غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سن رائزرز لیڈز نے جمعرات 12 مارچ کو دی ہنڈرڈ لیگ کی نیلامی میں پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد کو 1 لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 7 کروڑ 12 لاکھ پاکستانی روپے) میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی فرنچائز کا ایکس اکاؤنٹ معطل ہو گیا۔ سن رائزرز لیڈز دراصل بھارتی میڈیا گروپ سن گروپ کی ملکیت ہے جو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کا بھی مالک ہے۔ اس گروپ کی سربراہ معروف بھارتی بزنس مین کلانِتھی مارن ہیں جبکہ فرنچائز کی سی ای او کاویا مارن نیلامی کے دوران لندن میں موجود تھیں۔نیلامی کے دوران کاویا مارن کے ساتھ ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری بھی موجود تھے، جہاں سن رائزرز لیڈز نے ٹرینٹ راکٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ابرار احمد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ ٹیم کی قیادت انگلینڈ کے ٹی ٹوئنٹی کپتان ہیری بروک کریں گے۔رپورٹس کے مطابق اس وقت اگر کوئی صارف سن رائزرز لیڈز کا ایکس اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کرے تو اسے پیغام ملتا ہے، جس کا مفہوم ہے، ”اکاؤنٹ سسپینڈڈ۔ ایکس اُن اکاؤنٹس کو سسپینڈ کرتا ہے جو ایکس کے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔“تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اکاؤنٹ کس وجہ سے معطل کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم فیفا ورلڈکپ میں شرکت کے لیے امریکا آئی تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگا۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قومی فٹبال ٹیم کو فیفا ورلڈکپ 2026 سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی اپنی جان اور سلامتی کے لیے بہتر ہو سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔فیفا ورلڈکپ رواں سال 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر کھیلا جائے گا۔ایران کی ٹیم نے ایشیائی کوالیفائنگ مرحلے میں گروپ اے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے مسلسل چوتھی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔تاہم حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے باعث ایران کی شرکت غیر یقینی بن گئی ہے۔ایرانی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ورلڈ کپ میں شرکت مشکل دکھائی دیتی ہے۔اسی طرح ایران کے وزیر کھیل نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ حالیہ حملوں اور کشیدگی کے بعد ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ میں حصہ لینا ممکن نہیں رہا۔دوسری جانب فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہیں امریکی صدر کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایرانی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں خوش آمدید کہا جائے گا، کیونکہ فٹبال دنیا کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکی فوج کے سینٹکام نے ایران کے خارگ جزیرے پر بڑے پیمانے پر بمباری کی۔ ٹرمپ کے مطابق حملوں میں جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین بمباری حملوں میں سے ایک تھا۔
خارگ جزیرہ ایران کے خلیج فارس میں واقع سب سے اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔ ایران کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ابھی تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو روکنے کی کوشش کی تو تیل کے تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
لنڈی کوتل میں پاک۔افغان شاہراہ خیبر شیخوال کے مقام پر خواتین نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سنٹر کی بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بند کر دی جس کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔
بعد ازاں لنڈی کوتل تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او ملک زینت آفریدی نے مقامی مشران کے ہمراہ مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے۔ مذاکرات کے نتیجے میں احتجاج ختم کر دیا گیا اور پاک۔افغان شاہراہ کو ٹریفک کے لئے دوبارہ کھول دیا گیا۔
پولیس حکام اور مشران نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ پیر کے روز متعلقہ سنٹر میں دوبارہ ڈیوائس نصب کی جائے گی اور خواتین کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سنٹر باقاعدہ طور پر فعال کر دیا جائے گا۔










