Pakistan

اب کیا ہوگا؟ پختونخوا میں ایمرجنسی؛ گورنر راج کے بعد اب کیا ہوگا؟ اہم حقائق سامنے آگئے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اب کیا ہوگا؟ اس حوالے سے اہم حقائق سامنے آگئے۔وفاقی حکومت کی جانب سے کے پی کے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے منظوری کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کر دی گئی ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے فوج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے 3 اہم پہلو سامنے آئے ہیں، جن میں صوبائی انتظامی اختیارات کی منتقلی، انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر وفاق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات اور گورنر راج کے آئینی جواز پر ممکنہ قانونی تنازع شامل ہے۔واضح رہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری گزشتہ روز (11 اکتوبر کو) دی گئی اور وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے عدم تعاون کو قرار دیا ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جمہوری مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔صوبے کی موجودہ صورت حال میں اہم پیش رفت 11 رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل کا قیام ہے۔ کونسل کے ارکان نے اپنے اپنے انتظامی شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔کونسل میں مالیات، داخلہ، قانون، تعلیم، صحت، توانائی، صنعت، مواصلات اور دیگر محکموں سے متعلق ذمہ داریاں تقسیم کی گئی ہیں، جبکہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کونسل کی سربراہی کر رہے ہیں۔اس پیش رفت کا بنیادی اور آسان مطلب یہ ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی امور چلانے کے لیے ایک نیا انتظامی بندوبست تشکیل دے دیا گیا ہے، جس میں گورنر کو مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل ہوگی، تاہم اس بندوبست کے عملی نتائج کا تعین آنے والے دنوں میں سرکاری فیصلوں، انتظامی احکامات اور عدالتی کارروائیوں سے ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *