Pakistan

مذاکرات کےلئے تیار لانگ مارچ اسلام آباد ضرور آئے گا، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد ہی آئے گا، پشاور سے خیبر اور پھر وہاں سے پیرودھائی پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی دوبارہ ہونے چاہئیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ لانگ مارچ اگر اسلام آباد پہنچ بھی جائے تو بات چیت کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہیے، مذاکرات کے ذریعے مطالبات پر پیشرفت ضروری ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ لانگ مارچ اسلام آباد ہی آئے گا اور جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ قافلہ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے تو عوام میں جوش پیدا ہوگا۔ان کے مطابق مارچ پشاور سے خیبر اور خیبر سے پیرودھائی کی جانب جائے گا، انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے وہ اگلے روز کنٹینر پر بھی موجود ہوں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے بھی ملاقات کریں گے۔پی ٹی آئی رہنما نےکہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں اور لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے کے باوجود حکومت سے بات چیت جاری رکھنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات واضح اور سادہ ہیں، ان پر کچھ نہ کچھ پیشرفت ہونی چاہیے اور مذاکرات کا عمل ’’کٹ آف‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو لوگ مذاکراتی عمل کا حصہ رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے کتنی کوششیں کی گئیں۔بیرسٹر گوہر سے جب محسن نقوی سے رات کو ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ ان کی رات کو محسن نقوی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم کو مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرنا چاہیے تھا، ان کے مطابق انہیں علم نہیں کہ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا ہے یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے اور ساتھ ہی آل پارٹیز کانفرنس جلد بلانے اور اس پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پہلے کال اپ کرنے کی شرط کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ پا رہی۔انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور لانگ مارچ کا مقصد بھی مذاکرات کے مطالبات منوانا ہے، اور پی ٹی آئی کے مطالبات سادہ ہیں اور حکومت کو پہلے ہی ان پر غور کرنا چاہیے تھا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک سال گزر چکا ہے، عمران خان کو جیل میں رکھا گیا، ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں رکھا گیا، جبکہ ان کی بہنوں کی گرفتاری پر بھی پی ٹی آئی جواب چاہتی ہے۔انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری کو اپنی تہذیب اور روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے بہت زیادہ تلخی پیدا ہوتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *