World

مذاکرات کےلئے تیار، طاقت کی زبان قبول نہیں، ایران گھٹنے ٹیکیں گے نہ جوہری حق سے پیچھے ہٹیں گے

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ کسی کی اجازت کے بغیر اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا، ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا لیکن پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کے شکار رہے ہیں۔ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جامعات، طبی مراکز، اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا لیکن ہم نے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی میں کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔ صدر پزیشکیان نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور منیاب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کو بغیر کسی قانونی جواز کے قتل کیا گیا جبکہ جنگ کے پہلے ہی روز اسکول کی درجنوں کو طالبات کو شہید کیا گیا۔انھوں نے یہ بھی بآور کرایا کہ ایران گزشتہ 200 برس سے کسی ملک پر حملہ کرنے والا ملک نہیں رہا اور وہ اپنی طاقت کو جارحیت یا علاقائی بالادستی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ ہم دوسروں کی عدم سلامتی میں اپنی سلامتی تلاش نہیں کرتے۔اسرائیل کے جوہری تنصیبات کا معائنہ کیوں نہیں کرایا جاتا؟ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا تاہم پرامن جوہری ٹیکنالوجی اس کا فطری حق ہے۔صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران نہ جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور نہ ہی پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار ہوگا۔انھوں نے بار بار ایران کے جوہری پروگرام کی انسپیکشن پر کہا کہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کیوں نہیں کیا جاتا حالانکہ اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *