Blog
آبنائے ہرمز پر عبوری معاہدے کا اعلان آج متوقع شمالی راستے پر ایران، جنوبی راستے پر عمان کا کنٹرول ہوگا

امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا کی جانب سے آج اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد سامنے آنے والے اس معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا اور جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ممکنہ معاہدہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر زیادہ کنٹرول کے حوالے سے ایران کے بعض مطالبات پورے کر دے گا جو کہ جنگ سے پہلے اسے حاصل نہیں تھا۔ دو علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں عمان اور ایران کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام طے کیا گیا ہے جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔اس انتظام کے تحت، آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے تمام بحری جہازوں کی ٹریفک ایرانی حدود سے گزرنے والی شمالی لین سے گزرے گی جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرہ عرب کی جانب نکلنے والی ٹریفک ایران کی مشاورت سے عمانی حدود سے گزرنے والی جنوبی لین استعمال کرے گی، اس 60 روزہ مدت کے دوران کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی