وفاقی آئینی عدالت نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم شدہ دفعات بحال کر دیں اور حکومتی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا یہ ڈنکی لگا کر جانے والوں کا کیس ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا فرحان علی نامی شہری غیرقانونی طور پر ایران گیا جہاں سے ڈی پورٹ ہوا تھا، غیرقانونی اقدامات پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کیا گیا، پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام کی شمولیت اور پاسپورٹ غیرفعال ہونا چیلنج کیا گیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا یہ خود باہر جانے والا تھا یا لوگوں سے پیسہ لے کر اٹلی بھیجتا تھا؟ ایف آئی اے نے اب تک کیا تفتیش کی ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے معلومات نہیں لیں۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے رول تین اور دس کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی
پنجاب اسمبلی نے 18 سال سے کم عمری میں شادی پر پابندی کا بل کثرت رائے سے مںظور کرلیا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیربرائے پارلیمانی امور نے دی پنجاب میرج ریسٹرنٹ ترمیمی بل 2026 پیش کیا جس کو ایوان نے بحث کے بعد کثرت رائے سے منظور کرلیا۔بل میں پنجاب بھر لڑکیوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔کم عمری میں شادی کے بل پر حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 18سال سے پہلے شادی کےلئے عدالت سے اجازت لینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے چار شادی کی اجازت دی تو کرلیں، اگر کسی کا بچہ یا بچی اٹھارہ سال سے پہلے شادی کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ پہلے زنا کرے یا لواطت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہ سال سے پہلے شادی کرنے والا عدالت سے اجازت لے، بل کو اقدار سے اوپر نہ لے جائیں، کیسا معاشرہ ہے بچہ کے ساتھ زیادتی ہو اور پھر اسے قتل کردیا جائے۔وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے حکومتی رکن کے اعتراض پر کہا کہ چھوٹی بچیوں کوپتہ نہیں ہوتا کہ ان کی شادیاں ہو رہی ہیں، اسلامی شریعت کورٹ نے سندھ اسمبلی کے بل کی حوصلہ افزائی کی، کوئی فرقہ کہتا ہے میرے مطابق شادی تیراں تو ہوئی چودہ سالہ بچی کے جوان ہونے کی بات کرتا ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ذہنی و جسمانی پختگی برابر ہونی چاہیے کوئی کام کرنا ہے تو آئی ڈی کارڈ چاہیے لیکن اگر شادی کرنی ہے تو اجازت چاہیے، اگر کوئی نوجوان وقت سے پہلے جوان ہوگیا تو وہ شادی کا انتظار کرے نہ کہ وہ کوئی گناہ کرے۔انہوں نے کہا کہ قتل کرے گا کوئی تو ونی چڑھے گی بچی، گناہ کو دھونے اور گناہ چھپانے کیلئے ایک بچی چاہیے، تو پھر آپ اجازت دیدیں دس دس سال کی چار بیویوں کی اجازت دیدیں، جو بھی قوانین کے ذریعے یا رواج کے ذریعے قربانیوں کو بند کردیں، کیا ہر مرد کی سزا بچی کو بھگتنی ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن والے مہاتما ہیں شادی کےلئے اگر شناختی کارڈ نہیں تو برتھ سرٹیفکیٹ ہونے چاہیں، شہبازشریف دور میں شادی کےلیے سولہ سال عمر تھی جسے اب اٹھارہ سال کیا جا رہا ہے
عارف والا کے نواحی گاؤں 133 ای بی میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں گھر داماد نے 6 لاکھ کی خاطر اپنی ہی ساس کے ٹکڑے کر دیے۔پولیس کے مطابق اکرام نے اپنی ساس کے ٹکڑے کر کے 6 ماہ قبل صندوق میں ڈال کر کھیتوں میں دفن کر دیا۔اکرام کی ساس بشریٰ بی بی نے چھ ماہ قبل 6 لاکھ کی بھینس فروخت کی تھی اور اکرام ساس سے چھ لاکھ روپے مانگتا تھا کہ وہ پیسے مجھے دے دو لیکن ساس کے انکار پر اکرام نے گھناؤنا قدم اٹھایا۔ ساس کو قتل کرنے کے بعد اکرام نے ساس کی گمشدگی کا ڈرامہ رچایا۔پولیس نے بشریٰ بی بی کے اغواء کا مقدمہ بھی درج کر رکھا تھا، ملزم نے قتل کے بعد 6 لاکھ بھی چوری کرنے اعتراف کیا۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر اکرام کو گرفتار کیا تو تفتیش میں سچ سامنے آگیا۔پولیس نے ملزم کی نشان دہی پر لاش برآمد کر کے کارروائی شروع کر دی، وقوعہ کے روز ملزم اکرام کی بیوی کھیتوں میں کام کرنے گئی ہوئی تھی۔
مئی کے مہینے میں پاکستانیوں کو چھٹیاں ہی چھٹیاں ملنے والی ہیں۔ اس حوالے سے کہیں 11 اور کہیں 19 تعطیلات کے اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔چھٹی سے شروع اور چھٹی ہی پر ختم ہونے والا مئی 2026 پاکستانی عوام کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ سرکاری تعطیلات، ویک اینڈز اور عید الاضحیٰ کی ممکنہ چھٹیوں کو ملا کر طویل تعطیلات کا سلسلہ بننے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔یہ مہینہ نہ صرف ملازمین بلکہ طلبہ اور کاروباری طبقے کے لیے بھی خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ تعطیلات کی تعداد عام مہینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دکھائی دے رہی ہے، جس نے عوامی دلچسپی میں اضافہ کر دیا ہے۔ایسے ادارے جہاں موجودہ کفایت شعاری مہم کے دوران جمعہ کو چھٹی دی جا رہی ہے، اس لحاظ سے مئی میں 19 چھٹیاں مل سکتی ہیں جب کہ جمعہ کی چھٹی کو ہٹا دیا جائے تو اگلے ماہ گیارہ چھٹیاں ملیں گی۔ بیشتر اداروں میں جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے عملاً دفتر نہ جانے کو ایک طرح سے چھٹی ہی سمجھا جا رہا ہے۔ماہ مئی کا آغاز یکم مئی بروز جمعہ یومِ مزدور کی سرکاری تعطیل سے ہوگا، جو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی محنت کش طبقے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔اس سرکاری چھٹی کے فوراً بعد ہفتہ اور اتوار یعنی 2 اور 3 مئی کی ویک اینڈ تعطیلات آ رہی ہیں، جس کے باعث مہینے کے آغاز ہی میں مسلسل 3 دن کا بریک دستیاب ہوگا۔اسی طرح مئی کے دوسرے ہفتے میں 8، 9 اور 10 مئی کو بھی جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات ایک ساتھ آ رہی ہیں، جو ملازمین کے لیے مزید ایک مختصر مگر کارآمد وقفہ ثابت ہو سکتی ہیں۔تیسرے ہفتے میں 15، 16 اور 17 مئی کو بھی یہی صورتحال برقرار رہے گی، جہاں ویک اینڈ کی مسلسل چھٹیاں معمول کی زندگی میں وقفہ فراہم کریں گی اور لوگوں کو ذاتی مصروفیات کے لیے وقت ملے گا۔چوتھے ہفتے میں 22، 23 اور 24 مئی کی تعطیلات بھی اسی طرز پر ترتیب دی گئی ہیں، جس کے باعث پورے مہینے میں تقریباً ہر ہفتے تین دن کا بریک دیکھنے کو مل رہا ہے۔ماہ مئی کی سب سے بڑی توجہ عیدالاضحیٰ کی ممکنہ تعطیلات پر مرکوز ہے، جو اس بار مئی کے آخری عشرے میں آنے کی توقع ہے اور اس کے باعث طویل چھٹیوں کا سلسلہ بن سکتا ہے۔عید الاضحیٰ کی حتمی تاریخ کا انحصار ذوالحجہ کے چاند کی رویت پر ہوگا، جس کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 17 مئی کو ہونے کا امکان ہے اور اگر ذوالحجہ کا چاند 17 مئی کو نظر آ جاتا ہے تو عید الاضحیٰ 27 سے 29 مئی تک منائی جا سکتی ہے، جس کے ساتھ ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں شامل ہو کر طویل بریک بنائیں گی۔دوسری صورت میں اگر چاند نظر نہ آیا اور مہینہ 30 دن کا مکمل ہوا تو عید 28 سے 30 مئی تک ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ 31 مئی بروز اتوار کی چھٹی بھی شامل ہو جائے گی۔ ان دونوں ممکنہ صورتوں میں عوام کو کم از کم 3 سے 5 دن کی مسلسل چھٹیاں میسر آ سکتی ہیں، جو سفر اور تفریح کے لیے بہترین موقع فراہم کریں گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر حکومت 25 مئی بروز پیر کو بھی اضافی تعطیل دے دیتی ہے تو 23 اور 24 مئی کے ویک اینڈ کے ساتھ ملا کر ایک طویل ترین بریک تشکیل پا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کو تقریباً ایک ہفتے تک مسلسل تعطیلات ملنے کا امکان ہوگا، جو حالیہ برسوں میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔مجموعی طور پر اگر پورے مہینے کی تعطیلات کو شمار کیا جائے تو مئی 2026 میں 11 سے لے کر 19 دن تک چھٹیاں بننے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ایک ریکارڈ ہوگ
پشاور: خیبرپختونخوا میں نسوار کی تیاری، فروخت اور استعمال کو باقاعدہ قانون کے تحت لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے لیے “نسوار ریگولیشن ایکٹ 2026” کا مسودہ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار کی جانب سے جمع کرائے گئے اس بل میں نسوار کے کاروبار پر سخت پابندیاں اور قواعد تجویز کیے گئے ہیں۔مسودہ قانون کے مطابق بغیر لائسنس نسوار کی تیاری اور فروخت کو جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں 30 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ بل میں نسوار کی فروخت صرف سیل بند پیکنگ میں کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ کھلے عام نسوار رکھنے پر بھی پابندی ہوگی اور دکاندار اسے کاؤنٹر کے پیچھے رکھنے کے پابند ہوں گے۔قانون کے تحت تعلیمی اداروں، مدارس اور ہسپتالوں کے 100 میٹر کے دائرے میں نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح 18 سال سے کم عمر افراد کو نسوار فروخت کرنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔مسودے میں آن لائن، سوشل میڈیا اور ڈیلیوری سروسز کے ذریعے نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی شق بھی شامل ہے، جبکہ نسوار کے اشتہارات، تشہیر اور مفت نمونے تقسیم کرنے پر بھی مکمل پابندی تجویز کی گئی ہے۔بل کے مطابق عوامی مقامات پر نسوار تھوکنے پر ایک ہزار روپے موقع پر جرمانہ کیا جا سکے گا، جبکہ نسوار کی پیکنگ پر تصویری وارننگ اور اجزاء کی تفصیل درج کرنا لازمی ہوگا۔مسودے میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور محکمہ صحت کے افسران کو دکانوں کی جانچ پڑتال، چھاپے مارنے اور خلاف ورزی پر دکان سیل کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مزید برآں محکمہ صحت کو نسوار کے استعمال سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔قانون میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ دوسری بار جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو جرمانے کے ساتھ قید کی سزا بھی دی جائے گی، جو 3 ماہ سے ایک سال تک ہو سکتی ہے۔
پورٹ کے مطابق اسلام آباد میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جھٹکے کچھ سیکنڈ تک محسوس ہوتے رہے، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق 27 اپریل 2026 کو صبح 11 بج کر 46 منٹ پر آنے والے زلزلے کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی، جس کی گہرائی تقریباً 170 کلومیٹر تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان-تاجکستان سرحدی علاقہ میں واقع تھا، جبکہ اس کے جھٹکے اسلام آباد، سوات، شانگلہ اور بونیر میں بھی محسوس کیے گئے۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زلزلہ گہرائی میں ہونے کے باعث اس کے اثرات وسیع علاقے میں محسوس ہوئے، تاہم اس نوعیت کے زلزلے عموماً سطح پر کم نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
شہریوں میں وقتی خوف و ہراس ضرور پھیلا، لیکن فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی
امریکی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں باصلاحیت اور قابل احترام شخصیات ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ ممکنہ جنگیں رکوا دیں جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی شامل تھی۔
ان کے مطابق یہ تنازع خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا اور جوہری تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران 11 طیارے بھی تباہ ہوئے تاہم بروقت سفارتی مداخلت کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
ٹرمپ کے بقول پاکستان کی قیادت نے بھی اس عمل کو سراہا اور اسے لاکھوں جانیں بچانے کے مترادف قرار دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی اور جلد معاملات کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔
انہوں نے ایران کو براہ راست رابطے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران سنجیدہ ہے تو فون کے ذریعے بھی بات چیت ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اندر مختلف سوچ رکھنے والے عناصر موجود ہیں، کچھ بات چیت کے حق میں ہیں جبکہ کچھ سخت مؤقف رکھتے ہیں تاہم امید ہے کہ دانشمندی کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ٹرمپ نے واضح کیا کہ افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کا اہم حصہ ہے اور امریکہ اس پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔
عالمی طاقتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے چین کے کردار کو بہتر قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ بیجنگ مزید مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب دفاعی اتحاد نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر نیٹو نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا جبکہ بعد میں برطانیہ کی جانب سے تعاون کی پیشکش کو انہوں نے غیر مؤثر قرار دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے واشنگٹن ڈی سی میں کوریسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ واقعے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر آصف زرداری نے فائرنگ کے واقعے میں صدرڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ کےمحفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ کا واقعہ دہشتگردی کی گھناؤنی شکل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائےکم ہے۔
قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے تشویشناک واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء خیریت سے ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے نوشکی میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ٹارگٹڈ آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے پانچ اہم کمانڈرز کو ہلاک کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے نوشکی میں دہشت گردی کا منصوبہ بنایا ہے اور اس مقصد کیلئے نوشکی کے نواحی علاقے میں اپنے ٹھکانے میں موجود ہے جس پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کو دیکھتے ہی جدید خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی تاہم فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الہندوستان کے 5 اہم کمانڈرز ہلاک ہو گئے۔
سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مسمار کر کے بھاری تعداد میں اسلحہ، راکٹ لانچرز، بم ، دھماکہ خیز مواد اور مواصلاتی آلات قبضے میں لے لیے، مارے جانے والے دہشت گرد سیکورٹی فورسز اور پولیس پر حملوں میں ملوث تھے
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی کرنے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے کا اعلان کردیا گیا۔صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھر کے ٹرانسپورٹرز اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں ٹرانسپورٹرز بے روزگاری کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے بار بار درخواست کی جا رہی ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے تو کم از کم ٹول ٹیکس سمیت دیگر اضافی ٹیکسز کو ختم کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کچھ ریلیف مل سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ موٹروے پولیس، ٹریفک پولیس اور دیگر اداروں کے تمام چالان ختم کیے جائیں اور ود ہولڈنگ ٹیکس میں بھی ریلیف دیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی ناکافی ہے جبکہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹرز کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔










