بالی وڈ اداکارہ کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش

بالی وڈ اداکارہ سونم کپور کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔
سونم کپور نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کے ذریعے مداحوں کو اپنے گھر میں ننھے مہمان کی آمد کی خوشخبری سنائی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہمیں آج 29 مارچ 2026 کو اپنے بیٹے کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔
اداکارہ نے لکھا کہ ہماری فیملی بڑی ہوگئی ہے اور بیٹے کی آمد سے ہمارے دل بھی خوبصورت انداز میں بڑے ہوگئے ہیں۔
سونم نے مزید لکھا کہ وایو اپنے چھوٹے بھائی کا استقبال کرنے پر بہت خوش ہے اور ہم اس قیمتی نئی زندگی کی آمد سے بہت خوش ہیں جس نے ہمارے گھر کو خوشی اور وقار سے بھر دیا ہے، ہم اس نئے خوبصورت باب کے آغاز پر شکر گزار ہیں۔
واضح رہے کہ سونم کپور نے آنند آہوجا کے ساتھ مئی 2018 میں شادی کی تھی، اگست 2022 میں ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی، جوڑی نے اپنے پہلے بیٹے کا نام ’وایو‘ رکھا تھا۔

جنگجوؤں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، پوپ لیو

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جنگ کے جواز کے لیے مذہب کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں ناقابل قبول ہیں۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جو لوگ جنگ کو مذہب کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، وہ درحقیقت انسانیت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا نہیں سنتا‘، اور مذہب کو تشدد یا تباہی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی، اور کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور امن میں ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران سے متعلق جاری جنگ میں شامل مختلف فریقین کے بعض رہنما اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کا بیان ایک اہم اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذہب کو جنگ اور تصادم کے لیے استعمال کرنے کے بجائے امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

خارگ جزیرے پر قبضہ زیرِ غور، ٹرمپ کا اشارہ

صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے۔ مگر امریکی حکام کی جانب سے متعدد بریفنگز بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مبینہ طور پر زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ صدر جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز پر غور کر رہے ہیں۔
گذشتہ رات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اور اس کے جوان امریکی فوجیوں کے ’انتظار میں ہیں۔‘

مشرق وسطی پر صدر مملکت کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع

صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اہم وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، ساتھ ہی خلیجی ممالک پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکا کو چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس پر اعتماد میں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں موجود پٹرولیم ذخائر اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
شرکا کو ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر ہنگامی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیورز کو سبسڈی دینے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔

کلفٹن سپراسٹور میں آگ، 9 گھنٹے بعد بھی جاری

کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک سے متصل سپر اسٹور میں لگی آگ پر 9 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ سپراسٹور کے بیسمنٹ میں لگی ہوئی ہے، اور بیسٹمنٹ میں سپر اسٹور کا گودام ہے۔
حکام کا کہنا ہے عمارت میں آگ کو پھیلنے سے روک دیا گیا ہے، بیسمنٹ میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 15 گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔

امریکی بیانات میں تضاد، ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کے سائے گہرے

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بظاہر مذاکرات کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خلیجی ریاست کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے میں ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی کارکن ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ مختلف خلیجی ممالک نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کے جواب میں ایرانی افواج نے جنوبی اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگنے اور کیمیائی اخراج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر اسرائیل نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں تمام ممالک نے جنگ میں کمی لانے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے

نسیم شاہ کو شوکاز،این ڈی سی کا ردعمل سامنے آگیا

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی کرکٹر نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اظہارِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے،پرامن تنقید جمہوریت کا ستون ہے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے مزید کہا کہ پی سی بی کو اس معاملے میں مکمل طور پر نیوٹرل رہنا چاہیے۔نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی کارروائی ایک خطرناک حد سے تجاوز کی نمائندگی کرتی ہے جو جمہوریت کے ایک بنیادی ستون کو نقصان پہنچاتی ہے، پر امن تنقید پر کسی کو سزا دینا خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔جاری بیان کے مطابق پبلک آفس کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں، عوامی عہدہ رکھنے والے کسی فرد کو خواہ اس کا قد کچھ بھی ہو عوامی جانچ کا سامنا کرنے کی ذمہ داری سے بری نہیں ہونا چاہیے۔این ڈی سی نے مطالبہ کیا کہ کرکٹر نسیم شاہ کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے،کرکٹ بورڈ ایک قومی ادارہ ہے جو کروڑوں پاکستانیوں کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسے ایک غیر جانبدار ادارہ رہنا چاہیے۔این ڈی سے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سرکاری اداروں سے مزید مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کریں جو آزادی اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سینٹرل کانٹریکٹ اور میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کیا تھا

علیزے شاہ نے کھل کر عینا آصف کی حمایت کا اظہار کردیا

پاکستان کی معروف ٹی وی اداکارہ علیزے شاہ نے نوجوان اداکارہ عینا آصف کے حق میں کھل کر حمایت کا اظہار کردیا۔علیزے شاہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر عینا آصف کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں بعض سینئر فنکار نئے یا کم تجربہ کار اداکاروں کو وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں نیچا دکھانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عینا آصف اپنی نسل کی بہترین اداکاراؤں میں شامل ہیں اور غیر معمولی جذباتی ذہانت رکھتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کے رویے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں، خاص طور پر ان کے ساتھ جو شوبز کے پس منظر سے تعلق نہیں رکھتیں۔ علیزے شاہ نے عینا آصف پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمت کے ساتھ اپنے تجربات سب کے سامنے رکھے۔یاد رہے کہ عینا آصف نے حال ہی میں ایک پروگرام میں سینئر اداکاروں کے رویے سے متعلق بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ بعض مواقع پر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے یا طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی۔علیزے شاہ نے نوجوان اداکارہ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کھل کر بات کرنا دیگر نوجوان فنکاروں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔

وزیر اعظم کی موٹر سائیکل مالکان کو سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں، غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور دفاتر و کام کی جگہوں پر ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کے لیے مناسب مقدار موجود ہے اور حالیہ صورتحال میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔وزیراعظم کے مطابق تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 125 ارب روپے مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے فراہم کیے تاکہ عالمی کشیدگی کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں موٹر سائیکلوں اور رکشہ مالکان کو رجسٹریشن اپنے نام پر کروانے کے لیے سہولیات فراہم کریں۔ اس اقدام سے ملک بھر کے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کا ڈیٹا ڈیجیٹائز ہوگا اور مالکان مستقبل میں حکومتی ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد اور سپلائی چین کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے جبکہ اپریل کے لیے پیٹرول کی درآمد کا انتظام بھی مکمل ہے۔

زیادہ کوکنگ آئل کا استعمال خطرناک، ماہرین نے حد مقرر کر دی

گھروں میں روزمرہ کھانا پکانے کے لیے کوکنگ آئل کا استعمال معمول کی بات ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کی زیادتی صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ تیل کھانے کا ذائقہ اور خوشبو بہتر بناتا ہے اور پکانے کے عمل کو آسان کرتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال دل کے امراض سمیت کئی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہارٹ اٹیک اور دیگر قلبی مسائل میں اضافے نے بھی اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی مناسب مقدار ہر فرد کے وزن، عمر اور طرزِ زندگی پر منحصر ہوتی ہے، تاہم عمومی طور پر ایک صحت مند شخص کے لیے روزانہ تقریباً دو کھانے کے چمچ، یعنی 25 سے 30 ملی لیٹر تیل کافی سمجھا جاتا ہے۔ہفتہ وار بنیاد پر یہ مقدار 150 سے 170 ملی لیٹر کے درمیان ہونی چاہیے۔ یہ حد صرف کھانا پکانے میں استعمال ہونے والے تیل کے لیے ہے، جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور پراسیسڈ فوڈ اس میں شامل نہیں ہوتے۔زیادہ تیل کے استعمال سے جسم میں خراب کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے، جو شریانوں کی بندش، دل کے دورے اور فالج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپا، پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، اور ایک بار چربی جمع ہو جائے تو اسے کم کرنا آسان نہیں رہتا۔ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایک ہی قسم کے تیل پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف صحت بخش تیلوں کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے۔ زیتون، سرسوں، مونگ پھلی، سورج مکھی اور سویا بین کے تیل نسبتاً بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں دل کے لیے مفید چکنائیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ کولڈ پریسڈ آئل کے استعمال کو ترجیح دینے اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور تیل سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔