ارومچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم (سہ فریقی) اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی امن و استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور تعلقات کی بہتری کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔چینی حکام نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ خطے میں ہم آہنگی اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مثبت اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس میں سیکیورٹی، سرحدی معاملات اور اقتصادی روابط سمیت اہم امور زیر غور آئے جبکہ شرکا نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔سہ فریقی ملاقات خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

ملکی سطح پر تیل و گیس کے شعبے سے اچھی خبر سامنے آئی ہے جب کہ وزیرستان بلاک میں اسپن وام-1 کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع ہوگئی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسپن وام-1 منصوبے کا افتتاح کر دیا، ماڑی انرجیز نے کہا کہ اسپن وام-1 دریافت سے پاکستان کی توانائی سکیورٹی مضبوط ہوگی،اسپن وام-1 سے ابتدائی پیداوار 40 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس حاصل ہوگی۔
وزیرستان بلاک سے مجموعی گیس فراہمی تقریباً 100 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک پہنچ گئی، وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔
ماڑی انرجیز نے کہا کہ شیوا-1 اور اسپن وام-1 کو قومی گیس گرڈ سے منسلک کر دیا گیا، مقامی ہائیڈروکاربن وسائل کی ترقی سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔
منصوبہ ماڑی انرجیز، او جی ڈی سی ایل اور اورینٹ پیٹرولیم پر مشتمل جوائنٹ وینچر ہے، ماڑی انرجیز کے مطابق وزیرستان میں مزید تلاش و پیداوار کے منصوبوں کی توقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ سے نکلنے کے بیان کے بعد آج پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیزی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 7461.58 پوائنٹس اضافے سے 156,204.89 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔انڈیکس میں 4944 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، ہنڈریڈ انڈیکس نے پانچ حدیں حاصل کرلیں۔ انڈیکس 1 لاکھ 53 ہزار 687 پر دیکھا گیا۔ گذشتہ روز مارکیٹ 148,743 پر بند ہوئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیاں ایک گھنٹے کے لیے معطل کردی گئیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے باعث گزشتہ روز نیویارک کی ڈاؤ جونز میں بھی مثبت تیزی دیکھی گئی تھی اور ڈاؤ جونز 2 اعشاریہ 49 فیصد اضافے پر بند ہوا تھا۔اس کے علاوہ ایشیائی مارکیٹ میں بھی کاروبار کے دوران بہت تیزی دیکھنے میں آئی، جاپان کے نکئی میں 9 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا، ہینگ سینگ، نفٹی ففٹی اور یورپی مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج بڑا اضافہ ہوگیا جبکہ چاندی کے نرخ بھی بڑھ گئے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں 153 ڈالر کے اضافے سے فی اونس سونا 4713 ڈالر اور فی اونس چاندی کی قیمت 75 ڈالر ہوگئی۔
عالمی مارکیٹ میں اضافے سے سونا 15 ہزار 300 روپے مہنگا ہونے کے سبب فی تولہ سونا 4لاکھ 94 ہزار 62 روپے پر پہنچ گیا جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 13 ہزار 117 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 23 ہزار 578 روپے ہوگئی۔
فی تولہ چاندی 200 روپے کے اضافے سے 7 ہزار984 روپے پر پہنچ گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 171 روپے بڑھ کر 6ہزار 844 روپے ہوگئی۔

حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے گندم کے بعد شوگر سیکٹر کو بھی ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ڈی ریگولائزیشن پلان تیار کرکے منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شوگر ملز کے لائسنس، امپورٹ اور ایکسپورٹ سمیت ہر شعبہ ڈی ریگولیٹ ہوگا، شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر پنجاب، کے پی، بلوچستان نے آمادگی ظاہر کردی ہے سندھ کی سفارشات موصول ہونا باقی ہیں۔وزارت صنعت و پیداوار کے پیش کردہ پلان میں کسانوں کے تحفظ اور کارٹلائزیشن کی روک تھام کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تجویز شامل ہے، کسانوں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی، کسی زون یا اقسام کی پابندی نہیں ہوگی،کسان کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں آزاد ہوگا۔گنے کی قیمت کا تعین مارکیٹ کرے گی، آٹھ ماہ بند رہنے والی شوگر ملز باہر سے خام مال منگوا کر چینی بنا سکیں گی۔ حکومت چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دے گی ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی بھی ختم کر دی جائے گی۔کسانوں کو نقصان کے لیے ممنوعہ گنے کی اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے، شوگر ملز کو باہر سے خام مال منگوا کر چینی تیار کر کے برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف پالیسیوں اور ممکنہ جنگی اقدامات پر عوامی حمایت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ ان کی مجموعی مقبولیت بھی کم ہو کر 33 فیصد تک آ گئی ہے۔
یونیورسٹی آف میساچوسٹس امہرسٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ 62 فیصد افراد نے ان کی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
سروے میں خاص طور پر ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے گئے۔
نتائج کے مطابق صرف 29 فیصد افراد نے ایران کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کی، جبکہ 63 فیصد امریکی عوام نے اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق صرف خارجہ پالیسی ہی نہیں بلکہ اندرونی مسائل پر بھی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ سے ناخوش نظر آتی ہے۔
مہنگائی کے معاملے پر 71 فیصد افراد نے حکومتی کارکردگی کو ناقص قرار دیا، جبکہ روزگار، امیگریشن اور ٹیرف پالیسیوں پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔
مزید برآں، سروے میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے 17 فیصد افراد اب اپنے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، جو ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کا ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں عوام خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل کو بھی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

‏پشاور کے علاقہ یو نیورسٹی ٹاؤن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے یورولوجسٹ ڈاکٹر آصف زخمی ہوگئے،مجروح کو گھر کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا،ڈاکٹر آصف اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی ،وہ سابق سی سی پی پشاور ملک سعد شہید کے چچا زاد بھائی ہیں،واضح رہے خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں ڈاکٹروں پر فائرنگ کے تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس ڈاکٹروں میں بے چینی پائی جارہی ہے

امریکہ کے صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اگلے ’دو سے تین ہفتوں میں‘ ایران سے ’نکل‘ جائے گا۔
منگل کے روز اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ایک ہی ’مقصد‘ تھا – کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ نہیں کر سکے اور امریکی صدر کے مطابق انھوں نے وہ حاصل کر لیا ہے۔
’ہمارا کام تقریباً ختم ہو گیا ہے۔‘ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ’شاید دو ہفتوں کے اندر، یا اس سے دو چار دن زیادہ لگ جائیں کام ختم ہونے میں۔‘
’ہم ان کی ہر ایک چیز تباہ کر دینا چاہتے ہیں – لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم اس سے پہلے کوئی معاہدہ کر لیں۔‘
اوول آفس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ، ’ضروری نہیں کہ ایران کوئی معاہدہ کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران سے نکل جائے گا جب اسے یقین ہو جائے کہ ایرانی حکومت ’سالوں تک‘ جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتی۔
’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ایران سے امریکہ کے انخلا کا تہران کے ساتھ معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران میں بمباری کے نتیجے میں سب کچھ تباہ ہو گیا ہے اور ان کے پاس اب اپنے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں بھی نہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ’اب لڑ نہیں پا رہے۔ وہ اب ہم پر فائر بھی نہیں کر رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ’ان کا جنگی ساز و سامان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے‘ اور ’فائر کرنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔‘
صدر ٹرمپ کا دعوی ہے کہ ایران کے پاس اب بحریہ یا فوج بھی نہیں ہے۔
’وہ ہار رہے ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ہار رہے ہیں۔ وہ ایک معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہے ہیں۔‘

‏پشاور کے علاقہ یو نیورسٹی ٹاؤن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے یورولوجسٹ ڈاکٹر آصف زخمی ہوگئے،مجروح کو گھر کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا،ڈاکٹر آصف اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی ،وہ سابق سی سی پی پشاور ملک سعد شہید کے چچا زاد بھائی ہیں،واضح رہے خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں ڈاکٹروں پر فائرنگ کے تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس ڈاکٹروں میں بے چینی پائی جارہی ہے

پاکستان سپر لیگ 11 میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان میچ بارش اور تیز ہوا کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منگل کو یہ میچ کھیلا جانا تھا، تاہم مسلسل بارش اور آندھی کے سبب کھیل کے لیے میدان بالکل غیر محفوظ ہو گیا۔
ابتداء میں ٹاس بھی مقررہ وقت پر نہیں ہو سکا اور امپائرز نے بار بار صورتحال کا جائزہ لیا۔ میچ کے دوران گراؤنڈ میں پانی بھر جانے اور موسم کے خراب ہونے کے بعد کٹ آف وقت کے بعد حکام نے بالآخر میچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
چونکہ میچ مکمل نہیں ہو سکا، اس لیے دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔
لاہور میں بارش اور ہوا کی شدت کے باعث کھیل کے دوران کسی بھی طرح کے شائقین کی موجودگی نہیں تھی، لیکن بارش کی وجہ سے منسوخ ہونے والے میچ نے کرکٹ کے شوقین حضرات کو مایوس کیا۔