Blog
ایران سے مذاکرات آج، معاہدہ جنگ سے بہتر ہے: صدر ٹرمپ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کی اولین ترجیح قرار دے دیا۔

نیو جرسی سے واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کی دوپہر شروع ہوں گے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مذاکرات کہاں ہوں گے اور ان میں کون شریک ہوگا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران, سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے امریکا سے حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جا سکے اور ایران کے جوہری پروگرام پر ایک معاہدہ طے پا سکے۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے لیے کوئی آخری مہلت مقرر کی گئی ہے تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا کیونکہ جنگ میں بہت سے لوگ جان سے جاتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر گزشتہ کئی ماہ سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں اور متعدد بار نئے حملوں کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں، تاہم ہر بار مذاکرات کو موقع دینے کے لیے فوجی کارروائی مؤخر کی جاتی رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی اہم بحری راستے سے ہوتی ہے جس کی بندش سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کی اولین ترجیح ہے تاہم بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں اور معاشی دباؤ کے باعث ان پر جنگ کے بجائے سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔