ایران امریکہ مزاکرات کا دوسرا دور مشاورتی عمل جاری ہے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد نے ملاقات کی۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی وزیرِ اعظم سے ملاقات کیلئے وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچے وزیراعظم ہاوس میں ہونے والی ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ملاقات میں شریک تھے۔ملاقات میں خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوءی ایرانی سفارت خانہ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی کی اسلام آباد میں دیگر آفیشلز کے ہمراہ ملاقات کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایران اور پاکستان کے درمیان علاقائی سکیورٹی اوردوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی مشیر جنرل عاصم ملک بھی شریک تھے۔ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ غریب آبادی، سفیر رضا امیری مقدم اور ترجمان وزارت خارجہ بقائی شامل تھےایران اور پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر زور دیا پاک ایران تعلقات اور سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔قبل ازیں پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کی
مظفرآباد میں منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کشمیری عوام کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کشمیری عوام نے عمران خان کی آواز پر لبیک کہہ کر مثالی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ “رجیم چینج آپریشن” کے بعد کشمیر میں مسلط شدہ ٹولے کا رویہ کشمیری روایات کے منافی ہے، تاہم یہ عناصر اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں اور قبائلیوں کے درمیان دل کا مضبوط رشتہ ہے جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ پاکستان اور کشمیر پر ایسے لوگ مسلط ہیں جو عوامی مینڈیٹ سے نہیں آئے بلکہ “ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر” اقتدار میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں عوام کو اپنے حقِ رائے دہی کی حفاظت کرنا ہوگی۔سہیل آفریدی نے عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر کشمیر اور فلسطین کا مقدمہ جرات کے ساتھ اٹھایا۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ ناحق قید میں ہیں اور تمام تر آئینی و قانونی راستوں کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ تمام جمہوری و آئینی راستے اختیار کر رہے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی۔انہوں نے اعلان کیا کہ بہت جلد بڑے پیمانے پر احتجاج کی کال دی جائے گی اور “پورا پاکستان سڑکوں پر نکلے گا”۔ ان کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو ہر چوک کو ڈی چوک بنایا جائے گا مگر اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔اجتماع سے پی ٹی آئی رہنماؤں سردار عبدالقیوم نیازی، سلمان اکرم راجہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور “حقیقی آزادی” اور عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومتی اداروں کے تقریباً 70 بینک اکاؤنٹس بند کرنے اور ان میں موجود لگ بھگ 300 ارب روپے قومی خزانے میں منتقل کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ اقدام کامقصد سرکاری مالی وسائل کو یکجاکرنااور قرضوں کی لاگت میں کمی لانا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام اسٹاف لیول معاہدے کاحصہ ہے جوگزشتہ ماہ طے پایا، اس سے قبل بھی 242 اکاؤنٹس بندکرکے تقریباً 200 ارب روپے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ میں منتقل کیے جاچکے ہیں۔
وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً 250 مزید نان سیونگ اکاؤنٹس بندکرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن میں تقریباً 400 ارب روپے موجودہیں، پہلے مرحلے میں وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں کے 70 اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کامؤقف رہاہے کہ مختلف سرکاری ادارے نجی بینکوں میں رقوم رکھ کرمنافع کماتے ہیں،جبکہ وہی رقم بعد ازاں حکومت کو زیادہ شرح سود پرقرض دی جاتی ہے، تاہم وزارت خزانہ نے خودمختار اداروں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیارکرتے ہوئے کہاہے کہ مکمل پابندی انکی مالی خودمختاری متاثرکرسکتی ہے۔
دوسرے مرحلے میں وزارتیں اورڈویژنز اپنے سیونگ اکاؤنٹس بھی بندکرینگی، تاہم خودمختار اداروں کو جزوی استثنادیے جانے کاامکان ہے،خاص طور پر وہ ادارے جو وفاقی بجٹ سے فنڈز نہیں لیتے،ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی تشویش کااظہارکیا ہے کہ تقریباً 200 سرکاری ادارے اور ریگولیٹری باڈیز ایک کھرب روپے سے زائد رقم نجی اکاؤنٹس میں رکھے ہوئے ہیں، جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے۔
لاہور میں اپنے 3 بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمہ کو 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
لاہورکے علاقے اچھرہ میں ماں نے تین معصوم بچوں کا بے دردی سے قتل کیا اور پھر الزام اپنے سسرالیوں پر لگانے کی کوشش کی، تاہم سفاک ماں کا ڈرامہ تفتیش کے دوران بے نقاب ہوگیا۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ملزمہ کتنی پُر اعتماد ہے، جائے واردات پر کہتی ہے بلڈ پریشر کم ہو گیاہے، رات بھی کم ہوا تھا، ڈرپ لگوائی تھی، بچے زندہ تھے، گھر کو تالہ لگا کر باہر گئے، اندر کوئی نہیں آیا، بچے قتل کیسے ہو ئے، نہیں معلوم۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ملزمہ کتنی پُر اعتماد ہے، جائے واردات پر کہتی ہے بلڈ پریشر کم ہو گیاہے، رات بھی کم ہوا تھا، ڈرپ لگوائی تھی، بچے زندہ تھے، گھر کو تالہ لگا کر باہر گئے، اندر کوئی نہیں آیا، بچے قتل کیسے ہو ئے، نہیں معلوم۔
پولیس حکام کے مطابق سی ڈی آر سے بھی حقائق سامنے آ گئے، ملزمہ 5 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے اور تفتیش جاری ہے۔
تفتیشی ذرائع نے کہا کہ ردا نے دوران تفتیش اپنے شوہر پر بھی الزامات لگا دئیے، میرا خاوندمجھے غیر مردوں سے فون پر بات کرنے کو کہتا تھا، رمضان مجھے غیر مردوں سے فون پر پیسے مانگنے کو بھی کہتا۔
ملزمہ ردا نے تفتیش میں الزام لگایا کہ شہر یار سے رابطے کا بھی میرے شوہر کو علم تھا، اپنے خاوند کے کہنے پر ایک پیر سے بھی رابطہ کیا تھا، شوہر کا رویہ پسند نہیں تھا اسی لیے اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی، بچوں کو میرے میکے والے بھی رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے، خاوند سے طلاق لینے کے بعد بچوں کو کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا۔
ترجمان پولیس نے کہا کہ ملزمہ ردا سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے، مزید تفتیش کے بعد ہی کیس بارے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
بعد ازاں تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت ملزمہ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ تفتیش کے لیے منظور کرتی ہے، تفتیشی افسر خاتون ملزمہ سے خواتین پولیس اسٹیشن میں خاتون افسر کی موجودگی میں تفتیش کرے، تفتیشی افسر قانون میں موجود لیگل فارمیلٹیز پوری کرے۔ 29 اپریل کو ملزمہ سے ہونے والی تفتیش کی رپورٹ عدالت پیش کی جائے۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک دفعہ پھر بڑا اضافہ کردیا اور پیٹرولیم مصنوعات فی لیٹر 26 روپے 77 پیسے مہنگی ہوگئیں۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے اگلے 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 26 روپے 77 پیسے اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 380 روپے 19 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔
اسی طرح پیٹرول بھی 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا گیا ہے اور پیٹرول کی نئی قمیت فی لیٹر 393روپے 33 پیسے ہوگئی ہے۔
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 25 اپریل سے ایک ہفتے کے لیے ہوگا۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہو رہا ہے، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ اور عالمی شراکت داروں سے معاہدوں کی وجہ سے حکومت کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ منتقل کرنے کے لیے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر آئندہ ہفتے کے لیے ڈیزل کی قمیت میں 26.77 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 26.77 روپے کا اضافہ کیا جارہا ہے، جس قدر ممکن ہوا، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو برداشت کیا۔
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتوں نے عوام کو تاریخی ریلیف پیکیج دیا، دعاگو ہیں کہ جلد علاقائی امن کے حصول میں پیش رفت ہو اور عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ اور بے گھر افراد کو مفت پلاٹس دینے کے بعد اب بے روزگار افراد کے لیے ’’اپنا کھیت اپنا روزگار‘‘ اسکیم شروع کر دی ہے، جس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔عظمیٰ بخاری کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ فلیگ شپ پروگرام پنجاب میں زرعی انقلاب لائے گا اور اس سے ہزاروں افراد مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت پنجاب حکومت زمین کے ساتھ 50 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک گرانٹ بھی فراہم کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں بے زمین دیہاتیوں کو 160 ارب روپے مالیت کی اراضی دی جا رہی ہے، جو صرف کاشتکاری کے لیے استعمال ہوگی۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز دعوے نہیں بلکہ عملی کام کرتی ہیں، کسانوں کو کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر، سپر سیڈر اور ٹیوب ویل سولرائزیشن جیسی سہولتیں دی گئی ہیں، جس کے باعث پنجاب میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ مریم نواز کسان دوست اور زراعت دوست وزیراعلیٰ ہیں اور زراعت کا شعبہ ان کی اولین ترجیح ہے
وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے تاہم بورڈ کے اگلے ہفتے کے اجلاس میں کے شیڈول میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے 4 مئی تک کے لیے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس میں پاکستان سے متعلق اجلاس بلانے کی تاریخ کا فی الحال تعین نہیں کیا گیا تاہم وزارت خزانہ پر امید ہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے
حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 27-2026ء کے بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف 5.1 فیصد جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف ساڑھے 15 ہزار ارب روپے سے زائد مقرر کیے جانے کا امکان ہے، دوسری جانب آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے شرح نموہدف سے کم رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے موصول ہوئی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور قابل عمل تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کے لیے حتمی شکل دی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آئی ایم ایف پروگرام میں طے شدہ بینچ مارکس اور شرائط کے مطابق تیار کیا جارہا ہے اور آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اگلے ماہ پاکستان آئے گا جس میں بجٹ تجاویز پر تفصیلی مشاورت کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔وقع ہے کہ جون کے پہلے عشرے اگلے مالی سال کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 5.1 فیصد رکھنے کی تجویز ہے جو کہ رواں مالی سال 4.2 فیصد مقرر ہے۔اسی طرح اگلے مالی سال ٹیکس ہدف ساڑھے 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے جو کہ رواں مالی سال کے لیے 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر ہے اور ہدف پر نظرثانی کے باوجود ایف بی آر کو 9 ماہ میں 610 ارب روپے خسارہ ہوا اس سال جون تک انکم ٹیکس ریٹرن میں مزید 10 لاکھ اضافے کا ہدف ہے اگلے سال مارچ تک گوشواروں میں مزید ساڑھے 7 لاکھ اضافہ کیا جائے گا۔
وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سےمتعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی۔ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی بڑھنےکی سالانہ شرح 13.98 فیصد پرپہنچ گئی جب کہ گزشتہ ہفتے تک ملک میں مہنگائی بڑھنےکی سالانہ شرح 12.16 فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتےمیں 19 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جب کہ حالیہ ہفتے 9 اشیاء سستی اور 23 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ایک ہفتے میں آلو 3.13 فیصد مہنگے ہوئے،بریڈ 0.91،کوکنگ آئل 0.69 فیصد بڑھے ، اس کے علاوہ انڈے، مٹن، چکن اورگھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔حالیہ ہفتے ٹماٹر 27.65 اور پیاز 9.35 فیصد سستےہوئے جب کہ ڈیزل، ایل پی جی، آٹا اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پرمہنگائی میں 0.33 فیصد کی کمی ہوئی۔
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو تاحیات مراعات دینے سے متعلق قانون واپس لے لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں تنخواہوں اور استحقاق ایکٹ میں اسپیکر کو مختلف مراعات دینے کے لیے ترامیم کی گئی تھیں۔مجوزہ ترامیم کے تحت اسپیکر کو سبکدوش ہونے کے بعد گریڈ 17 کا ایک آفیسر، معاون عملہ، ڈرائیور، باورچی اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اس ایکٹ کی شق 20 پر اعتراضات اٹھائے گئے، جس کے بعد خیبرپختونخوا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر تنخواہوں اور استحقاق ایکٹ سے شق 20 کو ختم کر دیا گیا










