پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کیلیے پانچ نکاتی مشترکہ ایجنڈا پیش کردیا۔تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات میں دونوں ممالک نے خلیج و مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پانچ نکاتی مشترکہ منصوبہ پیش کیا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ و خلیج میں تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے، جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔دونوں ممالک نے زور دیا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کا تحفظ کیا جائے جبکہ پاکستان اور چین نے مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو واحد مؤثر راستہ قرار دیتے ہوئے تمام فریقین پر تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی۔آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک نے جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ و جلد آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔چین اور پاکستان نے کثیرالجہتی نظام کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر جامع امن فریم ورک تشکیل دینے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے نکات خطے میں دیرپا امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔قبل ازیں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ اہم سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے جہاں انکی چینی ہم منصب سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور چینی سفیر یوئے شیاو یونگ نے بیجنگ پہنچنے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا استقبال کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں بھلے آبنائے ہرمز بند رہے۔
ٹرمپ اور ان کے معاونین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائیاں ایران کے تنازع کو چار سے چھ ہفتوں کی ٹائم لائن سے آگے دھکیل دیں گی۔ انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ صدر کے پاس فوجی اختیارات ہیں، لیکن وہ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور میزائلوں کو تباہ کرکے اپنے مقاصد حاصل کرے، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران پر سفارتی دباؤ ڈالے گا اور دشمنی کو ختم کرے گا۔ اور اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو واشنگٹن یورپ اور خلیج میں اتحادیوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھلوائیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے شہری بنیادی انفراسٹرکچر پر حملہ کر دیں گے۔

ڈی ایچ اے پشاورمیں 25 مارچ 2026 کو ریزیڈنشل پلاٹس کی بیلٹنگ کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جسے شرکاء نے ایک یادگار اور تاریخی لمحہ قرار دیا۔ اس موقع پر شہریوں کے خوابوں کو حقیقت کا روپ ملتا دکھائی دیا اور ماحول خوشی و مسرت سے بھر گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے پشاور، بریگیڈیئر ہارون رشید خان تھے، جن کی موجودگی نے تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ بیلٹنگ میں 5 مرلہ، 10 مرلہ اور 1 کنال کے رہائشی پلاٹس شامل تھے۔ جیسے ہی نتائج کا اعلان کیا گیا، کامیاب امیدواروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور شرکاء نے اس عمل کو شفاف اور منظم قرار دیا۔تقریب کے دوران نہ صرف بیلٹنگ کے مراحل کو شفاف انداز میں مکمل کیا گیا بلکہ شرکاء کی تفریح کے لیے موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں گلوکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا۔ اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے آئندہ بیلٹنگ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا گیا، جس سے عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا۔ڈی ایچ اے پشاور کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارہ مستقبل میں بھی اسی شفافیت اور معیار کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کو بہترین رہائشی سہولیات فراہم کرتا رہے گا۔

لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں کل سے شدید بارشوں کا امکان ہے جس کے سبب پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں بارش سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ 4 اپریل تک جاری رہے گا۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، گجرانوالہ میں بارش کا امکان ہے۔
حافظ آباد، وزیر آباد، سرگودھا، میانوالی، شیخوپورہ، گجرات، خوشاب اور منڈی بہاءالدین میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ لاہور، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ، بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان اور گردونواح میں بارشوں کا امکان ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور سلیمان رینج کے برساتی نالوں کے بہاو میں اضافے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر متعلقہ محکموں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے صوبے بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ آسمانی بجلی سے بچاو کے لیے محفوظ مقامات پر رہیں، آسمانی بجلی کی گرج چمک کے دوران کھلے مقامات تلے ہرگز نہ جائیں۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے ہدایت کی کہ کسان تمام تر اقدامات موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں۔ بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے لہٰذا سیاح شمالی علاقہ جات کے سفر میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں آدھے سے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ نے ایران کے پاسداران انقلاب کے “ہزاروں” ارکان کو ہلاک کرنے سمیت کئی اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم ان کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے بھی قریب ہیں۔
نیتن یاہو نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران کی اسلامی جمہوریہ ختم ہوجائے گی تاہم انہوں نے اضافہ کیا کہ جنگ کا مقصد یہ نہیں تھا
واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ جنگ کا آغاز کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ آپریشن چار سے چھ ہفتے تک جاری رہے گا۔
سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنگ مہینوں کے بجائے ہفتوں جاری رہے گی۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے جبکہ یہ الزام اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹ کیخلاف ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ چار اسرائیلی فوجی لبنان میں ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بیان آئی ڈی ایف کی جانب سے ٹیلیگرام پر شائع کیا گیا۔
بیان کے مطابق 22 سالہ کیپٹن نوم مادمونی، سٹاف سارجنٹ 21 سالہ بن کوہن اور سٹاف سارجنٹ 22 سالہ میکسم اینٹس جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی انتظامیہ کے مطابق دو افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک فوجی کو ’شدید زخمی حالت جبکہ دوسرے کو قدرِ کم زخم آئے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے مزید کہا کہ اسی واقعے میں ایک اور فوجی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں تاہم تصدیق کا عمل جاری ہے۔ جنوبی لبنان میں یہ جھڑپیں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے سرحدی علاقوں میں راکٹ فائر کیے، جبکہ اسرائیل نے جوابی فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔
گذشتہ چند ہفتوں میں دونوں جانب سے چھوٹے اور بڑے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے علاقے میں امن کی صورت حال غیر مستحکم ہو گئی ہے۔

بالی ووڈ اداکار ورون دھون نے اپنے ماضی سے جڑا ایک چونکا دینے والا واقعہ بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کے اہلِ خانہ کو انڈرورلڈ کی جانب سے موصول ہونے والی دھمکیوں کے باعث اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ورون دھون نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ 1990 کی دہائی میں ان کے والد ڈیوڈ دھون سمیت خاندان کو بھی انڈرورلڈ کی جانب سے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اپنا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا۔
اداکار کے مطابق اس دور میں کئی فلمی شخصیات کو ایسی ہی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، اور ان کے گھر پر بھی بار بار فون کالز آتی رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گھر کے عملے نے ان کالز کے دوران غیر معمولی ردعمل دیا اور کال کرنے والوں سے الجھ گئے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پورا پتہ بھی بتا دیا۔
ورون دھون نے بتایا کہ عملے کے ایک فرد نے دھمکی دینے والے کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ باغ میں آ جائے، جہاں اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب ایک اداکار نے ان کے والد کو آگاہ کیا کہ اب معاملہ خطرناک ہوچکا ہے اور کال کرنے والا بندوق لے کر آنے کی بات کر رہا ہے، جس پر دھون خاندان نے فوراً گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
اداکار نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ کہانی سننے میں مضحکہ خیز لگ سکتی ہے، تاہم حقیقت میں یہ ان کے لیے ایک نہایت خوفناک اور دباؤ والا وقت تھا۔

معروف چاکلیٹ برانڈ کٹ کیٹ کی 12 ٹن چاکلیٹس سے بھرا ٹرک چوری ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی کمپنی نیسلے کی ملکیت کٹ کیٹ کی تقریباً 4 لاکھ 13 ہزار سے زائد چاکلیٹ بارز اٹلی سے پولینڈ منتقل کی جا رہی تھیں کہ راستے میں نامعلوم افراد ٹرک سمیت سامان لے اڑے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نہ صرف ٹرک بلکہ مکمل کارگو تاحال لاپتہ ہے جبکہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
نیسلے کے مطابق چوری ہونے والی چاکلیٹس مختلف یورپی ممالک میں سپلائی کے لیے بھیجی جا رہی تھیں اور خدشہ ہے کہ یہ غیر قانونی مارکیٹ میں فروخت کی جا سکتی ہیں۔
کمپنی نے بتایا کہ ہر چاکلیٹ پر مخصوص بیچ کوڈ موجود ہے جس کے ذریعے انہیں ٹریس کیا جا سکتا ہے جبکہ صارفین کو مشکوک مصنوعات کی اطلاع دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
نیسلے نے اس واقعے کو یورپ میں بڑھتی ہوئی کارگو چوری کی وارداتوں کا حصہ قرار دیا ہے، تاہم کمپنی کے مطابق اس سے صارفین کے لیے کسی قسم کا حفاظتی خطرہ نہیں۔

وائٹ ہاؤس کی حالیہ پریس بریفنگ کے دوران ایسا اشارہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک سے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ سے پیر کے روز پریس بریفنگ کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا عرب ممالک کو جنگ کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں جیسا کہ سنہ 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران امریکہ کے اتحادیوں نے واشنگٹن کی مداخلت کے لیے مالی معاونت کی تھی۔‘
لیویٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے لیے صدر انھیں کہنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس معاملے میں ان سے آگے نہیں بڑھوں گی، لیکن یقیناً یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے بارے میں مُجھے علم ہے کہ اُن (امریکی صدر) کے ذہن میں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ اس بارے میں ان کی طرف سے مزید سنیں گے۔‘

ساتھ ہی امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔
کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔
لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران United Arab Emirates اور Bahrain نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کیے ہیں، جس سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک نے ایران کی جانب سے داغے گئے 11 میزائل اور 27 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک یو اے ای کی دفاعی افواج مجموعی طور پر 1941 ڈرونز اور 440 میزائلوں کو ناکارہ بنا چکی ہیں۔
سرکاری بیان میں مزید بتایا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 178 افراد زخمی جبکہ آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم فوری دفاعی کارروائیوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
دوسری جانب بحرین کی دفاعی فورس نے بھی اسی نوعیت کے دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں آٹھ میزائل اور سات ڈرونز کو تباہ کیا۔ بحرینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک وہ مجموعی طور پر 182 میزائل اور 398 ڈرونز کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بڑے تنازع کا حصہ ہے جو Iran اور Israel کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ United States کی خطے میں موجودگی بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران ان ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکی افواج یا ان کے اڈے موجود ہیں، جس کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں براہِ راست اس تنازع کے اثرات کا سامنا کر رہی ہیں