World

طیارے تباہ ایران جنگ میں امریکہ کو بھاری مالی نقصان کا سامنا،45 ڈرون بھی تباہ ہوئے

ویب ڈیسک: ایران جنگ کے دوران امریکہ کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق جنگ کے سات ماہ کے دوران امریکا کے مجموعی طور پر 81 فوجی طیارے تباہ یا متاثر ہوئے، جن کی مالیت تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک بنتی ہے۔نقصان میں جدید ایف-35 لڑاکا طیارہ، 12 ایف-15 ای فائٹرز، 7 فضائی ایندھن بھرنے والے ٹینکرز اور 270 ملین ڈالر مالیت کا ای-3 جاسوس طیارہ بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی نقصانات میں 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز بھی شامل ہیں، ریپر ڈرونز کے اتنے بڑے نقصان کے بعد امریکی فضائیہ کے آپریشنل بیڑے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ریپر ڈرونز کی موجودہ تعداد تقریباً 135 رہ گئی ہے، جو امریکی فضائیہ کی مطلوبہ 189 طیاروں کی سطح سے نمایاں کم ہے۔ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکا کو اپنے ہی دفاعی نظام سے بھی نقصان اٹھانا پڑا، رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تباہ ہونے والے 12 ایف15 ای طیاروں میں سے تین کویت کے اوپر مبینہ فرینڈلی فائر کے واقعات میں تباہ ہوئے۔فرینڈلی فائر سے مراد وہ صورتحال ہے جس میں اتحادی یا اپنی ہی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں اپنے فوجی اثاثے متاثر ہوجائیں۔امریکی فضائی نقصانات میں جدید ترین ایف35 لڑاکا طیارے کا نقصان بھی رپورٹ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ تقریباً 270 ملین ڈالر مالیت کا ای3 طیارہ بھی تباہ یا متاثر ہونے والے اثاثوں میں شامل ہے۔یہ نقصانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جدید جنگی طیاروں اور بڑے فوجی ڈرونز کی تیاری اور دوبارہ بیڑے میں شمولیت ایک طویل اور مہنگا عمل ہے۔ایران جنگ میں امریکہ کو بھاری مالی نقصان کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ پر امریکی اخراجات پہلے ہی 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، اور اس کے مزید طول پکڑنے کی صورت میں امریکی فضائیہ کو نہ صرف اضافی آپریشنل اخراجات کا سامنا ہوگا بلکہ متاثرہ طیاروں اور ڈرونز کی جگہ نئے اثاثے شامل کرنے کا چیلنج بھی درپیش رہے گا۔
ریپر ڈرونز کی تعداد میں کمی خاص طور پر توجہ طلب ہے، کیونکہ موجودہ تعداد امریکی فضائیہ کی مقررہ ہدف تعداد سے کم بتائی جا رہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *