اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرینگے اور ہڑتال کا آپشن بھی موجود ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ کےمطابق تیل کی قیمت 271 بنتی ہے مگر 117 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز لگاکر عوام کو 401 روپے فی لیٹر پیٹرول مل رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ بھارت اور بنگلا دیش میں قیمتیں نہیں بڑھیں، جنگ کے اثرات کیا صرف پاکستان پر ہی پڑ رہے ہیں؟ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی اور گیس پر فکس چارجز لگائے گئے ہیں، تین سال میں بجلی کے ٹیکسز کی مد میں 19کھرب روپے وصول کے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ 100 میں سے 15 آئی پی پیز سےحکومت نے ڈیل کیا، باقی آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، یہ اپنی کرپشن کیلئے آئی پی پیز کے معاہدوں میں توسیع کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 15 مئی کو اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف بڑا احتجاج کریں گے جبکہ ہڑتال اور پہیہ جام کا آپشن بھی موجود ہے
نوشہرہ کے علاقے میاں عیسیٰ میں راستے کے تنازع پر فائرنگ کے نتیجہ میں7 افراد جاں بحق ہوگئے،جاں بحق ہونے والوں میں ایک فریق کے 3 جبکہ دوسرے فریق کے 4 افراد شامل ہیں،واقعہ گھر کے سامنے راستے کے تنازع پر پیش آیا، پولیس کے مطابق ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے
اپر سوات کے علاقے بیدرہ میں ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 7 سالہ بچی طبی معائنے اور بعد ازاں آپریشن کے بعد لڑکا قرار دی گئی۔
بچّی کے والد سیف الرحمان کے مطابق ان کی بیٹی نور بچپن سے ہی لڑکوں جیسی عادات و اطوار رکھتی تھی، جس پر انہوں نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا۔ ان کے مطابق طبی معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچہ 99 فیصد لڑکا ہے۔
بعد ازاں مزید طبی کارروائی اور آپریشن کے بعد بچے کو مکمل طور پر لڑکا قرار دے دیا گیا، جس کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے محمد نور رکھ دیا گیا۔
واقعے کے بعد خاندان، عزیز و اقارب اور اہلِ محلہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ والد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تمام اولاد سے خوش ہیں، تاہم اس تبدیلی کو وہ اللہ کی خاص نشانی اور کرم سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے پر کسی بھی ڈاکٹری یا متعلقہ میڈیکل ادارے کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ تھانہ سٹی کی حدود میں نصب 10 کلو وزنی بم کو ناکارہ بنا کر ممکنہ تباہی ٹال دی گئی، جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی ناکام بنا دی گئی، جہاں سماری روڈ پر نصب 10 کلو وزنی بم کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
پولیس کے مطابق تھانہ سٹی کی حدود میں مشکوک بم کی اطلاع ملنے پر بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
ڈی پی او طارق حبیب خان نے بتایا کہ ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے محفوظ طریقے سے ڈفیوز کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد تخریب کاری کے مذموم عزائم کیلئے نصب کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی بروقت کارروائی کے باعث ممکنہ طور پر ہنگو بڑی تباہی سے بچ گیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن تیز کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے ضلع بنوں کا دورہ کیا اور پولیس جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء ہمارا فخر ہیں اور ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
انہوں نے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کی اور یقین دہانی کرائی کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ آئی جی پی نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے بنوں میں وسیع پیمانے پر کارروائیوں اور تمام تھانوں و چوکیات کے سیکیورٹی آڈٹ کا حکم دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس فورس کو جدید سہولیات اور اسلحہ فراہم کیا جائے گا جبکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطر ناک، دُور رس اور تکلیف دہ ہونگے۔
معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں پر وقار یادگاری تقریب سے اپنے تاریخی خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ تعالیٰ کی رضا سے پاکستان، عوام اور مسلح افواج کو بے مثال کامیابی ملی، معرکہ حق دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں حق فتح یاب اور باطل ہزیمت سے دو چار ہوا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہندوستان کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کو عسکری جارحیت اور سفارتی تنہائی کا نشانہ بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، اس کا یہ خواب اس کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے جسے پاکستان کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 15 تک پہنچ گئی ہے۔
میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ بنوں کے ترجمان نعمان خان نے تصدیق کی ہے کہ فتح خیل چوکی پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد پولیس اہلکار ہیں۔
اس کے علاوہ تین زخمیوں کو بھی ہسپتال لایا گیا تھا جن کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل بنوں کے رینجل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ فتح خیل چوکی کی عمارت کے ملبے سے 12 پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ تین اہلکاروں کو زندہ ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نےبےنظیر انکم سپورٹ پروگرام صوبوں کے حوالے کرنے پر غور شروع کردیا۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہیں تو امدادی رقوم بھی صوبوں کو ادا کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ صوبوں کی جانب سے بھی یہ آواز اٹھائی گئی ہے تاہم حکومت کوئی بھی فیصلہ اتحادیوں اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی کرے گی۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مکمل ختم کرنے کی بات زیرِ غور نہیں
سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ریمارکس دیے ہیں کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گنہگاروں کو بری کردینا زیادہ بہتر ہے۔20 سال پرانے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا۔ملزم محمد اقبال کو 2 افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ عینی شاہد نہیں ہے جب کہ گواہان کے بیانات میں بھی تضاد پایا گیا ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ جائے وقوع اور پولیس اسٹیشن کے درمیان 2 سے 3 کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ اس کے باوجود ایف آئی آر اسی دن کیوں نہیں درج کرائی گئی، اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی۔ یہ وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ زخمی گواہ نے کیوں ایف آئی آر درج نہیں کرائی، گولیوں کے 5 خالی خول بھی فرانزک کے لیے لیبارٹری نہیں بھجوائے گئے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ بغیر شک و شبہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ وقوعے کے 14 سال بعد ملزم کا گرفتار ہونا ثابت کرتا ہے وہ قصوروار ہے، اسے قانونی طور پر قابل تائید نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ملزم سے 342 کے بیان میں مبینہ مفروری کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ وہ شہادت یا واقعہ جو ملزم کے 342 کے بیان میں اس کے سامنے نہ رکھا جائے وہ ملزم کے خلاف استعمال نہیں ہوسکتا۔ ملزم گرفتاری کے خوف سے یا پولیس کے ہراساں کیے جانے کے خوف سے مفرور رہے تو اس بنیاد پر اسے قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا۔عدالت نے کہا کہ استغاثہ کے پیش کیے گئے شواہد نقائص اور شکوک شبہات سے بھرپور ہیں۔ فوجداری فقہ قانون میں طے شدہ اصول ہے کہ کوئی واقعہ جو شک پیدا کرے اس کا فائدہ ملزم کو ہی جاتا ہے۔ 14 سو سال سے طے شدہ ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا کے بجائے 10 گنہگاروں کو بری کر دینا بہتر ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ اگر درخواست گزار محمد اقبال کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں ہے اسے فوری رہا کیا جائے۔واضح رہے کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر 29 اپریل 2006 کو بلدیہ ٹاؤن کراچی میں درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں ملزم محمد اقبال کو 2 افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور سندھ ہائی کورٹ نے بھی بعد ازاں یہ سزا برقرار رکھی تھی
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں بحال ہو سکتے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ جنگ کے خطرے کو ٹالنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران دونوں ثالثی کردار ادا کرنے والوں کے ساتھ مل کر ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کام کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی فریم ورک طے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی اور ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے جیسے اہم امور شامل ہوں گے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی اہم نکات اب بھی حل طلب ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی حد ہے جو مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق اگر بات چیت میں پیش رفت ہوتی ہے تو دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ابتدائی ایک ماہ کے مذاکراتی فریم ورک میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اس سلسلے میں پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا جس میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔










