ایل پی جی کی قیمت اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 550 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں ایل پی جی سرکاری طور پر مقررہ نرخ سے بھی 200 روپے زائد قیمت پر مل رہی ہے۔دریں اثنا ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالہادی خان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں سپلائی کی کمی اور ڈسٹری بیوٹرز کو مہنگا مال ملنا زائد قیمت پر فروخت کی بنیادی وجوہات ہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا اور متعلقہ امپورٹرز ایل پی جی کی زائد قیمتوں پر ہونے والی فروخت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکے ہیں جس سے بحران بڑھ رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ موجودہ جنگ ایران کی اپنی نہیں بلکہ اس پر مسلط کی گئی ہے تاہم تہران عارضی نہیں بلکہ مکمل، جامع اور دیرپا جنگ بندی کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرے گا جو جنگ کے مکمل خاتمے کا باعث بنے، اور کسی بھی سنجیدہ جنگ بندی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ایران کا اسرائیل کی جوہری تنصیبات کے حامل شہر دیمونا پر میزائل حملہ، درجنوں زخمی عباس عراقچی نے امریکا کے کردار پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ واشنگٹن خطے میں جارحیت روکنے کے لیے تیار ہے۔ایک اہم پیشرفت میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جاپان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے پیش نظر ایران آبنائے ہرمز سے جاپانی جہازوں کے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے آمادہ ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کے تناظر میں اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے، بشرطیکہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جائے
آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2020 میں واشنگٹن کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ اور دیگر کو نشانہ بنانے کے منصوبے میں امریکا میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جب کہ ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت میں تھے۔وفاقی استغاثہ نے بتایا کہ 2024 کی سازش کے اہداف میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن اورا نکی اہلیہ بھی شامل تھے، جو اس سال ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف لڑے تھے۔ڈی او جے نے بیان میں کہا کہ آصف مرچنٹ کو ایرانی حکام کی ہدایت پر “پیسوں کے عوض قتل اور قومی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائی کا ارتکاب کرنے” کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا۔نیو یارک سٹی بورو آف بروکلین میں مقدمے کی سماعت پچھلے ہفتے شروع ہوئی تھی، جب کہ اس کے چند دن بعد ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کا حکم دیا، یہ حملہ برسوں میں خطے کی سب سے بڑی جنگ میں بدل گیا ہے۔آصف مرچنٹ نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ساتھ سازش میں شامل ہونے کا اعتراف کیا لیکن بیان حلفی دیا کہ اس نے نا چاہتے ہوئے تہران میں اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ایسا کیا۔آصف مرچنٹ نے کہا کہ اسے کبھی بھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن اس کے ایرانی ہینڈلر نے ایرانی دارالحکومت میں بات چیت کے دوران تین افراد کے نام بتائے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ ہونے سے پہلے ہی اس منصوبے کو ناکام بنا دیا، ڈی او جے نے کہا کہ آصف مرچنٹ نے اپریل 2024 میں سازش میں مدد کے لیے جس شخص سے رابطہ کیا، اس نے ان سرگرمیوں کی اطلاع دی اور خفیہ مخبر بن گیا، اس سال مرچنٹ کو گرفتار کیا گیا اور اس نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے بے قصور قرار دیے جانے کی استدعا کی۔





