ایل پی جی کی قیمت اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 550 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں ایل پی جی سرکاری طور پر مقررہ نرخ سے بھی 200 روپے زائد قیمت پر مل رہی ہے۔دریں اثنا ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالہادی خان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں سپلائی کی کمی اور ڈسٹری بیوٹرز کو مہنگا مال ملنا زائد قیمت پر فروخت کی بنیادی وجوہات ہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا اور متعلقہ امپورٹرز ایل پی جی کی زائد قیمتوں پر ہونے والی فروخت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکے ہیں جس سے بحران بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی معروف ٹی وی اداکارہ علیزے شاہ نے نوجوان اداکارہ عینا آصف کے حق میں کھل کر حمایت کا اظہار کردیا۔علیزے شاہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر عینا آصف کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں بعض سینئر فنکار نئے یا کم تجربہ کار اداکاروں کو وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں نیچا دکھانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عینا آصف اپنی نسل کی بہترین اداکاراؤں میں شامل ہیں اور غیر معمولی جذباتی ذہانت رکھتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کے رویے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں، خاص طور پر ان کے ساتھ جو شوبز کے پس منظر سے تعلق نہیں رکھتیں۔ علیزے شاہ نے عینا آصف پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمت کے ساتھ اپنے تجربات سب کے سامنے رکھے۔یاد رہے کہ عینا آصف نے حال ہی میں ایک پروگرام میں سینئر اداکاروں کے رویے سے متعلق بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ بعض مواقع پر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے یا طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی۔علیزے شاہ نے نوجوان اداکارہ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کھل کر بات کرنا دیگر نوجوان فنکاروں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب میں ایران، عالمی سیاست اور داخلی معاملات پر سخت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیک نیوز ایسا تاثر دے رہی ہے جیسے امریکا جنگ ہار رہا ہو حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے دنیا میں 8 جنگیں ختم کرائیں جبکہ ایک جنگ جیتنے کے قریب ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب مذاکرات چاہتا ہے اور بےتابی سے ڈیل کی کوشش کر رہا ہے تاہم کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی قیادت نے ڈیل سے انکار کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے جبکہ ڈیل کی صورت میں بھی داخلی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی نیوی اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا تاہم فیک نیوز اس کے برعکس تصویر پیش کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے 100 میزائلوں کو ناکام بنایا جو اہم اہداف کی طرف بڑھ رہے تھے۔
خطاب میں انہوں نے سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی پالیسیوں نے امریکا کو نقصان پہنچایا۔
امریکی صدر نے کہا کہ بی 2 بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایرانی فوجی قیادت کو شدید دھچکا پہنچا۔
داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایئرپورٹس پر امیگریشن حکام کی تعیناتی سے پروازوں میں تاخیر کا مسئلہ حل کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر نیشنل گارڈز بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے ڈیموکریٹ پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شٹ ڈاؤن کے باعث ایئرپورٹس متاثر ہوئے اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو فنڈنگ نہ ملنے سے ٹی ایس اے عملہ چھٹیوں پر چلا گیا۔
اختتام پر انہوں نے آئندہ مڈٹرم انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کا دعویٰ بھی کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاپانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ موجودہ جنگ ایران کی اپنی نہیں بلکہ اس پر مسلط کی گئی ہے تاہم تہران عارضی نہیں بلکہ مکمل، جامع اور دیرپا جنگ بندی کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرے گا جو جنگ کے مکمل خاتمے کا باعث بنے، اور کسی بھی سنجیدہ جنگ بندی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ایران کا اسرائیل کی جوہری تنصیبات کے حامل شہر دیمونا پر میزائل حملہ، درجنوں زخمی عباس عراقچی نے امریکا کے کردار پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ واشنگٹن خطے میں جارحیت روکنے کے لیے تیار ہے۔ایک اہم پیشرفت میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جاپان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے پیش نظر ایران آبنائے ہرمز سے جاپانی جہازوں کے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے آمادہ ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کے تناظر میں اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے، بشرطیکہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جائے

آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2020 میں واشنگٹن کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ اور دیگر کو نشانہ بنانے کے منصوبے میں امریکا میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جب کہ ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت میں تھے۔وفاقی استغاثہ نے بتایا کہ 2024 کی سازش کے اہداف میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن اورا نکی اہلیہ بھی شامل تھے، جو اس سال ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف لڑے تھے۔ڈی او جے نے بیان میں کہا کہ آصف مرچنٹ کو ایرانی حکام کی ہدایت پر “پیسوں کے عوض قتل اور قومی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائی کا ارتکاب کرنے” کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا۔نیو یارک سٹی بورو آف بروکلین میں مقدمے کی سماعت پچھلے ہفتے شروع ہوئی تھی، جب کہ اس کے چند دن بعد ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کا حکم دیا، یہ حملہ برسوں میں خطے کی سب سے بڑی جنگ میں بدل گیا ہے۔آصف مرچنٹ نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ساتھ سازش میں شامل ہونے کا اعتراف کیا لیکن بیان حلفی دیا کہ اس نے نا چاہتے ہوئے تہران میں اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ایسا کیا۔آصف مرچنٹ نے کہا کہ اسے کبھی بھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن اس کے ایرانی ہینڈلر نے ایرانی دارالحکومت میں بات چیت کے دوران تین افراد کے نام بتائے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ ہونے سے پہلے ہی اس منصوبے کو ناکام بنا دیا، ڈی او جے نے کہا کہ آصف مرچنٹ نے اپریل 2024 میں سازش میں مدد کے لیے جس شخص سے رابطہ کیا، اس نے ان سرگرمیوں کی اطلاع دی اور خفیہ مخبر بن گیا، اس سال مرچنٹ کو گرفتار کیا گیا اور اس نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے بے قصور قرار دیے جانے کی استدعا کی۔