Blog
وزیر اعلیٰ پر تنقید پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں نہ گورنر راج چاہتی ہے اور نہ ایمرجنسی۔ محمد علی شاہ باچا

مرکز کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے 98 فیصد مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے لیکن وزیراعلی خیبر پختون خوا نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے نقطے پر اعتراض کیا اور کامیاب مذاکرات کو ویٹو کیا۔ جبکہ گزشتہ روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں مرکز کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کا فورم فراہم کرنے والی پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر اصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا گیا چاہیے تو یہ تھا کہ کابینہ کے اجلاس میں ان کا شکریہ ادا کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختون خوا کے صدر محمد علی شاہ باچا نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ جمعرات کے روز پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے نرغے میں رہنے والے علاقوں سے اپنے لانگ مارچ کا اغاز کرنے والے کنٹینر پر بیٹھ کر صوبے کی سیر کرنے والے وزیراعلی سہیل افریدی اب کابینہ کا اجلاس صرف تنقید کے لیے بلاتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبر پختون خواہ نے ان شخصیات پر تنقید کی جنہوں نے مرکز کے ساتھ مذاکرات کے لیے انہیں فورم فراہم کیا اور گورنر پرشدید تنقید کی گئی اور اس اجلاس کی مخالفت کی گئی جس میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے اداروں سے امن و امان پر بریفنگ لی۔ محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ یہ میٹنگ ایک ماہ پہلے بلا لینی چاہیے تھی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختون خواہ کے ساتھ مخلص نہیں اس وقت صوبے کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اس صورت میں ائین اجازت دیتا ہے کہ گورنر اپنا کردار ادا کریں لیکن پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی ائین سے مکمل طور پر نہ بلد ہے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے نام پر اب صوبے کے مختلف شہروں کے چکر لگائے جا رہے ہیں اور اس کی قیادت بھی کنٹینر پر بیٹھ کر وزیراعلی خیبر پختون خواہ کر رہے ہیں لگتا ہے کہ یہ لانگ مارچ کا قافلہ افغانستان کا چکر بھی لگائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی دہشت گردی ہے جس کی مخالفت پاکستان پیپلز پارٹی کرتی ا رہی ہے اور انہی دہشت گردوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی شہید کیا اور اسی دہشتگردی کی وجہ سے ہمارے اٹھ ایم پی اے بھی شہید ہوئے ۔ پیپلز پارٹی پارلیمان کی بقا کی بات کرتی ہے اور وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کو کہتی ہے کہ اپ ائین کا مطالعہ کریں کہ ائین کیا کہتا ہے کیونکہ گزشتہ 13 سالوں میں خیبر پختون خواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کوئی ڈلیور نہیں کر سکی وہ صرف اور صرف عمران خان کے بیانیے میں مصروف ہے انہیں عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں اج ہمارے فوجی اور پولیس جوان ملک کی بقا کے لیے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر رہے ہیں اور یہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عوام دہشت گردوں کی وجہ سے قربانیاں دے رہے ہیں خیبر پختون خواہ میں بےروزگاری عام ہے اور کرپشن عروج پر ہے اربوں روپے کی ٹھیکے اپنے من پسند افراد کو کروڑوں میں دیے جا رہے ہیں۔ محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ خیبر پختون خواہ کے سیاسی حالات خراب کرنے میں سب سے بڑا کردار پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا ہے اور اگر خدا نخواستہ خیبر پختون خواہ میں کوئی سیاسی تبدیلی ایسی اتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعلی خیبر پختون خوا پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی صاحب کنٹینر پر بیٹھ کر گورننس چھوڑ کر سیر کے لیے نکلے ہوئے ہیں انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں فکر ہے تو عمران خان کی ہے کہ انہیں کیسے باہر نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختنخواہ حکومت ملی تو پیپلز پارٹی نے ہاتھ اگے بڑھایا اور پی ٹی ائی کو کہا کہ ہم بھی اپ کو افر کرتے ہیں کہ ہم خیبر پختون خواہ کی ترقی میں اپ کا ساتھ دیں گے