وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جمعے کو قیمتوں کا دوبارہ تعین کریں گے۔وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا ایران مذاکرات کے دوران نائب وزیر اعظإ، فیلڈ مارشل اور محسن نقوی کا اہم کردار رہا، فیلڈ مارشل نے ہمت نیں ہاری، اسحاق ڈار بھی اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں رہے، 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے مذاکرات کا دور شروع ہوا، 11 اپریل کو مذاکرات کا سیشن 11 گھنٹے چلا۔شہباز شریف نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی، عباس عراقچی نے کہا کہ وہ اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے، دعا گو ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہو اور امن بحال ہو۔انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، پرسوں آنے والے جمعے کو قیمتوں کا دوبارہ تعین کریں گے، یہ بہت چیلنجنگ صورتحال ہے، ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دن رات محنت کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کی سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔وزیراعظم نے ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب صورتحال تسلی بخش دکھائی دے رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ہمارا ہفتہ وار جنگ سے پہلے تیل کا بل 300 ملین ڈالر کے لگ بھگ تھا اور آج یہ 800 ملین ڈالر تک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی ایندھن کی کھپت پچھلے ہفتوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، صورتحال کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے پاکستان میکرو اکنامک محاذ پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا، جنگ کے ساتھ، ہماری دو سال کی کوششوں کو دھچکا لگا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں حالیہ نظام کے تحت ہونے والی طوفانی بارشوں سے تباہی مچ گئی۔ مشتی میلہ کے مقام پر موسلادھار بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں کے باعث درجنوں دکانیں اور مکانات پانی میں بہہ گئے جبکہ راستے میں آنے والی متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی زد میں آگئیں۔دوسری جانب، لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی آج صبح کے وقت بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ چترال، دیر بالائی اور زیریں، باجوڑ، سوات، بونیر، مالاکنڈ، شانگلہ، کوہستان کے اضلاع میں موسم جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں و گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔تورغر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، خیبر، مہمند، کرم، اورکزئی اور وزیرستان کے اضلاع میں بھی مطلع جزوی ابرآلود رہنے کے علاوہ تیز ہواوُں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔صوبے کے بیشتراضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم جزوی ابرآلود رہا۔پشاور، نوشہرہ، مردان، کوہاٹ، چترال، سوات، زیریں دیر، مہمند اور کوہستان کے اضلاع میں بھی چند مقامات پر تیز ہواوُں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ اس دوران صوبے کے میدانی علاقوں میں تیز گرد آلود ہوائیں بھی چلیں، پشاور میں زیادہ سے زیادہ ہوا کی رفتار 37 کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ ہوئی۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گزشتہ روز چراٹ 18، کالام 11، چترال 9، پشاور (سٹی04، اے/پی 01)، مہمند ڈیم 4، تخت بھائی 3، میرکھنی، دروش، اور پتن میں 2، 2، تیمرگرہ میں 1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں انہیں مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق تفتیشی ادارے کی جانب سے بینکنگ کورٹ میں جمع کرائے گئے چالان میں عمران خان کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر افراد کو بھی کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے چالان کی جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔اُدھر ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کل کے لیے مقرر کی گئی ہے، جہاں چالان سے متعلق مزید کارروائی متوقع ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا موثر راستہ ہے۔یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس کی قیادت میں آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہزاروں سال پر محیط مشترکہ تاریخ اور ثقافتی رشتے موجود ہیں، افغانستان کی جنگ کے اثرات سے خیبر پختونخوا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ہیں جن کا مؤقف واضح ہے کہ جنگ اور فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں، موجودہ صورتحال کی وجہ سے خیبر پختونخوا کا افغانستان کے ساتھ سالانہ 10 ارب روپے سے زائد کا تجارتی حجم شدید متاثر ہوا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق نصاب اور کورسز میں اصلاحات کر رہی ہے، عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں تعلیم کا بجٹ کئی گنا بڑھایا گیا ہے اور تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انٹرمیڈیٹ سطح پر یتیموں اور طالبات کو مفت تعلیم کی فراہمی کے لیے ایجوکیشن کارڈ متعارف کرایا گیا ہے۔اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ووکیشنل اسکلز ترجیحی شعبہ جات ہیں، سینٹر آف ایکسی لینس مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک جدید ماڈل ہے۔ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے یورپی وفد کا خیر مقدم کیا اور سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام میں یورپی یونین کے تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کے حکام بھی موجود تھے

وزیراعظم شہبازشریف اپنا گھر پروگرام کے تحت تاریخی پیکج کا اعلان آج کریں گے۔گھر کی خریداری کے لیے ایک کروڑ روپے 20 سال کی مدت کے لیے فراہم کیے جا سکیں گے۔
پیکج کے تحت 25 لاکھ، 50 لاکھ، 75 لاکھ یا پھر 1 کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکے گا۔ پہلے دس برس میں 5 فیصد فکسڈ مارک اپ اور اگلے دس برس میں نارمل مارک اپ ہو گا۔
25 لاکھ قرض لینے والے افراد کو ماہانہ 16 ہزار 499 روپے ماہانہ واپس قسط ادا کرنا ہو گی۔ 50 لاکھ قرض لینے والے افراد کو ماہانہ 32 ہزار 997 روپے ماہانہ واپس قسط ادا کرنا ہو گی۔
75 لاکھ قرض لینے والے افراد کو ماہانہ 49 ہزار 497 روپے ماہانہ واپس قسط ادا کرنا ہو گی۔ 1 کروڑ قرض لینے والے افراد کو ماہانہ 65 ہزار 996 روپے ماہانہ واپس قسط ادا کرنا ہو گی۔
گھر کےلیے قرض حاصل کرنے کیلئے شناختی کارڈ ہولڈرز اور پہلے سے مقروض نہ ہونا شرط ہے، قرض کی رقم سے دس مرلہ پلاٹ کی خریداری یا دس مرلہ بنا ہوا گھر خریدا جا سکے گا۔
90 فیصد فنانسنگ حکومتی اسکیم کے تحت اور دس فیصد انفرادی طور پر کرنا ہو گی۔ اسلامک و کمرشل بینک، مائیکروفنانس بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی سے قرض مل سکے گا۔
قرض حاصل کرنے کے لیے کوئی فیس یا پیمنٹ سے قبل کوئی ادائیگی کرنا شرط نہیں ہو گی، اسٹیٹ بینک اور پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن کی جانب سے منصوبے کی مانیٹرنگ ہو گی۔
گھر کےلیے قرض حاصل کرنے کےلیے آن لائن درخواست دینا ہو گی، آن لائن درخواست دینے کے بعد قرض کےلیے حتمی منظوری تک ایک ماہ کا وقت لگے گا۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کر دی ہے۔
وفاقی پاور ڈویژن کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نیپرا کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کو لائسنس اور فیس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی حکومت کے پاور ڈویژن نے نیپرا کو ہدایت دی تھی کہ 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کی جائے۔
سنہ 2015 کے سابقہ ضوابط کے تحت 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کی ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن تنصیبات کے لیے نیپرا سے لائسنس درکار نہیں ہوتا تھا۔ اس حوالے سے درخواستیں براہِ راست بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے بغیر کسی فیس کے نمٹائی جاتی تھیں، جو گھریلو صارفین کے لیے ایک اہم مالی سہولت تھی۔
تاہم، نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت منظوری کا اختیار نیپرا کے پاس منتقل کر دیا گیا تھا، اور کم صلاحیت کے سولر سسٹمز پر بھی درخواست فیس عائد کر دی گئی تھی۔
پاور ڈویژن کے مطابق، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس ریگولیٹری تبدیلی کی نشاندہی کی تھی اور نیپرا سے درخواست کی تھی کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے نظام کے لیے سابقہ منظوری کے طریقہ کار کو برقرار رکھا جائے۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا جس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان ہے۔وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی 1468 ارب روپے کے ہدف سے زیادہ وصول ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت لیوی مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔آئی ایم ایف نے حکومت پر سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ حکومت نے معیشت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کشیدگی کی وجہ سے معاشی خطرات برقرار ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی نظم و ضبط جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے

‏پی آئی اے نجکاری میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی، عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 100 فیصد شیئرز خرید لیے۔ترجمان پی آئی اے کنسورشیم کے مطابق عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے مزید 25 فیصد شیئرز کے لیے رقم جمع کروا دی، معاہدے کے تحت 45 ارب روپے کی بینک گارنٹی بھی جمع کروا دی گئی۔عارف حبیب کنسورشیم کے پاس پی آئی اے کے 25 فیصد شیئرز کی خریداری کا آپشن موجود تھا جبکہ انہوں نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز پہلے ہی خریدے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے مئی میں پی آئی اے کا کنٹرول سنبھالنے کی توقع ہے۔عارف حبیب کنسورشیم فوجی فرٹیلائزرز، لیک سٹی اور فاطمہ گروپ پر مشتمل ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ، سٹی اسکول اور اے کے ڈی بھی کنسورشیم کا حصہ ہیں

جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ٹرانسفر کرنے کی منظوری دے دی۔۔اجلاس میں جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ٹرانسفر کرنے کی منظوری دے دی۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ کثرت رائے سے کیا گیا۔دریں اثنا جوڈیشل کمیشن اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی پانچ ججوں کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلہ پر غور ہوگا۔اجلاس میں شرکت کے لیے ممبر جوڈیشل کمیشن بیرسٹر گوہر علی خان بھی سپریم کورٹ پہنچے، پی ٹی آئی کے دونوں ممبران اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے ، جبکہ 27ویں ترمیم سے پہلے وہ اجلاسوں کا بائیکاٹ کرتے رہے تھے۔اجلاس میں شرکت سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان میں سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر سے پہلے واضح رولز بننے چاہیں اور بغیر ٹھوس وجوہات کے ججز کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں جو مطالبات اٹھائے ہیں وہ درست ہیں اور ججز ٹرانسفر کے لیے شفاف اور مضبوط بنیادیں ضروری ہیں۔صحافی کے سوال پر کہ کیا پی ٹی آئی اور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی ایک ہی مؤقف پر ہیں، علی ظفر نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے موقف کے ساتھ ہیں کہ اس معاملے میں اصولی طریقہ اپنایا جانا چاہیے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے ٹرانسفر سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل اہم پیش رفت سامنے آئی جب کہ ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام بطور سربراہ جوڈیشل کمیشن خط لکھ دیا جس میں انہوں نے ٹرانسفر کے معاملے پر انہیں ذاتی طور پر سنے جانے کی استدعا کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر کے معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل کمیشن کے اجلاس میں انہیں سنا جائے۔ واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار کا نام بھی آج ٹرانسفر کے لیے زیر غور ججز میں شامل ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ٹرانسفر سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے نام زیر غور آئیں گے۔ اس کے علاوہ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ٹرانسفر ججز کے لیےاجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی، تاہم چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے 5 ممبران کی ریکوزیشن پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی طبعیت ناسازی کے باعث آج چھٹی پر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی اے ٹریبیونل کے ممبر فنانس کی عدم تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر 18 مئی تک ممبر فنانس تعینات نہ کیا گیا تو وزیراعظم پاکستان کو خود عدالت میں پیش ہونا ہوگا اور وضاحت دینا ہوگی کہ تعیناتی کیوں نہیں کی گئی۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکریٹری اور سیکرٹری کابینہ بھی پیش ہوں۔سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایک ریٹائرڈ جج کو ٹریبیونل کا ممبر تعینات کیا گیا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ ججز نے زیادہ بیڑا غرق کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ججز کو ٹریبونلز میں جانے کا زیادہ شوق ہے، رات کو ان کو سیلوٹ یاد آتے ہیں تو وہ سونے نہیں دیتے، کسی کا دل چاہتا ہے تو این آر سی میں لگ جاتا ہے تو کوئی کسی اور ٹریبیونل میں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے بعد تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سماعتوں سے وفاقی حکومت اس تعیناتی کے لیے وقت مانگ رہی ہے، لہٰذا اسے ایک آخری موقع دیا جا رہا ہے۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر ممبر فنانس تعینات نہ ہوا تو سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری قانون بھی پیش ہوں اور تعیناتی میں حائل رکاوٹوں کی وضاحت کریں۔ حکمنامے کے مطابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ تعیناتی کی سمری پر حکومت نے اعتراضات لگا کر واپس بھیج دی ہے۔یہ ٹربیونل ٹیلی کمیونیکیشن اپیلٹ ٹربیونل ایکٹ 2024 کے تحت قائم کیا گیا تھا جس کا نوٹیفکیشن 28 ستمبر 2024 کو جاری ہوا، جبکہ عدالت نے مزید سماعت 18 مئی تک ملتوی کر دی۔