تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف پہلے سے باعزت بری ہونے والے مقدمے میں نیا چالان پیش کر دیا گیا۔
عدالت نے پہلے فیصلے کی بنیاد پر کیس کو داخل دفتر کر دیا۔
کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے کی جب کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکلا سردار مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران سردار مصروف خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عدالتی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کسی ملزم کو بری کیے جانے کے بعد اسی مقدمے میں دوبارہ چالان پیش کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی کچہری میں عدالت پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کو بری کر چکی ہے۔ اس پر جج شہزاد خان نے ہدایت دی کہ پہلے والا عدالتی حکم پیش کیا جائے تاکہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا سکے
بعد ازاں بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے بریت کا آرڈر عدالت میں پیش کیا، جس پر عدالت نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا اور نئے چالان والے کیس کو داخل دفتر کر دیا۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف آزادی مارچ کے سلسلے میں تھانہ ترنول میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

گیس کی کمی کے باعث ملک میں سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ (اپریل) سے ملک بھر کے پاور پلانٹس کو صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی، جس کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مارچ میں ملنے والی 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور ایل این جی کی فراہمی بند ہو جائے گی۔ سی این جی سیکٹر کے لیے بھی گیس مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے۔
پاور سیکٹر کو 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی جائے گی اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گیس بھی ممکنہ طور پر بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی 1500 سے 1800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فیصد بجلی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ساہیوال اور جامشورو کے پلانٹس کوئلے کی قلت کا شکار ہیں ۔ کوئلے کا موجودہ ذخیرہ صرف 3 سے 7 دن کے لیے کافی ہے، جس کے باعث مزید 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایس ایس جی سی کو بھی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق 2 گیس فیلڈز میں ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس غیر متوقع قلت کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ غالب امکان ہے کہ ایران امریکا کا معاہدہ ہوجائے گا لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوسکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو ہم ایران میں اپنے ’’قیام‘‘ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ جزیرے (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے جنہیں ہم نے جان بوجھ کر اب تک نہیں چھیڑا۔امریکی صدر نے مزید لکھا کہ یہ کارروائی ہمارے ان متعدد فوجیوں اور دیگر افراد کے بدلے میں ہوگی جنہیں ایران نے سابقہ حکومت کے 47 سالہ ’’دورِ دہشت‘‘ میں قتل کیا اور ہلاک کیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس بجلی گھر کو تباہ کریں گے تاہم خدشہ ہے کہ جو بھی سب سے بڑا بجلی گھر ہے پہلے وہ تباہ کیا جائے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ 31 دن میں داخل ہوچکی ہے اور کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

آسٹریلیا کے ساحلی علاقے شارک بے میں ایک طاقتور طوفان کے باعث آسمان اچانک گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہو گیا، جس نے شہریوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب سائیکلون ناریلے کے زیرِ اثر تیز ہوائیں چلیں، جنہوں نے زمین سے آئرن آکسائیڈ سے بھرپور گرد کو فضا میں بلند کر دیا۔ چند ہی منٹوں میں دن کی روشنی مدھم ہو گئی اور آسمان سرخ اور نارنجی رنگ اختیار کر گیا۔
گرد کے بادل اس قدر گھنے تھے کہ حدِ نگاہ تقریباً صفر ہو گئی، جبکہ کئی علاقوں میں لوگوں کو سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
عینی شاہدین نے اس منظر کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ماحول یکسر تبدیل ہو گیا ہو اور دن رات میں بدل گیا ہو۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی قیادت نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں بھی شدت آ گئی ہے۔
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا بظاہر مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن پس پردہ زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ توانائی کے مراکز پر حملے بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال کو بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں حملے کیے، جن میں اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکےہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔
وسطی شہر اصفہان میں ایک یونیورسٹی پر بھی دوبارہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل بھی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اب تک سینکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ لبنان سے حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے، جس سے متعدد شہروں میں سائرن بج اٹھے۔
اسرائیل کے جنوبی صنعتی علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہاں ایک فیکٹری کو نقصان پہنچا جبکہ بعض علاقوں میں لوگ زخمی ہوئے۔ شمالی شہر حیفہ میں بھی میزائلوں کے ملبے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خلیجی ممالک میں بھی خطرے کی صورتحال برقرار ہے، جہاں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت اور بحرین میں سائرن بجائے گئے۔
اسی دوران پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں اہم اجلاس کیا، جس میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، جس میں اب یمن کے حوثی گروپ بھی شامل ہو چکے ہیں، اور اس صورتحال سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑا اقدام کرتے ہوئے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات ایک مکمل فوجی بٹالین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات عالمی سطح پر سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی۔ اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا۔
صحافیوں کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا۔ بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی اور کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے بٹالین کی معطلی کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

بالی وڈ اداکارہ سونم کپور کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔
سونم کپور نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کے ذریعے مداحوں کو اپنے گھر میں ننھے مہمان کی آمد کی خوشخبری سنائی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہمیں آج 29 مارچ 2026 کو اپنے بیٹے کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔
اداکارہ نے لکھا کہ ہماری فیملی بڑی ہوگئی ہے اور بیٹے کی آمد سے ہمارے دل بھی خوبصورت انداز میں بڑے ہوگئے ہیں۔
سونم نے مزید لکھا کہ وایو اپنے چھوٹے بھائی کا استقبال کرنے پر بہت خوش ہے اور ہم اس قیمتی نئی زندگی کی آمد سے بہت خوش ہیں جس نے ہمارے گھر کو خوشی اور وقار سے بھر دیا ہے، ہم اس نئے خوبصورت باب کے آغاز پر شکر گزار ہیں۔
واضح رہے کہ سونم کپور نے آنند آہوجا کے ساتھ مئی 2018 میں شادی کی تھی، اگست 2022 میں ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی، جوڑی نے اپنے پہلے بیٹے کا نام ’وایو‘ رکھا تھا۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جنگ کے جواز کے لیے مذہب کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں ناقابل قبول ہیں۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جو لوگ جنگ کو مذہب کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، وہ درحقیقت انسانیت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا نہیں سنتا‘، اور مذہب کو تشدد یا تباہی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی، اور کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور امن میں ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران سے متعلق جاری جنگ میں شامل مختلف فریقین کے بعض رہنما اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کا بیان ایک اہم اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذہب کو جنگ اور تصادم کے لیے استعمال کرنے کے بجائے امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے۔ مگر امریکی حکام کی جانب سے متعدد بریفنگز بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مبینہ طور پر زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ صدر جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز پر غور کر رہے ہیں۔
گذشتہ رات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اور اس کے جوان امریکی فوجیوں کے ’انتظار میں ہیں۔‘

صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اہم وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، ساتھ ہی خلیجی ممالک پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکا کو چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس پر اعتماد میں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں موجود پٹرولیم ذخائر اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
شرکا کو ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر ہنگامی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیورز کو سبسڈی دینے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔