وہ جہاں ہوں، وہاں شرارت ضرور ہوگی، سنیل شیٹی کا انکشاف

بالی وڈ کے سینئر اداکار سنیل شیٹی نے ساتھی اداکار اکشے کمار کے حس مزاح کی تعریف کی ہے۔
بھارتی میڈیا کو انٹرویو کے دوران سنیل شیٹی نے اداکار اکشے کمار کی چنچل فطرت اور مزاحیہ انداز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اکشے کمار کے ڈی این اے میں شرارت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکشے کی فطرت میں مذاق کرنا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، یہ ہی وجہ ہے کہ ایک سین کو پرفارم کرتے ہوئے وہ ہمیشہ اس میں کچھ مختلف لانے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ اداکاری ہو یا ایکشن سیکوینس، وہ مزاح کا ایک عنصر شامل کرتے ہیں۔
سنیل شیٹی نے بالی وڈ اداکار گووندا اور سلمان خان کے مزاحیہ انداز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ ان کے منفرد حس مزاح اور آسان کامک ٹائمنگ کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اکشے کمار اور سنیل شیٹی کی فلم ویلکم ٹو دی جنگل رواں ماہ کی 26 تاریخ کو ریلیز کی جائے گی۔
اس فلم میں اداکارہ دیشا پٹانی، جیکولین فرنینڈس، روینہ ٹنڈن، لارا دتہ، فریدہ جلال، اداکار ارشد وارثی، جیکی شروف، پاریش راول، جانی لیور، شریاس تلپڑے، تشار کپور، راجپال یادیو سمیت دیگر اداکاروں کی ایک بڑی کاسٹ شامل ہے۔

پاکستانی تاجروں کے لیے بڑی خوشخبری، پاک ایران تجارتی ویزا بحال

پاکستانی تاجروں کے لیے تقریباً ایک سال بعد تفتان بارڈر پر تجارتی ویزا سہولت دوبارہ فعال کر دی گئی ہے۔
بلوچستان ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے بعد پاک ایران سرحدی تجارت کا نیا سفر شروع ہوگیا۔ ویزا بحالی سے پاک ایران تجارتی روابط مزید مضبوط اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، طویل انتظار ختم ہونے پر تاجروں نے تجارتی ویزا بحالی کے فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا۔
مقامی تاجروں نے ویزا بحالی کو معیشت اور روزگار کے لیے بڑا مثبت قدم قرار دے دیا۔

پاکستان نے اسرائیلی جاسوسوں کو کس طرح چکما دیکر امریکا ایران معاہدہ محفوظ بنایا؟

دبئی: پاکستان نے اپنی کامیاب حکمت عملی کے تحت اسرائیلی جاسوسوں کو چکما دے کر امریکا ایران معاہدہ محفوظ بنالیا۔ذرائع کے مطابق امریکی جنگی جہازوں پر خفیہ ترین مذاکرات ہوئے جب کہ معاہدے کیلئے خفیہ ملاقاتیں پاکستان، قطر، عمان اور آذربائیجان میں ہوئیں ۔ دوسری جانب ہاتھوں سے لکھے خطوط کے ذریعے امریکا ایران معاہدہ محفوظ بنایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ اسرائیلیوں کو مختلف ذرائع سے فیک نیوز پہنچائی گئیں۔

عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر جواب طلب

بانی پی ٹی کی ملاقاتوں پر پابندی کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پرسپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر تے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ، ہوم سیکرٹری پنجاب ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور پنجاب کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے تین ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی سلمان اکرم راجہ نے بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے کے ہائیکورٹ کے فیصلے پر عدم عمل درآمد کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔مشعال یوسفزئی کی جانب سے بھی درخواست دائر کی گئی تھی سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر علی ظفر، عزیر بھنڈاری عدالت میں پیش ہوئے

مہاجرین کی نشستیں بندوق کے زور پر ختم نہیں ہو سکتیں، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیاکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی غیر مشروط طور پر سرنڈر کرتے ہیں، احتجاج ختم کرتے ہیں تو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جاسکتا ہے۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو کشمیری احتجاج کررہے ہیں اس صورتحال میں جو کچھ ہورہاہے وہ پاکستان کی ساکھ اورکشمیرکازکو بھی نقصان پہنچارہاہے، آزاد کشمیر میں مسائل پیدا کیے جارہے ہیں ، اشیاء خورونوش کی قلت ہورہی ہے۔بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا قانون ہاتھ میں لینے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، پولیس ایکشن لے، ساتھ ہی پیغام دیا اس سے پہلےکہ ہمیں زبردستی کرنا پڑے قانون توڑنے والوں سے مظاہرین خود کو الگ کریں، احتجاج کرنے والے اپنی صفوں سے انتہا پسندوں کو الگ کریں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نےکہا مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ زیادہ متنازع ہو گیا ہے، یہ ایسا معاملہ نہیں جو حل نہ ہو سکے، مہاجرین کی نشستیں بندوق کے زور پر ختم نہیں ہو سکتیں، ہمارا اصولی موقف ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے، مہاجرین کی نشتستوں کا معاملہ دھمکیوں اور دھرنےکے بجائے بات چیت اور قانون سازی سے حل ہوگا۔ اس معاملے پر جتنا ایکشن کمیٹی کا حق ہے اتنا ہی مسلم کانفرنس اور دوسری جماعتوں کا حق ہے۔بلاول بھٹو بولے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ اسی فیصد مکمل تھا، ہم مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں، پُرامن طریقے سے سیاسی انداز میں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے، تمام مسائل کا حل پاکستان کے دائرے میں رکھیں۔بلاول بھٹو نے کہا مہاجرین کو ووٹ کا حق بھی دیا جانا چاہیے، اس پر کوئی رکاوٹ نہیں، اس طریقے سے دھمکیاں دے کر معاملہ مزید خراب کیا جا رہا ہے، میں زور دیتا ہوں کہ ایکشن کمیٹی سیاسی انداز میں معاملہ حل کرنے کی طرف جائے

سوئس حکومت کی تصدیق، امریکہ اور ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر

سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے ابتدائی مذاکرات جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ کے مشہور پہاڑی تفریحی مقام بورگن اسٹاک میں ہوں گے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئس وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ منصوبے کے تحت امریکا اور ایران کے نمائندے، جبکہ پاکستان اور قطر بطور ثالث، دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ جمعہ کو مذاکراتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
بیان کے مطابق اس ملاقات کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر ابتدائی مشاورت کرنا ہے۔
سوئس حکام نے اجلاس کے ایجنڈے، شرکاء کی سطح یا ملاقات کے مکمل شیڈول کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزرلینڈ میں کسی بالمشافہ تقریب کا انعقاد نہیں ہوگا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی الیکٹرانک طریقے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکے ہیں۔
سفارتی مبصرین کے مطابق بورگن اسٹاک میں ہونے والا اجلاس امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد اعتماد سازی اور عملی اقدامات کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کو بھی اس عمل میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک نے مذاکراتی ماحول پیدا کرنے اور فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیتموں میں کمی کا عندیہ،کمیٹی تشکیل

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آنے سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر بیان دیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں، ایران اور امریکا جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو فوری منتقل کیا جائے، لہٰذا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا شفاف ہفتہ وار فارمولا مرتب کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔انہوں نے کہا کہ شفاف فارمولے کی بدولت عوام قیمتوں میں تبدیلی کی وجوہات کو سمجھ سکیں گے، نیا فارمولا تمام اسٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کے ساتھ بنایا جائے گا۔علی پرویز ملک نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں تیل کی سپلائی چین بلا تعطل برقرار رکھی گئی، حکومت توانائی سلامتی کے فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاستی مفادات کے تحفظ اور توانائی سلامتی کے لیے متعدد نئے اقدامات پر کام جاری ہے، بحران کے دوران تعاون پر تمام شراکت داروں اور عوام کے شکر گزار ہیں

مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی شناخت پر خطرات،مسلم دنیا میں تشویش کی لہر

اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں بعض حلقے مسجد اقصیٰ کے احاطے کو باضابطہ طور پر ’کثیر المذاہب عبادت گاہ‘ قرار دینے کی تجویز پر کام کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا اقدام صدیوں پرانے اس انتظام کے خلاف ہوگا جس کے تحت مسجد اقصیٰ کا انتظام و انصرام اردن کے زیر نگرانی اسلامی وقف کے پاس ہے۔ موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاست دان مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادات کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کے حامی ہیں۔ اسرائیلی دائیں بازو کے رہنما موشے فیگلن نے حال ہی میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جا کر مذہبی نغمے گائے اور وہاں نئی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے حق میں بیان دیا۔
دوسری جانب اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر بھی متعدد بار مسجد اقصیٰ کا دورہ کر چکے ہیں، جس پر فلسطینی اور عرب ممالک شدید اعتراض کرتے رہے ہیں۔ حالیہ ویڈیوز میں انہیں اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حق ملکیت کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے دعووں کی تردید کی ہے، تاہم فلسطینی، اردن اور دیگر علاقائی ممالک نے اس حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھر اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفیٰ ابو سوئے نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے معاملے میں مداخلت مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
دریں اثنا مقبوضہ مغربی کنارے کے دو فلسطینی دیہات میں نامعلوم اسرائیلی آبادکاروں نے مساجد کو آگ لگا دی۔ مقامی حکام کے مطابق رام اللہ کے قریب واقع گاؤں جِلجِلیہ میں مسجد کے وضو خانے اور دیگر حصوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ دیواروں پر عبرانی زبان میں اشتعال انگیز نعرے بھی تحریر کیے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے سے مسجد کی چھت، دیواریں اور فرش بری طرح متاثر ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائے وقوعہ پر پہنچنے تک مشتبہ افراد فرار ہو چکے تھے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت سے متعلق بحث ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان کی ثالثی عالمی توجہ کا مرکز

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں

اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے۔
شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔

دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تصدیق کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی دستخط کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی۔

امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا سرکاری متن بھی جاری کر دیا ہے۔ معاہدے کا عنوان “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” رکھا گیا ہے۔

سی این این ورلڈ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے 14 نکاتی دستاویز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران پر عائد بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل کے تکنیکی مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق توقعات کا تعین کیا گیا ہے۔

سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی، ایران کے جوہری مواد سے متعلق اقدامات اور پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔

مثبت رویہ اپنائیں، 300 ارب ڈالر تک رسائی پائیں: ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جوہری اور دیگر معاملات پر مذاکرات میں بھی پیش رفت ممکن ہے۔
اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں، تاہم اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدامات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔
انہوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ امریکی افواج کچھ عرصے تک خلیجی خطے میں موجود رہیں گی تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امور پر سفارتی رابطے اور مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔