بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جبکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کی تعریف بھی کی ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں مشاورت کے اس عمل کو حتمی مرحلے تک پہنچا دیا جائے گا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 25 فروری سے 11 مارچ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران مختلف معاشی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔عالمی مالیاتی ادارے نے اصلاحاتی اقدامات اور ماحولیات کے شعبے میں پاکستان کی پیش رفت کو قابلِ تعریف قرار دیا اور بتایا کہ فی الحال 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے خلاف پاک افواج کا افغانستان میں آپریشن غضب للحق جاری ہے، ژوب میں دہشت گرد چیک پوسٹیں چھوڑ کر بھاگ نکلے، آپریشن میں تاحال ہلاکتوں کی تعداد 641 ہوگئی، 855 زخمی اور 243 چیک پوسٹیں تباہ ہوچکی ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر ژوب سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹ نمبر 2 اور 3 کو نشانہ بنایا۔پاک فوج کی بروقت اور بھرپور کارروائی سے بزدل افغان طالبان پوسٹیں اور اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔پاک فوج نے افغان طالبان کے زیرِ قبضہ پوزیشنوں سے روسی ساختہ 73 ملی میٹر HGL-9 ہیوی گرینیڈ لانچرز قبضے میں لے لیے گئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی طاقتور جوابی کارروائیاں بھارتی پراکسی افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کو بھاگنے پر مجبور کر رہی ہیں۔آپریشن غضب للحق جاری ہے اور اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔آپریشن کے حوالے سے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تفصیلات جاری کی ہیں جس کے مطابق آج شام چار بجے تک مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد 641 ہوگئی جب کہ 855 سے زائد زخمی ہیں۔آپریشن کے دوران اب تک 243 چیک پوسٹیں تباہ ہوچکی ہیں، 42 پوسٹیں قبضے میں لے کر تباہ کی گئیں، 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ ہوچکی ہیں، افغانستان میں 65 دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاون مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے متوفی کوٹہ سسٹم ختم ہونے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔عدالت نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے تمام 10 درخواست گزاروں کی تعیناتیوں کو جائز قرار دے دیا۔ عدالت نے اس معاملے میں سندھ حکومت کی اپیلیں بھی خارج کر دی ہیں۔یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے سندھ حکومت کے خلاف متوفی کوٹہ کیس میں جاری کیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے مطابق سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ محمد جلال کیس میں متوفی کوٹہ سسٹم ختم کر چکی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے حقداروں کا حق پیدا ہو چکا تھا۔ عدالت کے مطابق سرکاری ملازم کی موت ہوتے ہی اس کے اہل خانہ کا حق پیدا ہو جاتا ہے جبکہ درخواست دینا یا اپوائنٹمنٹ لیٹر جاری ہونا محض انتظامی عمل ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ورثا کو قانونی حق موت کے وقت ہی مل جاتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے ماضی سے لاگو نہیں ہوتے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسمبلیوں سے استعفیٰ کی تجویز سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں لطیف کھوسہ نے ایران کی کھل کر حمایت کرنے کا کہا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے، لطیف کھوسہ نے ایوان میں قرارداد پیش کرنے اور ایوان کی اسرائیل کی مخالفت کی کا کہا۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کردیا۔ شیر علی ارباب نے کہا کمیٹیوں سے نکل کر کچھ نہ ملا اور ہم اپنا موقف بھی نہیں پیش کرسکتے، کمیٹیوں سے استعفیٰ کے بجائے ایوان سے ہی استعفے دے دیں۔شیر علی ارباب نے کہا کہ ہمارے پاس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھی جس میں ہم اپنی حیثیت اور طاقت منواسکتے تھے، اگر کمیٹیوں میں واپس نہیں آتے تو اسمبلیوں سے بھی استعفے دے دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن اجلاس میں تمام ارکان کو رائے کا موقع دیا جا رہا ہے، اپوزیشن ارکان کی رائے کو دیکھتے ہوئے مشترکہ فیصلے کیے جائیں گے۔
مضان کے ابتدائی دنوں میں اس معاملے نے اس وقت شہ سرخیاں بنائیں جب فضا علی نے اپنی رمضان ٹرانسمیشن میں ڈاکٹر نبیہا علی خان کی ازدواجی زندگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے علیحدگی کا ذکر کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر خاصا ہنگامہ برپا ہو گیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر نبیہا علی خان نے اپنے شوہر کے ساتھ معاملات حل کر لیے اور دونوں دوبارہ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔
اب ڈاکٹر نبیہا علی خان کے شوہر حارث کھوکھر نے ایک حالیہ ٹک ٹاک انٹرویو میں فضا علی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے دوران فضا علی نے گویا ’’شیطان کی جانشین‘‘ کا کردار سنبھال لیا ہے۔
حارث کھوکھر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب میاں بیوی کے نجی معاملات کو ڈیجیٹل میڈیا یا سوشل میڈیا پر لایا جاتا ہے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب فضا علی نے ٹی وی پر ان کا نام لے کر بات کی تو انہوں نے بھی جواب دینا ضروری سمجھا
رجب بٹ نے اب رسمی طور پر ایمان فاطمہ کو طلاق کے کاغذات بھیج دیے ہیں۔ طلاق کے کاغذات موصول ہونے پر ایمان فاطمہ نے انسٹاگرام پر اسٹوری شیئر کرتے ہوئے اپنی خاموشی توڑ دی۔
انہوں نے لکھا کہ انہیں یہ توقع تھی، لیکن انہوں نے سوال بھی کیا کہ ان یا ان کے بیٹے نے کس جرم کی وجہ سے یہ سزا پائی۔
ایمان نے اپنی اسٹوری میں لکھا، ’میں اس رشتے کو بچانے کے لیے خاموش رہی، لیکن پہلے پوڈ کاسٹ میں مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور اب یہ قانونی نوٹس۔۔۔ میں صرف یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اس سب میں میرا اور میرے بیٹے کا کیا قصور ہے؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، لیکن ماہِ رمضان کے تقدس کے پیش نظر وہ فی الحال خاموش ہیں۔
اس خبر کے وائرل ہوتے ہی انٹرنیٹ صارفین نے راجب بٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔۔ ایک صارف نے لکھا، ”یہ بچے کے بعد طلاق دینے کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی، کیونکہ رجب زارا ملک کے ساتھ انوالو ہیں
بورڈ آف ریونیو پنجاب کے تحت اسٹامپنگ نظام میں بڑی ڈیجیٹل اصلاحات کی گئی ہیں، جس کے تحت اب اسٹامپ ڈیوٹی کی ادائیگی اور اسٹامپ کا اجرا مکمل طور پر آن لائن ممکن ہو گیا ہے۔
شہری اب سرکاری پورٹل کے ذریعے گھر بیٹھے ای-اسٹامپ حاصل کر سکیں گے اور موبائل ایپ کے ذریعے ادائیگی اور OTP تصدیق کے بعد ای-اسٹامپ فوری جاری کیا جائے گا۔
ای-اسٹامپ اب عام سفید کاغذ پر ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کیا جا سکے گا، جس کے نتیجے میں شہریوں کو بینک جا کر اسٹامپ خریدنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
نئے نظام سے جعلی اور غیر قانونی اسٹامپ پیپر کے استعمال کا خاتمہ ممکن ہوگا اور ای-اسٹامپنگ سے شفافیت، سہولت اور تیز رفتار سروس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
شہری تمام اقسام کی مالیت کے اسٹامپ پیپر آن لائن پورٹل کے ذریعے حاصل کر سکیں گے جبکہ اسٹامپ فروش کے 300 روپے سے کم مالیت کے اسٹامپ پیپر اجرا کرنے کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔










