ریلیف مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اضافی بجلی سسٹم پر شامل تو ہو جائے گی، تاہم نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت اس پر کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے ایکسپورٹ ایم ڈی آئی ریڈنگ کی بنیاد پر اضافی جنریشن پر ریلیف بند کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی منظور شدہ جنریشن لائسنس سے زیادہ پینلز لگانے کی صورت میں ایکسپورٹ یونٹس پر بھی ریلیف ختم کر دیا گیا ہے۔
ارومچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم (سہ فریقی) اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی امن و استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور تعلقات کی بہتری کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔چینی حکام نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ خطے میں ہم آہنگی اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مثبت اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس میں سیکیورٹی، سرحدی معاملات اور اقتصادی روابط سمیت اہم امور زیر غور آئے جبکہ شرکا نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔سہ فریقی ملاقات خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔










