خیبرپختونخوا میں نسوار کی تیاری و فروخت کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا میں نسوار کی تیاری، فروخت اور استعمال کو باقاعدہ قانون کے تحت لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے لیے “نسوار ریگولیشن ایکٹ 2026” کا مسودہ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار کی جانب سے جمع کرائے گئے اس بل میں نسوار کے کاروبار پر سخت پابندیاں اور قواعد تجویز کیے گئے ہیں۔مسودہ قانون کے مطابق بغیر لائسنس نسوار کی تیاری اور فروخت کو جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں 30 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ بل میں نسوار کی فروخت صرف سیل بند پیکنگ میں کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ کھلے عام نسوار رکھنے پر بھی پابندی ہوگی اور دکاندار اسے کاؤنٹر کے پیچھے رکھنے کے پابند ہوں گے۔قانون کے تحت تعلیمی اداروں، مدارس اور ہسپتالوں کے 100 میٹر کے دائرے میں نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح 18 سال سے کم عمر افراد کو نسوار فروخت کرنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔مسودے میں آن لائن، سوشل میڈیا اور ڈیلیوری سروسز کے ذریعے نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی شق بھی شامل ہے، جبکہ نسوار کے اشتہارات، تشہیر اور مفت نمونے تقسیم کرنے پر بھی مکمل پابندی تجویز کی گئی ہے۔بل کے مطابق عوامی مقامات پر نسوار تھوکنے پر ایک ہزار روپے موقع پر جرمانہ کیا جا سکے گا، جبکہ نسوار کی پیکنگ پر تصویری وارننگ اور اجزاء کی تفصیل درج کرنا لازمی ہوگا۔مسودے میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور محکمہ صحت کے افسران کو دکانوں کی جانچ پڑتال، چھاپے مارنے اور خلاف ورزی پر دکان سیل کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مزید برآں محکمہ صحت کو نسوار کے استعمال سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔قانون میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ دوسری بار جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو جرمانے کے ساتھ قید کی سزا بھی دی جائے گی، جو 3 ماہ سے ایک سال تک ہو سکتی ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *