ایران امریکا جوہری مذاکرات میں اہم پیشکش بے نتیجہ رہی

رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ ڈیل میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اہم کردار ادا کیا اور یہ فریم ورک صدارتی منظوری کے بعد تیار کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت ایران اپنے ہائی لیول افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے پر آمادہ ہوتا جبکہ 12 سے 15 سال تک یورینیم افزودگی محدود رکھنے کی شرط بھی شامل تھی۔
اس کے بدلے ایران کو تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور معاشی پابندیوں میں نرمی دی جانا تھی۔
وائرڈ کے مطابق ابتدائی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو سیاسی طور پر حساس قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کیونکہ ایران کو بڑی مالی رعایت دینے کا تاثر امریکی سیاست میں شدید ردعمل پیدا کر سکتا تھا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *