راولپنڈی میں دلہن کو شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کرنا مہنگا پڑ گیا جبکہ واقعے میں ملوث دولہا فرار ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
راولپنڈی پولیس نے تھانہ مندرہ کی حدود میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کرنے پر دلہن کو گرفتار کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ کی شناخت ثناء کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس حکام نے اس بارے میں بتایا کہ شادی کی تقریب میں دلہن کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا واقعہ گوہڑہ میں پیش آیا، پولیس نے واقعے کے خلاف مقدمہ اے ایس آئی وسیم اختر کی مدعیت میں درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہوائی فائرنگ کرنے کی اطلاع پر پولیس گوہڑہ پہنچی تو موقع پر موجود دولہا اور دلہن فرار ہوگئے، تاہم پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق گرفتار ملزمہ سے 30 بور پستول برآمد کر لیا گیا جبکہ دولہا شہریار فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان تیار کیا جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو پاکستان نے بطور ثالث آگے بڑھایا اور ایران تک پہنچایا
انہوں نے کہا کہ اس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں کسی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ وٹکوف کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کےضلع کوہاٹ میں گیس کابڑاذخیرہ دریافت ہوگیا،کنویں سے یومیہ 2 کروڑ 65 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہوگی۔گیس کاذخیرہ ٹل بلاک میں کھودے گئےکنویں سےدریافت ہوا،اوجی ڈی سی ایل نےپشرفت سےاسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کردیا،اوجی ڈی سی ایل نےدریافت کو قابل ذکر کامیابی قرار دیا ہے،کنویں میں پی پی ایل،پی او ایل،ایم اوایل اور جی ایچ پی ایل بھی حصہ دار ہیں۔ دریافت سےٹل بلاک میں دیگرکنوؤں کی کامیابی کےامکانات بھی بڑھ گئے،دریافت سےملک کی انرجی سیکیورٹی میں اضافہ اورطلب و رسد کے فرق میں کمی آئے گی۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سیکیورٹی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بمباری کا سلسلہ رات تقریباً 8 بجے شروع ہوا، جس کے دوران سفارتخانے کے اطراف میں وقفے وقفے سے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان دھماکوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے قریب ایرانی فوج کا ایک اہم مرکز ’ارتش‘ موجود ہے، جسے ممکنہ طور پر حملے کا ہدف بنایا گیا۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ہے تو حملے کا مقصد کسی مخصوص فوجی تنصیب کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے، نہ کہ سفارتی مشنز کو۔
مزید اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں ایک حساس علاقے میں مقیم ہیں، جو پاسدارانِ انقلاب کے زیر انتظام بتایا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بھی بمباری کی گئی، تاہم سفیر کی رہائشگاہ محفوظ رہی اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سفارتی عملے کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ایرانی حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ واقعے کی نوعیت اور ممکنہ خطرات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔
عالمی سطح پر اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سفارتی تنصیبات کے قریب اس نوعیت کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کے سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور مزید پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
پشاور میںچائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا، دو ماہ قبل کم عمرلڑکی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ تھانہ چمکنی میں درج ہواتھا،ایف آئی آرمیں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ، جنسی زیادتی اور دیگر دفعات شامل کرلی گئی ہیں متاثرہ لڑکی کے پولیس کو دیئے گئے بیان کے مطابق مجھے ماموں زاد اپنے دوست کے ساتھ گاڑی میں بونیرسے پشاور لایا ،راستے میں گاڑی میں مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ملزمان خود بھی آئس پیتے رہے اور مجھے بھی پلائی ،واپسی پرپشاورٹول پلازہ کے قریب ایکسائز پولیس نے گاڑی کو روکا ،پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران ملزمان کو گرفتارکرکے گاڑی قبضے میں لے لی گئی ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ، لڑکی کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے،میڈیکل رپورٹ آنے پرمزید کارروائی کی جائے گی ، چائلڈ پروٹیکشن قوانین کے تحت لڑکی کے حقوق کا ہرصورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
پاک افغان طورخم سرحد افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے کھول دی گئی ، بارڈر بندش کے بعد لنڈی کوتل میںپھنسے35 ،افراد کوکلیرنس کرنے کے بعد طورخم کے راستے افغانستان روانہ کردیا گیا ہے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ،مہاجرین کے قافلے کو پولیس سکیورٹی میں افغان سرحدطورخم تک پہنچایا گیا
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے پاکستان مخالف غیر مہذب بیان پر بھارت میں کڑی تنقید ہوئی ہے اور غیر سفارتی زبان اور پالیسی پر سوالات اٹھادیے گئے۔اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو پاکستان مخالف حالیہ غیر مہذب بیان پر شدید ردعمل کا سامنا ہے، یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے بی جے پی اور مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ترجمان بھارتی کانگریس ڈاکٹر شمّع محمد نے نازیبا بیان کو سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتخب کیا جانا اور بھارت کا باہر رہنا مودی حکومت کی ناکامی ہے۔کانگریسی ممبر سپرِیا شری نیتے نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں ثالثی کی پیشکش یا جنگ رکوانے کے بھارتی دعویٰ کو کیا نام دیا جائے؟ اس پر کانگریسی ممبر پون کھیرا نے کہا کہ مودی کی روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی کوشش کے وقت کیا بھارت ایک بروکر ملک نہیں تھا؟بھارتی تجزیہ نگار اشوک سوائن نے کہا ہے کہ جے شنکر کے نازیبا الفاظ محض سڑک کی زبان ہے، کسی وزیر خارجہ کے شایانِ شان نہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق جے شنکر کا حالیہ بیان اپریل 2022ء میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی خواہش والے بیان سے یکسر متصادم ہے، جے شنکر کا غیر سفارتی بیان ہزیمت چھپانے کا ایک دفاعی ردعمل ہے، حالیہ خلیجی بحران میں بھارت کو مرکزی کردار نہ ملنا بھارت کی سفارتی ناکامی ہے، بھارتی وزیر خارجہ کے بیان نےنام نہاد امن کے دعوے داربھارت کی سفارتی ساکھ اور سنجیدگی پر سوالات اٹھا دیے
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق میڈیا میں موجود غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اہم عمل میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں فریقین کے مابین پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں اور اس تناظر میں امریکا نے 15 نکات پیش کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس امن اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برادر اسلامی ممالک ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ریاستیں بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنے عزم پر سختی سے کاربند ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم بھی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور جاری تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔










