اسلام آباد یونائیٹڈ ٹیم کی جانب سے کھیلنے والے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی ڈیوون کونوے اور مارک چیپمین پاکستان پہنچ گئےدونوں کھلاڑیوں نے ایئرپورٹ پر پہنچ کر اپنے مداحوں کو اردو زبان میں پیغام دیا۔
جبکہ مارک چیپمین کہتے ہیں ’ہم آگئے ہیں شیروز‘۔
دوسری جانب ملتان سلطانز کے آسٹریلوی لیجنڈ اسٹیو اسمتھ بھی لاہور پہنچ گئے ہیں۔ ان کے علاوہ تبریز شمسی، جوش فلپ، پیٹر سڈل اور کوچ ٹم پین سمیت ملتان سلطانز کے تمام غیر ملکی کھلاڑی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل 11 کے شیڈول میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔
پی سی بی نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت ٹورنامنٹ کو صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شائقین سے معذرت خواہ ہیں، ٹکٹ کے پیسے واپس کیے جائیں گے۔
خطے میں جنگی ماحول کے باوجود کرکٹ کا میلہ بروقت سجے گا، پی سی بی نے ایچ بی ایل پی ایس ایل کی تمام ٹیموں کے ساتھ ٹریننگ شیڈول شیئر کر لیا جس کے مطابق 24 اور 25 مارچ کو پلیئرز تیاریاں جانچیں گے۔
آسٹریلینز سمیت اب تک کسی غیر ملکی کھلاڑی نے اپنی فرنچائز یا بورڈ کو عدم دستیابی سے آگاہ نہیں کیا، حکام سب ہی کی آمد کے منتظر ہیں، تاحال پشاور کا واحد میچ بھی ’’آن‘‘ ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا افتتاحی مقابلہ 26 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپیئن لاہور قلندرز اور حیدرآباد کنگز مین کے درمیان ہوگا، ان دنوں مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑی ہوئی ہے جس کی وجہ سے فلائٹس کا شیڈول درہم برہم ہو چکا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد بھارت سے ٹیموں کو وطن واپسی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالات کی وجہ سے پی ایس ایل میں تاخیر کے خدشات بھی سامنے آئے، البتہ پی سی بی حکام کے مطابق انعقاد وقت پر ہوگا۔
گزشتہ روز تمام ٹیموں کے ساتھ ٹریننگ کا شیڈول بھی شیئر کر لیا گیا جس کے مطابق 24 اور 25 مارچ کو پریکٹس سیشنز کا انعقاد ہوگا۔ 2، 2 ٹیمیں ایک وقت میں اپنی تیاریاں جانچیں گی۔
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کے 3 کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی۔
آسٹریلوی وزیرداخلہ نے اپنےبیان میں کہا3 ایرانی کھلاڑیوں نے واپس ایران جانے کا فیصلہ کیا ہے،اب تک 7 میں سے 4 کھلاڑی آسٹریلیا چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی ہیں،ایک کھلاڑی نے گزشتہ ہفتے ہی اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا تھا۔
ایرانی کھلاڑیوں کی جانب سے قومی ترانہ نہ پڑھنے پر تنازعہ شروع ہوا تھا،ایران میں شدید تنقید پر 7 کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دی تھی۔
سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا، 2006 میں انڈر 19 ورلڈ کپ اور 2017 میں چیمپئنز ٹرافی جیتنا میرے کیریئر کے یادگار لمحات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ساتھی کھلاڑیوں، کوچز، اہلخانہ اور مداحوں کی حمایت پر دل سے شکر گزار ہوں۔ پاکستان ٹیم کی تینوں فارمیٹس میں قیادت کرنا میرے لیے خواب کی تعبیر تھا، میں نے ہمیشہ نڈر کرکٹ کھیلنے اور متحد ٹیم بنانے کی کوشش کی۔
سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ بابر اعظم، فخر زمان، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان جیسے میچ ونرز کو ابھرتے دیکھنا میرے لیے باعثِ فخر ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کا اعتماد اور حمایت ہمیشہ یاد رہے گی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گی اور میں ہر ممکن طریقے سے کھیل کی خدمت کرتا رہوں گا۔
بنگلادیش کے خلاف میچ میں سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ کے بعد راولپنڈی ٹریفک پولیس کی پوسٹ سوشل میڈیا پر چھا گئی ہے۔
ٹریفک پولیس نے میچ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ایک دلچسپ لیکن سبق آموز پیغام دیا، جس میں احتیاط اور ذاتی ذمے داری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پوسٹ میں لکھا گیا: ’’سڑک ہو یا کھیل کا میدان، محفوظ رہنے کے لیے، دوسروں پر بھروسہ کم اور خود پر اعتماد زیادہ کریں!‘‘
سب سے اہم چیز آپ کی اپنی ذمے داری اور محتاط رویہ ہے۔ راولپنڈی ٹریفک پولیس نے مزید لکھا کہ دوسروں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنے فیصلوں پر بھروسہ کریں اور ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں۔
یہ پیغام ڈرائیونگ کے حوالے سے بھی سبق آموز قرار دیا گیا، جس میں ٹریفک قوانین کی پابندی، اردگرد کی صورتحال پر نظر رکھنا اور اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دینا شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہی رویہ نہ صرف آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق زمان خان پشاور اور فیصل آباد کے میچ میں انجرڈ ہوئے، اُن کے کاندھے کا جوڑ اترا ہے۔
پی سی بی نے زمان خان کو لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے، پاکستاں کرکٹ بورڈ کا میڈیکل پینل زمان خان کی ریکوری اور ری ہیب پلان ترتیب دے گا۔
کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ زمان خان کی فٹنس کی بحالی میں 4 سے 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ فاسٹ بولر زمان خان پی ایس ایل میں راولپنڈی کے اسکواڈ میں شامل تھے۔










