اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کے فنڈز موصول ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خزانہ سے 2 ارب ڈالر کے فنڈز 15 اپریل 2026 کو موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو رواں ماہ 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جانی ہے، جو زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کا 18 فیصد بنتی ہے، تاہم سعودی معاونت کے باعث اس ادائیگی سے ذخائر پر پڑنے والا دباؤ کم ہوگا۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے 5 ارب ڈالر کے سابقہ ڈپازٹس کو بھی طویل مدت کے لیے رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس سے پاکستان کے بیرونی کھاتے کو مستحکم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اعلی سطح وفد کے ہمراہ اپنے دورہ قطر کیلئے دوحہ پہنچ گئے۔قطر کے وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور سلطان بن سعد المریخی نے وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کا پر تپاک استقبال کیا۔وزیرِ اعظم و پاکستانی وفد کو قطری مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی بھی دی، وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کی آمد پر دوحہ ائیرپورٹ اور دوحہ شہر کو پاکستانی پرچموں سے سجایا گیا۔وزیرِ اعظم امیر قطر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے دو طرفہ ملاقات کریں گے اور پاکستانی کی خطے و عالمی امن کیلئے جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال ہوگا. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔قبل ازیں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی اہم ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے جاری کیا۔اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاک سعودی تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے باہمی شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔سعودی ولی عہد نے پاک سعودی اسٹرٹیجک تعاون کو سراہتے ہوئے اسے مزید مستحکم بنانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں کی تعریف کی۔ ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی جبکہ خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے اقدامات زیر بحث آئے۔اس موقع پر سعودی ولی عہد نے وزیراعظم شہباز شریف اور سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
امریکی جریدے دی واشنگٹن ٹائمز نے پاکستان کے آپریشن “غضبِ للحق” پر تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے اسے سرحد پار خطرات کے خلاف مؤثر حکمت عملی قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن پاکستان کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر، خصوصاً فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے۔جریدے کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں ٹیکٹیکل کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سویلین آبادی کے کم سے کم نقصان کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان صرف فوجی آپریشن تک محدود نہیں بلکہ سفارت کاری، سیاسی حکمت عملی اور اقتصادی اقدامات کو بھی ایک جامع پالیسی کے تحت استعمال کر رہا ہے تاکہ خطے میں طویل المدتی استحکام حاصل کیا جا سکے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ گورننس اور سفارتی عمل کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔جریدے کے مطابق اب تک 180 دہشتگرد پناہ گاہیں اور 30 سے زائد اجتماع گاہیں تباہ کی جا چکی ہیں، جبکہ بارڈر کنٹرول کو مؤثر بنا کر غیر قانونی آمد و رفت پر بھی قابو پایا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں کسی رجیم چینج کا خواہاں نہیں بلکہ اس کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام خود کریں۔واشنگٹن ٹائمز کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت سول اداروں کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت میں اضافہ اور داخلی سیکیورٹی کے ڈھانچے کو سیاست سے پاک کر کے پاکستان فوجی کامیابی کو دیر پا امن میں تبدیل کر سکتا ہے -واشنگٹن ٹائمز نے کہا کہ پاکستان کا فوجی کارروائی، سفارت کاری اور سماجی عمل کو ایک مربوط اور متوازن پالیسی میں یکجا کرنا، دنیا میں اپنائے جانے والی جابرانہ حکمت عملی کا مناسب متبادل ہے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وفد ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات سے متعلق جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کا حصہ ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کا پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ اس موقع پر ایران کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا جس میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
آئی آر آئی بی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔
بلوچستان میں گندم کے کاشتکاروں کے لیے تھریشر فیول سبسڈی اسکیم پر عمل درآمد کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیاخطے میں کشیدگی اور فیول کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہونے والے زرعی شعبہ کے لیے حکومت بلوچستان نے زرعی ریلیف پیکج متعارف کروا دیا۔بلوچستان میں گندم کے کاشتکاروں کے لیے تھریشر فیول سبسڈی اسکیم پر عمل درآمد کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔اس موقع پر، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ ابتدائی مرحلے میں 3102 کسانوں کے اکاوٴنٹس میں سبسڈی منتقل کر دی گئی، آئندہ 2 سے 3 روز میں مزید 13128 کاشتکاروں کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔ صوبے بھر میں 85 ہزار سے زائد کسان رجسٹرڈ جبکہ 74 ہزار سے زائد کی تصدیق مکمل ہوچکی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تیار گندم کی فصل رکھنے والے چھوٹے زمینداروں اور کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ فیول سبسڈی کے ذریعے تھریشر اخراجات میں کمی، کاشتکاروں پر اضافی مالی بوجھ کم ہوگا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن اور تصدیقی عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے، تمام اہل چھوٹے کاشتکاروں کو مرحلہ وار سبسڈی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ حکومت بلوچستان مشکل معاشی حالات میں کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے، زرعی پیداوار کے تحفظ کے لیے موٴثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ذرائع نے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ قیادت نے اپوزیشن کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے قومی اسبملی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس سے اختیارات واپس لینے کا پلان تیار کرلیا ہے اور ایوان سے استعفے دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اسمبلی سے استعفے دینے پر غور کررہی ہے اور اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی قیادت نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے اختیارات واپس لینے کا بھی پلان تیار کر لیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد سے علیحدگی کے لیے ٹیم تیار کر لی گئی ہے اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے ایک اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اب یہ بہانے نہیں چلیں گے اور ہمیں ذمہ داری لینی ہو گی۔ذرائع کے مطابق شاہد خٹک نے کہا کہ ہم چار افراد نے اختیار اپنے پاس رکھنا ہے اور فیصلے کی قوت محمود خان اچکزئی سے واپس لینی ہے، چار افراد میں سہیل آفریدی، مینا خان آفریدی ، شاہد خٹک اور شفیع جان شامل ہیں۔پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ شاہد خٹک کا کہنا تھا ہم نے دو طرح کے پلان بنائے ہیں، ایک استعفے اور مزاحمت ہو گی اور دوسرا فیصلوں کا اختیار اپنے پاس رکھیں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے فیصلوں کا اختیار واپس لینے کے لیے پی ٹی آئی سوشل میڈیا عہدیداروں نے شاہد خٹک سے اعتماد کا اظہار کیا اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہیڈ جبران الیاس نے شاہد خٹک کو مشورہ دیا کہ آپ فیصلوں کا اختیار اور اسمبلیوں سے استعفے کا اعلان کریں گے تو ساتھ دیں گے۔
ملک بھر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے معاملے پر پاور ڈویژن کی جانب سے وضاحت سامنے آ گئی۔ترجمان پاور ڈویژن نے بجلی کی صورتحال پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ رات کے اوقات میں پن بجلی کی پیداوار میں 1991 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ پن بجلی کی کم پیداوار کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے اعلانیہ سے کچھ زیادہ لوڈ مینجمنٹ کی، جبکہ گزشتہ رات پیک ٹائم میں تقریباً 4500 میگاواٹ کا شارٹ فال رہا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پن بجلی میں کمی کی وجہ ملک کے ڈیموں سے صوبوں کی جانب پانی کے اخراج کی کم ڈیمانڈ ہے۔ اس وقت صوبوں کو ڈیموں سے پانی ارسا طلب کے مطابق ریلیز کر رہا ہے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت بہت کم ہے۔ مزید یہ کہ بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کی بدولت پانی کا اخراج کم ہے۔ترجمان کے مطابق گزشتہ رات پیک آورز کے دوران مجموعی ڈیمانڈ 18000 میگاواٹ رہی۔ آنے والے چند دنوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کا امکان ہے جس سے بجلی کی پیداوار بھی بڑھے گی۔ترجمان نے واضح کیا کہ صرف رات کے اوقات میں ہی لوڈ مینجمنٹ کا شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔ دن کے اوقات میں کسی بھی قسم کا شارٹ فال نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ آر ایل این جی کی دستیابی سے بھی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ترجمان نے پن بجلی کی کم دستیابی کی بنا پر اضافی لوڈ مینجمنٹ پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ رات کے اوقات میں بجلی کا کم سے کم استعمال کریں اور بجلی بچت کے اصولوں پر عمل کریں۔
خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبے پر 150 ارب روپے کا مالی بوجھ ہے۔مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم نے وفاقی محصولات اور صوبائی اخراجات کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ رواں مالی سال وفاقی ٹیکس محصولات میں 800 سے 1000 ارب روپے تک کمی کا امکان ہے جس سے صوبے کو نقصان ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی میں 180 ارب روپے کٹوتی اور ٹیکس کمی سے خیبرپختونخوا کو 120 ارب روپے کم ملیں گے۔ ان دونوں اقدامات کے نتیجے میں صوبے کی مالی مشکلات میں نمایاں حد تک اضافہ متوقع ہے۔مشیر خزانہ کے مطابق خیبرپختونخوا نے سیلابی امداد پر 10 ارب، آئی ڈی پیز بحالی پر 15 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ مزید براں کسانوں، موٹر سائیکلوں اور بسوں کے فیول معاوضے کی مد میں بھی صوبے نے 10 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ صوبے پر مجموعی مالی دباؤ 150 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ملک بھر میں 8 سے 16 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس سے شہریوں کو شدید گرمی میں شدید اذیت اٹھانا پڑ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 500 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ اس وقت ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار 15 ہزار 400 میگا واٹ ہے جبکہ بجلی کی طلب 22 ہزار میگا واٹ تک ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں پن بجلی ایک ہزار 500 میگا واٹ فراہم کر رہی ہے جب کہ تھرمل ذرائع سے 9 ہزار 250 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔اسی طرح سولر پاور پلانٹس 400 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور بیگاس سے بجلی کی پیداوار 200 میگا واٹ تک ہے۔علاوہ ازیں ونڈ پاور پلانٹس سے ایک ہزار 200 میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے جب کہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی پیداوار 2 ہزار 850 میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باوجود ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ برقرار ہے۔










