امریکی محکمۂ خارجہ نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کی مرحلہ وار بندش کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خیبر پختونخوا کے ساتھ سفارتی معاملات کی ذمہ داری اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی جائے گی، ’یہ فیصلہ ہمارے سفارتی عملے کی سلامتی اور وسائل کے مؤثر انتظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پشاور میں قونصل خانہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی پالیسی ترجیحات اپنی جگہ برقرار ہیں۔
بیان کے مطابق ’ہم خیبر پختونخوا کے عوام اور حکام کے ساتھ با معنی روابط جاری رکھیں گے تاکہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے، علاقائی سلامتی کو تقویت دی جا سکے اور امریکی عوام کے مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود اپنے سفارتی دفاتر کے ذریعے امریکہ، پاکستان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُر عزم رہے گا۔
چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والے نیٹ ورک کے بارے تفتیشی ٹیموں نے سراغ لگا لیا گیا اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مبینہ حملہ آوروں کی تصاویر بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے، ملوث عناصر کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔مولانا شیخ ادریس کے قتل کے واقعے کی تفتیش کنے والے حکام کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور مقامی پولیس کی جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم نے حاصل فوٹیج سے اہم مواد کا جائزہ لیا اور واردات میں ملوث 4 میں سے ایک دہشت گرد کی نشان دہی ہوگئی۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ دہشت گرد کی نشان دہی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ہوئی، دہشت گرد کا تعلق افغانستان سے ہے اور جس دہشت گرد کی نشان دہی ہوئی اس کے ذریعے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔تفتیشی حکام نے مزید کہا کہ ابتدائی تفتیش میں لگ رہا ہے یہ منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی ہے۔جید عالم دین مولانا محمد ادریس پر آج صبح تقریباً آٹھ بج کر دس منٹ پر تھانہ اتمانزئی (چارسدہ) کی حدود میں حملہ کیا تھا جہاں نامعلوم دو موٹر سائیکل سوار4 دہشت گردوں نے مولانا کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی اور واقعے کے فوری بعد مولانا ادریس اور دونوں زخمی کانسٹیبلز کو اسپتال منتقل کیا گیا۔مولانا محمد ادریس اسپتال منتقلی کے دوران راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تاہم زخمی کانسٹیبلز کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ملزمان کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں جن کی بنیاد پر ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔پولیس نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک منظم ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو جدید سائنسی خطوط پر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان سفاک قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو بہت جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھا جائے گا۔
پاکستان میں سال 2025 میں صنفی تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا، خواتین کی سائبر ہراسگی کے 2 ہزار 586 واقعات ہوئے جبکہ 470 خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئیں۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سال 2025 کے مخدوش انسانی حقوق پر سالانہ رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں پاکستان بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر رہا، سزائے موت کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں ایک ہزار 272 دہشت گردانہ حملوں اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 3 ہزار 417 اموات ہوئیں، 2 ہزار 134 افراد زخمی ہوئے۔ایچ آر سی پی رپورٹ کے مطابق بیرون ملک 21 ہزار 600پاکستانی شہری قید ہیں۔بھارتی جیلوں میں 738 پاکستانی ہیں جن میں ماہی گیر بھی شامل ہیں ۔عالمی جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان 148 ممالک میں سے 145ویں نمبر پر رہا، صنفی تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا، گھریلو تشدد کے واقعات میں ایک ہزار 332 خواتین کو قتل کر دیا گیا ، ریپ کے 3 ہزار 815 مقدمات سامنے آئے۔خواتین کی سائبر ہراسگی کے 2 ہزار 586 واقعات ہوئے جبکہ 470 خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے 3 ہزار 600 کیسز رپورٹ ہوئے۔اغوا کے ایک ہزار 107 کیسز ہوئے، 365 بچے لاپتہ ہوئے۔ کم عمری کی شادی کے 53 کیسز رپورٹ ہوئے، بچوں کے ساتھ زیادتی کے 52 کیسز فحش مواد سے منسلک تھے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 19 ٹرانس جینڈز قتل ہوئے، 2 پر تیزاب پھینکا گیا ۔ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 10 ٹرانس جینڈر قتل ہوئے، 13 جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔ ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2025 میں مزید لاکھوں افراد خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔
بھارت کے مبینہ آپریشن سندور اور اس کے جواب میں پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص کو ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان نے سوشل میڈیا پر ایسا طنزیہ وار کیا کہ صارفین بھی ہنسی نہ روک سکے۔سماجی رابطے کی سائٹ ’’ایکس‘‘ پر پاکستان ریلوے کی جانب سے شیئر کی گئی وائرل میمز تصویر میں ایک مسکراتی ہوئی سبز ٹرین کو نمایاں دکھایا گیا ہے، جبکہ ساتھ ہی پٹڑی کے کنارے بھارتی فضائیہ کے تباہ شدہ جنگی طیارے بکھرے پڑے ہیں۔تصویر میں خاص طور پر گرائے گئے بھارتی رافیل اور دیگر جنگی جہازوں کی تباہی کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔رین کے اوپر درج جملہ سوشل میڈیا صارفین کے لیے فوری توجہ کا مرکز بن گیا، جس میں لکھا ہے کہ ’’ہمارے ساتھ سفر کریں، ہم رفتار میں شاید کم ہوں، لیکن ان سے زیادہ محفوظ ہیں۔‘‘یہ میمز نہ صرف پاکستان ریلوے کے روایتی سست رفتار تاثر پر خودساختہ مزاحیہ چوٹ ہے بلکہ بھارتی فضائیہ کے مبینہ نقصان پر بھی بھرپور طنز کرتی ہے۔ تصویر میں ٹرین کو دوستانہ، پرمزاح اور فاتحانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، جبکہ تباہ شدہ بھارتی طیارے بھارتی عسکری ناکامی کے استعارے کے طور پر دکھائے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت نے قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا ہے اس حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر عمران خان کی حکومت ہونے کے باعث وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وفاق کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ، بجلی اور گیس میں صوبے کے ساتھ دانستہ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، 6 مئی کو صوبہ بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی تاہم ایمرجنسی سروسز مستثنیٰ ہوں گی، ان کا کہناتھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی، عمران خان کو اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ دینا غیر انسانی اور غیر قانونی ہے، وزیر اعلی سہیل آفریدی کا آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والے وکلا سے ہڑتال میں شرکت کی اپیل کی ۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شیخ الحدیث، سابق ایم پی اے، رکن مرکزی مجلس شوریٰ جے یو آئی مولانا ادریس کی شہادت کی مذمت و افسوس کا اظہار کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر سے دل رنجیدہ ہے، مولانا ادریس نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کی قیمت چکائی ہے۔ سفید ریش عالم دین کی شہادت قرآن وسنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ علماء پاکستان کے بے لوث نظریاتی محافظ ہیں لیکن ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں۔ مولانا ادریس شہید نے ہمیشہ امن کی بات کی، افسوس کہ آج وہ خود بدامنی کا شکار ہوگئے۔ مولانا ادریس بلند پایہ عالم، نکتہ داں واعظ اور مدبر سیاستدان تھے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا شہید کی پوری زندگی دین کی اشاعت وخدمت میں گزاری، مولانا شہید سے برسوں پر محیط اعتماد، شفقت اور دوستی کا دیرینہ تعلق تھا، سفاک ظالموں نے ہمیں مخلص دوست اور با وفا رہنما سے محروم کردیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا دینی امور سمیت سیاسی معاملات میں صاحب الرائے اور دلیل کی بنیاد پر موقف رکھتے تھے، دارالعلوم حقانیہ کے درودیوار اور ہزاروں طلباء سمیت جے یو آئی کا ہر کارکن غمزدہ ہے، اللہ کریم مولانا کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کی خدمات کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے، لاقانونیت اور دہشت گردی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ رات متحدہ عرب امارات میں ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یو اے ای میں ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں پر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔شہباز شریف کا کہنا تھا پاکستان اس مشکل وقت میں یوے ای کی حکومت اور اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ مضبوطی سےکھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتہائی ضروری ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور اس کا احترام کیا جائے، خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے مذاکرات کو ضروری سفارتی گنجائش فراہم کی جانی چاہیے۔
دنیا کے طاقتور اور کمزور ترین پاسپورٹس کی نئی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق سنگاپور بدستور پہلے نمبر پر موجود ہے جبکہ پاکستان کمزور ترین پاسپورٹس میں چوتھے نمبر پر شامل ہے۔
عالمی ادارے ہینلی پاسپورٹ انڈیکس کی تازہ درجہ بندی کے مطابق سنگاپور کے شہری دنیا کے 192 ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ رسائی ہے۔
فہرست کے مطابق دوسرے نمبر پر جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات مشترکہ طور پر موجود ہیں، جہاں کے شہری 187 ممالک تک ویزا فری رسائی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ناروے اور سوئٹزرلینڈ 185 ممالک تک رسائی کے ساتھ نمایاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک مجموعی طور پر پاسپورٹ طاقت کے لحاظ سے سرفہرست ہیں، جبکہ یورپی یونین کا اوسط 183 ممالک تک ویزا فری رسائی بنتا ہے، جو ملائیشیا اور برطانیہ کے برابر ہے۔
دوسری جانب کمزور پاسپورٹس کی فہرست میں افغانستان سب سے نچلے نمبر پر ہے، جہاں کے شہری صرف 23 ممالک تک بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد شام دوسرے، عراق تیسرے اور پاکستان چوتھے نمبر پر موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق کمزور پاسپورٹس کی بنیادی وجوہات میں سیاسی عدم استحکام، جنگی حالات، سیکیورٹی خدشات اور ہجرت کے بڑھتے رجحانات شامل ہیں، جو کسی بھی ملک کے شہریوں کی عالمی نقل و حرکت کو متاثر کرتے ہیں۔
مغربی ہواؤں کے سلسلہ کی وجہ سے چار مئی کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔۔ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں ،اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں کل سے بارش متوقع جبکہ مری گلیات، وسطی پنجاب میں بھی اسی دوران بارش برس سکتی ہے۔ تین اور چار مئی کے درمیان جنوبی پنجاب کے چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔ بلوچستان کے مختلف مقامات پر دو سے چار مئی کے دوران بارش ہو سکتی ہے ۔ کل سے تین مئی تک بالائی سندھ میں آندھی اور گرج چمک کاباارش کا امکان ہے۔ کسانوں کیلیے موسم کے لحاظ سے احتیاط برتنے کی ایڈوائزری بھی جاری کردی گئی ہے ۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کی جانب سے قبضے میں لئے گئے ایرانی کارگو کو پاکستان منتقل کردیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کے دوران قبضے میں لیے گئے ایرانی کارگو کو عملے سمیت ایران کو واپس کرنے کی غرض سے پاکستان منتقل کردیا ہے۔
نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے حوالے سے بتایا کہ امریکی افواج نے ایم وی توسکا اور اس عملے کے 22 ارکان کو وطن واپسی کے لیے پاکستان منتقل کردیا ہے۔
ہاکنز نے مزید کہا کہ چھ دیگر مسافروں کو پچھلے ہفتے ایران واپسی کے لیے پہلے ہی ایک ملک منتقل کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب سینٹ کام نے اس حوالے سے تصدیق کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے جبکہ پاکستانی اور ایرانی حکام نے بھی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ امریکی بحری افواج نے 19 اپریل کو خلیج عمان میں بحری جہاز توسکا کو اس وقت قبضے میں لے لیا جب اس نے مبینہ طور پر ناکہ بندی کی ہدایات کی تعمیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔










