وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ واضح رہے کہ ایک ہفتے کے دوران یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسرا رابطہ ہے۔ وزیر اعظم سے جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو ایک گھنٹے سے زائد تک جاری رہی جس میں دونوں لیڈران نے خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔انہوں نے ان مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 30 مارچ کو ایک اہم سفارتی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے جبکہ اس اہم اجلاس میں علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں خطے کی موجودہ صورتحال اور درپیش مشترکہ چیلنجز سرفہرست ہوں گے جن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطح اجلاس سے خطے میں تعاون کے فروغ اور اہم معاملات پر مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان دو محاذوں پر اہم کردار ادا کررہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اپنا سفارتی اور ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، ہماری یہ کاوشیں اللہ کی رضا اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ہیں۔

اسرائیل پر ایران نے کلسٹر بموں کی برسات کر دی جبکہ ایران نے کویت میں 6 امریکی بحری جہاز تباہ کرنے اور دبئی میں کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے 6 ٹیکٹیکل بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 3 سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3 میں آگ بھڑک اٹھی۔
روسی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں کے باعث اسرائیلی دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے، لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق 4 آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اور ایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ایرانی حکام نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئربیس کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں ری فیولنگ اور ایئر ٹرانسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا۔

غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی فورسز نے 21 ماہ کے جواد ابو نصار کو ان کے والد کے ساتھ اسرائیلی فورسز نے وسطی غزہ میں حراست میں لیا۔ بچے کو تقریباً 10 گھنٹے بعد ریڈ کراس کے ذریعے رہا کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے دوران حراست بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچے کے جسم کو سگریٹ سے داغا گیا اور اس کے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے، جس کے باعث وہ شدید تکلیف میں مسلسل روتا رہا۔ اسرائیلی فوج نے بچے پر زیادتی کے الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کا والد جو اب بھی لاپتہ ہے، حماس کا رکن تھا اور اس نے بچے کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس دعوے سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

متحدہ عرب امارات میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے،سڑکیں اور نشیبی علاقے پانی میں ڈوبے گئے۔خلیجی میڈیا کےمطابق شارجہ دبئی اورشمالی علاقوں میں سب سے زیادہ بارش ہوئی،بعض علاقوں میں 47ملی میٹرتک بارش ریکارڈکی گئی،دبئی گلف کلب پانی میں ڈوب گیا،طوفانی بارشوں کے دوران متعدد باربرج خلیفہ پربجلی گرگئی۔متحدہ عرب امارات کےبعض علاقوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی،امدادی ادارے سڑکوں سے پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔حکام نےاہم شاہراہوں پرحد رفتارکم کرکے 60 کلومیٹرفی گھنٹہ مقررکیا،محکمہ موسمیات کاکہنا ہےکہ طوفانی بادل العین اور الفجیرہ کی جانب بڑھ رہےہیں،شام تک موسم صاف ہونے کا امکان ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور کویت کے ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کو آج کویت کے ولی عہد، عزت مآب شیخ صباح الخالد الحمد الصباح کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ گرم جوش اور خوش گوار گفت گو کے دوران وزیراعظم نے کویت پر ہوئے حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا اور ان مشکل حالات میں کویت کے عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔وزیراعظم نے کویتی قیادت کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔کویت کے ولی عہد نے وزیراعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے موجودہ بحران میں کویت کے ساتھ پاکستان کی حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان تیار کیا جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو پاکستان نے بطور ثالث آگے بڑھایا اور ایران تک پہنچایا
انہوں نے کہا کہ اس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں کسی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ وٹکوف کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے نمائندے بہت جلد پاکستان میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔جرمن ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب تک بالواسطہ رابطے جاری رہے ہیں، تاہم اب براہ راست ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ اہم ملاقات پاکستان میں متوقع ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے،دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ملاقات کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں بیلسٹک میزائل کے ملبے کے گرنے سے ایک پاکستانی شہری سمیت مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے آنے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم اس کا ملبہ ابوظبی کے علاقے سویجان میں جا گرا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ حادثے میں متعدد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کیا گیا ہے اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ میت کو جلد پاکستان منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کم از کم تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
حالیہ کشیدگی کے دوران امارات میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 8 غیر ملکی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ فضائی دفاعی نظام میزائل حملوں کو بڑی حد تک ناکام بنا رہا ہے، تاہم ملبہ گرنے جیسے واقعات شہری علاقوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان تیار کیا جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو پاکستان نے بطور ثالث آگے بڑھایا اور ایران تک پہنچایا
انہوں نے کہا کہ اس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں کسی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ وٹکوف کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔