پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئین کے تحفظ اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے جلسے جلوس کرنے کااعلان کر دیا۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی ، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ، اسد قیصر ، سردار لطیف کھوسہ ، عمر ڈار اور حقوق خلق پارٹی کے عمار جان نے لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تمام ادارے برباد ہو چکے ہیں ۔ دنیا میں کہیں نہیں سنا کہ کسی پارٹی کا انتخابی نشان لے لیا جائے۔ بانی پی ٹی آئی اس ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ یہاں آج وفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں پاکستان میں منتخب پارلیمنٹ ہو، طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہو ، فیصلے منتخب پارلیمنٹ کرے ۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہم لڑائی جھگڑے والے لوگ نہیں ہیں۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف ، شہباز شریف ، آصف زرداری، عمران خان بڑے آدمی ہوں گے لیکن سب سے بڑا پاکستان ہے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گلی گلی جائیں گے۔ ہم اداروں سے کہتے ہیں کہ سیاست آپ کا کام نہیں ہے۔سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ ایسی ہر کوشش کی تحریک تحفظ آئین پاکستان مزاحمت کرے گی ۔ آ پ کون ہوتے ہیں مائنس کرنے والے ۔ ہم جلسے کریں گے، جلوس نکالیں گے ، ہم پر امن رہیں گے اور اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو یاد رکھو فوج اور عوام کی لڑائی میں عوام جیت جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم وارننگ دے رہے ہیں ہمارا راستہ نہ روکنا۔ ہم خانہ جنگی نہیں کریں گے۔ ہمیں جدو جہد نہ کرنے دی گئی تو پھر ہم کہیں گے کہ جیلیں کھول دیں ، آپ کی جیلیں بھر جائیں گی، آپ کو جیلوں میں جگہ نہیں ملے گی ۔پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کا واحد محور یہ ہے کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم آخری دم تک عمران خان کے ساتھ وفا نبھائیں گے، کیونکہ آج عمران خان کے ساتھ پاکستانی قوم کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی قوم کو جھٹلایا جا سکتا ہے، اس ملک میں حرمت کو دھتکارا جا سکتا ہے، یا اس ملک میں آواز کو دبایا جا سکتا ہے، تو وہ بے وقوف ہے۔ ایسا نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور عوام کا یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا۔سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کی رہائی اور ان کی صحت سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ اہم نہیں۔ ہم آج پاکستان کے ہر مزدور اور ہر کسان سے کہتے ہیں کہ تمہارا مستقبل، تمہاری حقیقی آزادی، عمران خان کی آزادی سے منسلک ہے۔ ہم نے اکٹھے لڑنا ہے، ہم نے تمہاری آزادی کے لیے لڑنا ہے۔ تمہارے روزگار کے لیے لڑنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ہماری سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے، مزید گفتگو بھی ہوگی۔ عمران خان نے محمود خان اچکزئی پر اعتبار اور بھروسا کیا ہے۔ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن بنانے کا فیصلہ عمران خان کا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان کا مجھے حکم ہے کہ میں مشاورت اور رہنمائی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے لوں اور ہم ان کی رہنمائی اور مشاورت سے آگے بڑھیں گے۔ ہم ایک ایسی جماعت ہیں جو تاریخ کا شعور رکھتی ہے، تاریخ کو سمجھتی ہے اور جانتی ہے کہ آج پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آج پاکستان کی معیشت کی کیا حالت ہے۔سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آج کسان رو رہا ہے، مزدور بے روزگار ہے اور بے روزگاری پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ آج ایک بے حس حکومت ہے جو عیاشیاں کر رہی ہے، جہاز خرید رہی ہے، دنیا سے تعریفیں سمیٹ رہی ہے، لیکن مزدور کا چولہا نہیں جل رہا۔ پورے پاکستان میں مزدور اپنی جائز اجرت مانگتا ہے مگر اسے اجرت نہیں ملتی۔ نوجوان کو روزگار نہیں ملتا، مزدور کے بچے کو تعلیم نہیں ملتی اور نہ ہی صحت کی سہولتیں میسر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کی رہنمائی میں یہ جنگ لڑنی ہے اور اس جنگ کو لڑنے کے لیے ہم موجود ہیں۔ ہم کبھی اس میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم ڈٹے ہوئے ہیں۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئین کے تحفظ اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے جلسے جلوس کرنے کااعلان کیا۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کسانوں کا استحصال ہو رہا ہے ۔ ہم کسانوں کے ساتھ ہیں، کسان تنظیموں کے پاس جائیں گے، ان کو اپنےساتھ انگیج کریں گے۔ کسانوں کے ساتھ مل کر تحریک چلائیں گے ۔ یہ پارٹی عمران خان کی ہے۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ بانی کی جگہ لے سکتا ہے تو وہ غلط فہمی میں ہے۔ ہماری جدوجہد پرامن ہوگی۔ جدوجہد کرنا ہمارا آئینی حق ہے
ابوظبی میں پاکستانی سفارتخانے کی پاسپورٹ سروس عارضی طور پر معطل کردی گئی۔
سفارت خانے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاسپورٹ سروس عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔
سفارت خانے کے مطابق تکنیکی خرابی کے باعث پاسپورٹ پراسیسنگ روک دی گئی ہے۔
سفارت خانے نے ابوظبی میں بسے پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ کیلئے آن لائن درخواست دینے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان میں خلیج کی جنگ کے اثرات مختلف طریقوں سے روز مرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سب سے زیادہ نظر آںے والے اثرات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی شکل میں نمودار ہوئے جس سے نمٹنے کے لیے شام آٹھ بجے سے لاک ڈاون کی شکل میں ’حکومتی مینیجمنٹ‘ نظر آتی ہے۔
دو مہینوں سے جاری اس جنگی صورت کے اثرات اشیائے خورونوش پر مگر اس طرح سے ابھی تک نظر نہیں آ رہے۔
کھانے پینے کی اشیا خصوصا سبزیوں ، دالوں اور گوشت کے ریٹس میں نمایاں اضافہ ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ روٹی اور دودھ کے حوالے سے ایسوسی ایشنز حکومت پر دباو بڑھا رہی ہیں کہ اب قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی نان بائیوں کی تنظیم نے روٹی کی قیمت بڑھانے کے لیے حکومت سے مدد مانگی تو انہیں بتایا گیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
محمد رزاق جو اس تنظیم کے رکن ہیں انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت ایل پی جی گیس بلیک میں مل رہی ہے۔ تندور چلانے مشکل ہو گئے ہیں۔ ہم نے متعدد دفعہ حکومت کو کہا کہ ہم پلے سے روٹ عوام کو نہیں کھلا سکتے۔‘
ان کے مطابق ’بدھ کو جو ہماری میٹنگ ہوئی ہے اس میں حکومت نے کہا ہے کہ روٹی کی قیمت نہیں بڑھا سکتے لیکن خمیری اور نان کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں تو یہ ایک طرح سے ہمیں ریلیف ملا ہے۔
خیال رہے وزیر اعلی مریم نواز نے اقتدار سنبھالتے ہی صوبے میں روٹی کی قیمت کو 14 روپے مقرر کیا تھا اور کسی بھی طرح سے حکومت اس قیمت کو بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پنجاب کے پرائس کنٹرول محکمے کی سربراہ سلمہ بٹ کے مطابق ’میں اب تک نان بائی ایسوسی ایشن سے بیس میٹنگز کر چکی ہوں اور ہم نے انہیں واضع کیا ہے کہ روٹی کے معاملے پر وزیر اعلی کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں ہیں تو اس کا کوئی درمیانہ راستہ نکالتے ہیں تو پھر انہیں نان کلچے اور دیگر مصنوعات میں اضافے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ وہ پھر بھی چوائس میں آتا ہے جبکہ روٹی بنیادی ضرورت ہے۔
خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے دو نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 3 ہوگئی۔نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے ٹارگٹڈ اقدامات اور مؤثر حکمتِ عملی پر عمل جاری،پولیو لاعلاج مرض ہے مگر بروقت ویکسی نیشن کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے پولیو سے تحفظ کے لیے ہر مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلانا ناگزیر ہے۔نیشنل ای او سی کے مطابق رواں ماہ ملک بھر کے مخصوص اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد کیا جائے گا،انسدادِ پولیو مہم کے دوران تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ امریکا-اسرائیل-ایران جنگ خطے کی معاشی ترقی کو نمایاں طور پر سست کر دے گی اور پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو توانائی و خوراک کی بڑھتی قیمتوں، ترسیلات زر میں ممکنہ کمی اور سخت مالیاتی حالات جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہوگا۔پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) میں منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کیا اور آئی ایم ایف کی اپریل 2026 کی علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ بھی پیش کی۔ڈاکٹرماہیر بینیجی نے بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ نے ایک شدید اور ہمہ جہتی معاشی جھٹکا دیا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی منڈیاں، تجارتی راستے اور مالیاتی حالات متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان حالات کے باعث عالمی ترسیل کے نظام، خوراک اور کھاد کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے خطے میں معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور مزید تنزلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ تنازع پہلے سے موجود معاشی کمزوریوں کو مزید بڑھا رہا ہے۔ڈاکٹر ماہیر بینیجی نے زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سبسڈیز کے بجائے ہدفی اور عارضی اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر درست سمت میں جاری ہے اور واضح کیا کہ پاکستان کے لیے پالیسی ترجیحات میں محتاط مالیاتی حکمت عملی، اعداد و شمار کی بنیاد پر سخت مانیٹری پالیسی اور ساختی اصلاحات کا تسلسل شامل ہونا چاہیے۔اس موقع پر انہوں نے معیشت کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کے لیے تجارتی راستوں میں تنوع، اہم بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، علاقائی تعاون کے فروغ اور نجی شعبے کی قیادت میں جامع ترقی یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحات کے عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ناگزیر ہے تاکہ پاکستان تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں استحکام برقرار رکھتے ہوئے مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔قبل ازیں آ ئی ایم ایف کے نمائندے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سربراہ اکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ اس نشست کا مقصد بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورت حال اور اس کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلی قسط فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کے جائزے سے مشروط ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات، خصوصاً کیپیسٹی پیمنٹس سے متعلق مذاکرات اور قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پالیسی سطح پر بروقت اور ہدفی اقدامات ناگزیر ہیں
سندھ کے مختلف اضلاع میں شدید گرمی کے باعث ہیٹ ویو الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ کراچی کے موسم سے متعلق بھی پیش گوئی جاری کردی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم، شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے ۔ 3 مئی تک صوبے کے وسطی اور بالائی علاقے ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہیں گے۔اس صورتحال کے زیر اثر جامشورو، دادو، شہید بینظیرآباد، کشمور، گھوٹکی، سانگھڑ، خیرپور، نوشہرو فیروز، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر کے اضلاع شدید گرمی سے متاثر ہوں گے۔ماہرین موسمیات کے مطابق ان اضلاع میں دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث بالخصوص بچوں، خواتین اور بزرگ افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں ۔ دن کے اوقات میں سورج کی براہ راست تپش میں گھروں سے کم نکلیں۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ گرمی کی لہر کے دوران پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنایا جائے، جبکہ کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گندم کی فصل موسمی حالات کے مطابق ترتیب دیں اور اپنے مویشیوں کو گرم موسم سے محفوظ رکھیں۔کراچی کے حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج اور کل شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ ہفتے کے روز موسم گرم اور خشک رہنے کے ساتھ معمول سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔اتوار کو کراچی میں درجہ حرارت میں مزید ایک ڈگری اضافے سے پارہ 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے
مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال سے عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور خوراک کی سپلائی چین متاثر ہورہی ہے:وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 8 سے9 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق اپریل میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 8سے 9فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال سے عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور خوراک کی سپلائی چین متاثر ہورہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 7.3فیصد رہی جبکہ فروری میں 7 فیصد کی سطح پر تھی۔ملک میں مہنگائی بڑھنےکی سالانہ شرح 13.98 فیصد پرپہنچ گئی جولائی سے مارچ کے 9 ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی جو گزشتہ برس اس عرصے میں 5.3فیصد تھی ۔رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی سمیت دیگر معاشی اشاریوں کیلئے بڑا چیلنج بن رہا ہے، جولائی سے مارچ میں ترسیلات زر ، درآمدات میں اضافہ، برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے
وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق پر بڑا فیصلہ جاری کردیا جس میں قرار دیا گیا کہ قبائلی سردار شناختی کارڈ، ڈومیسائل کی تصدیق کے اہل نہیں۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے شناختی کارڈ، ڈومیسائل کا اجراء باقاعدہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔شناختی دستاویزات کی تصدیق کیلئے قانون میں مجاز حکام کو ہی اختیار دیا گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت کے مطابق کسی قبائلی سردار کو قانون سے ہٹ کر دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔قانون کے مطابق سرداری نظام 1976 میں ختم ہوچکا ہے، قبائل کے سرداری نظام علاقائی روایت ہے اسکی قانونی حیثیت نہیں، علاقائی روایت کی عدالتی توثیق نہیں کی جا سکتی۔درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لئے اپیل قابل سماعت نہیں ہے،درخواست گزار غلام علی کے مطابق وہ خروٹی قبیلے کا سردار ہے، درخواست گزار کے مطابق اس کے قبیلے کے افراد کیلئے دستاویزات کی تصدیق کروانا ناممکن عمل ہے، شناختی دستاویزات سے محروم کیا گیا۔متاثرہ شخص ہی عدالت سے رجوع کرنے کا اہل ہے،بلوچستان کے خروٹی قبیلے کے سردار غلام علی نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی
ایران امریکا مذاکرات کل اسلام آباد میں متوقع ہیں ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویز کا مسودہ ثالثی کے لیے پاکستان کو بھیج دیا۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق اپنی نئی تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کی ہیں۔اب یہ تجاویز پاکستانی حکومت امریکا کو ارسال کرے گی جس کے بعد ان کا جواب دیکھا جائے گا اور آنے والا جواب واپس ایرانی حکومت کو بھیجا جائے گا۔اس حوالے سے تاحال فریقین کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ اس نئے مسودے سے متعلق کوئی معلومات مل سکی ہیں۔تاہم ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی اس نئی تجویز میں مرحلہ وار امن عمل کی بات کی گئی ہے، جس میں پہلے جنگ بندی کو مستحکم کرنا، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، اور بعد ازاں پیچیدہ معاملات جیسے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا شامل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے اس پورے عمل میں پاکستان کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کروا رہا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقین کو بڑے سمجھوتے کرنا ہوں گے۔رائٹرز کے بقول امریکا نے بعض ایرانی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا خاص طور پر اس بات پر کہ ایران جوہری پروگرام کے مسئلے کو فوری طور پر زیر بحث لانے کے بجائے مؤخر کرنا چاہتا ہے۔ یہی اختلافات اب تک کسی جامع امن معاہدے میں بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔
سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یکم مئی 2025 کو ٹلہ فائرنگ رینج کا دورہ کرکے آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔تربیتی مشقوں میں جدید ہتھیاروں، مربوط منصوبہ بندی اور میدان جنگ میں فوری ردعمل کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔عسکری قیادت نے دشمن کو پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی آنچ برداشت نہ کرنے کا واضح پیغام دیا۔پاک فوج نے اپنی عسکری صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرکے بھارت کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کردی۔عالمی ماہرین کے مطابق پاک فوج مربوط جنگی حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت سے بارہا بھارت کا جنگی جنون خاک میں ملا چکی ہے۔مسلح افواج کی مضبوط دفاعی تیاریاں علاقائی استحکام اور طاقت کا توازن برقرا ر رکھنے کی پالیسی کی عکاس ہیں










