وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق میڈیا میں موجود غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اہم عمل میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں فریقین کے مابین پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں اور اس تناظر میں امریکا نے 15 نکات پیش کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس امن اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برادر اسلامی ممالک ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ریاستیں بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنے عزم پر سختی سے کاربند ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم بھی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور جاری تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق میڈیا میں موجود غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اہم عمل میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں فریقین کے مابین پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں اور اس تناظر میں امریکا نے 15 نکات پیش کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس امن اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برادر اسلامی ممالک ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ریاستیں بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنے عزم پر سختی سے کاربند ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم بھی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور جاری تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔
پی ایس ایل کے گیارھویں سیزن کے لیے رائیولریز (دیرینہ رقابت) پر ایک نیا اور جوش بڑھاتا ولولہ انگیز پرومو جاری کیا گیا ہے۔
اس پرومو کا آغاز ’’11 ہونے والا ہے۔۔۔۔ اور اعلیٰ ہونے والا ہے‘‘ ’’پی ایس ایل کا ہر موومنٹ ہے وائرل ہونے والا‘‘ کے مصرعہ سے ہوتا ہے اور کرکٹ کے دیوانے اس پر رقصاں نظر آتے ہیں۔
اس پرومو میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کا ذکر دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ نئی ٹیموں کےاضافے سے رقابتوں میں بھی آئے گی نئی جان۔
مثلاً
’’بابر کی ڈرائیو، عامر کی فائٹ، راولپنڈی ورسز اسلام آباد ہوگا ٹائٹ، مطلب پنڈی بوائز اور برگرز کی فائٹ۔‘‘
’’ہلا دیں گے میدان کراچی اور حیہدرآباد کے لڑکے، جیسے کراچی کی سڑکوں کے جھٹکے۔‘‘
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سول و عسکری قیادت نے معاشی نظم و نسق، توانائی منصوبہ بندی، فوڈ سکیورٹی اور سکیورٹی پالیسیز کو ہم آہنگ رکھنے پر اتفاق کیا، حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطح کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی علی پرویز ملک اور وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی شریک ہوئے۔










