پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے حکومتی وفد کی درخواست پر 9 اپریل راولپنڈی جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر وزرا اور حکومت اتحادیوں کی اپوزیشن اراکین سے پارلیمنٹ میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر امین الحق اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر، جنید اکبر شامل تھے۔حکومتی اتحادیوں نے موجودہ حالات میں اپوزیشن کی غیرمشروط حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا جبکہ 9 اپریل کا احتجاج مؤخر کرنے کی درخواست کی۔اسلام آباد میں مذاکرات کی بڑی بیٹھک کیلیے تیاریاں شروع، فائیو اسٹار ہوٹلز خالی کرالیے گئےملاقات کے بعد سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے راولپنڈی جلسہ ملتوی کرنے کی تصدیق کی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان ترجمان نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ وزیر پارلمیانی امور طارق فصل چوہدری نے ملاقات اور جلسہ منسوخ کرنے کی اپیل کی جس پر جلسہ ملتوی کردیا گیا۔ترجمان اپوزیشن لیڈر نے بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان صرف خارجہ امور پر بات ہوئی
تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ختم ہو گیا ہے، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی جنگ بندی اور پاکستان کے کلیدی کردار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے دوران کابینہ نے متفقہ طور پر آنے والے جمعہ کو ملک بھر میں ‘یومِ تشکر’ منانے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کی اس عظیم سفارتی جیت پر وزیرِ اعظم کو مبارکباد پیش کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ یومِ تشکر کے موقع پر مذاکرات کی حتمی کامیابی اور خطے کے امن کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں۔
وزیرِ اعظم نے اس مشن میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی انتھک کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا، جس پر کابینہ ارکان نے ڈیسک بجا کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کا وقار بلند کیا ہے اور یہ کامیابی پوری قوم کی ہے، جس کے باعث پاکستان کو امریکہ ایران مذاکرات کی میزبانی کا عظیم شرف حاصل ہوا ہے۔
شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری، نائب وزیرِ اعظم اور بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں کو بھی لائقِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ جدوجہد سے یہ ناممکن کام ممکن ہوا۔
وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ “ہم اس عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے، ہمارا مقصد خطے اور دنیا کو آگ کے شعلوں سے بچا کر پرامن بنانا ہے۔”
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا، اور موجودہ پیش رفت سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے جو عالمی بحرانوں کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ایران امریکا جنگ بندی کے معاشی اثرات فوراً ہی عالمی مارکیٹ میں دیکھے جا رہے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج 12920 پوائنٹس کی بڑی نوعیت کی تیزی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار 594 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔
پی ایس ایکس انتظامیہ کے مطابق بڑی نوعیت کی تیزی کے باعث کاروباری سرگرمیوں کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔
بعد ازاں پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری سرگرمیاں بحال کردی گئیں اور بازار حصص میں 12730پوائنٹس کی بڑی نوعیت کی تیزی کا تسلسل برقرار رہا، جس کے نتیجے میں انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 64 ہزار 404 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔ واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں بڑا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 15.9 فیصد کمی کے بعد 92.30 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والا خام تیل بھی تقریباً 16.5 فیصد کمی کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ تاہم ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کی دھمکی کے بعد توانائی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
جنگ بندی کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں جاپان کے نکئی 225 انڈیکس میں 4.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سڑکیں، پل اور مکانات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
باجوڑ اور چترال سمیت دیگر اضلاع میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے، فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) کے جوان بارش کے دوران فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں عوامی خدمت کیلئے پہنچ گئے۔
فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) کے جوانوں نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور طبی امداد دی، ایف سی نارتھ کے جوانوں نے متاثرہ شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کیں۔
مقامی آبادی نے ایف سی اہلکاروں کے جذبہ خدمت اور بروقت اقدامات کو سراہا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان اپنی تمام بیرونی ادائیگیاں بروقت ادا کرے گا، جن میں متحدہ عرب امارات کے قرضوں اور یورو بانڈز کی واپسی بھی شامل ہے.اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے کیا وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یو اے ای اور یورو بانڈزکی ادائیگی کے انتظامات کرلیے ہیں جبکہ رواں مالی سال کیلئے طے شدہ فنانسنگ اہداف کمٹمنٹ کے مطابق پورے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کشیدہ صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے زرمبادلہ ذخائرمستحکم اور آئی ایم ایف ہدف کے مطابق رکھے جائیں گے، پاکستان کی ادائیگیوں کیلئے جتنی کمٹمنٹس ہیں وہ بروقت پوری کی جائیں گی۔پاکستان متحدہ عرب امارات کے قرض سمیت تمام بیرونی ادائیگیاں بروقت کرے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلی مرتبہ پانڈا بانڈزکا اجرا کررہا جس کے باعث وقت لگ رہا ہے خطے میں کشیدگی کے ملکی اکانومی پراثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسیوں سے معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا۔وزیرخزانہ نے کہا کہ آئندہ دنوں میں اہم معاشی فیصلے اور بجٹ تیاریاں کی جائیں گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کمرشل فنانسنگ اوربانڈز جاری کرنیکی تیاریاں کی جارہی ہیں، کمرشل فنانسنگ کیلئے بینکوں کے کنسورشیم سے بات چیت چل رہی ہے اپریل کے اختتام سے پانڈا بانڈز کے اجرا کی تیاریاں دوبارہ شروع کررہے ہیں اور حکومت نے مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر پانڈا بانڈز جاری کرنے کا پلان بنایا ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز گزرنے کی وجہ سے تیل مفت ملے گا اور نہ ہی سستا۔سینیٹ اجلاس میں جمعیت علما اسلام کے رکن مولانا عطا الرحمان کے خطاب کے جواب میں وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ 28 فروری سے پہلے کروڈ آئل کی قیمت کچھ اور جبکہ آج کہی زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک سے تعلقعات کی وجہ سے جہاز نکالے گئے مگر آبنائے ہرمز سے جہاز نکلنے سے تیل مفت دے سکتے ہیں اور نہ ہی سستا، جہاز گزرنے کی وجہ سے آج ملک میں تیل دستیاب ہے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وزیراعظم نے ڈیزل سے لیوی اٹھاکر پثرول پر کردی ہے، آج دنیا میں ڈیزل سب سے زیادہ مہنگا ہے مگر پاکستان میں ڈیزل پر اس وقت کسی قسم کی کوئی لیوی نہیں لی جارہی۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شہباز شریف کی کابینہ پر کھلی عدالت میں کرپشن کا مقدمہ چلا کر دیکھیں، احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے آپ کریں مگر اس وقت عالمی دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کے بجٹ میں 50فیصد کٹوتی کی جبکہ کابینہ اراکین کی گاڑیاں چھوڑ دی ہیں، تمام سرکاری دفاتر کے فیول کا خرچ پچاس فیصد کم کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں ڈوب گئی ہیں مگر ہمارے حالات کئی ممالک سے قدرے بہتر ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ تاجر توانائی بچانے کیلئے مارکیٹیں جلد بند کریں۔قبل ازیں جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ہمیں مشرق وسطی کے معاملے میں اپنی حیثیت کو یاد رکھنا چاہیے، آبنائے ہرمز سے پاکستانی جھنڈوں سمیت جو جہاز گزرے وہ کہاں پہنچےَ کیا وہ پاکستان پہنچے ہیں یاان کا تیل اتارا گیا ہے یا نہیں ؟انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت جمعہ کے روز ملک بھر میں احتجاج کرے گی، تحریک انصاف کے دوستوں سے کہتا ہوں اس طرح سے لیڈر آزاڈ نہیں ہوتے، جس طرح آپ اڈیالہ کے باہر جاکر بیٹھ جاتے ہیں اس طرح لیڈر آزاد نہیں ہوسکتے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کے دن جے یو آئی بتائے گی احتجاج کیسے ہوتا ہے، ہمارا ہر کارکن اس ملک کے ایک ایک انچ پر اپنا خون بہانے کو تیار ہے۔مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی جمعہ کے روز مہنگائی کیخلاف احتجاج کرے گی
وزیراعظم شہباز شریف نے نئے بجٹ سے قبل منی بجٹ لانے کی تجاویز مسترد کردیں اور ایف بی آر پر واضح کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں سے عوام پریشان ہے اس لیے مزید ٹیکس لگانے یا منی بجٹ لانے کا مت سوچیں اور ریونیو بڑھانے کے متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں۔ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کی کشیدگی کے باعث ٹیکس آمدن بڑھانے سے متعلق ہونے والے اہم اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو مختلف ٹیکس تجاویز پیش کی گئیں جنہیں وزیراعظم نے مسترد کردیا۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں سے عوام پریشان ہے اس لیے مزید ٹیکس لگانے یا منی بجٹ لانے کا مت سوچیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایف بی آر کو مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باعث بجٹ تجاویز میں مفصل مشاورت کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر اہداف پر نظر ثانی کے لیے راضی کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے اور آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ کی ترجیحات حالات کے مطابق تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔آئندہ بجٹ میں افراط زر، مالیاتی خسارے سمیت اہم اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کرنٹ اکاوٴنٹ خسارے کی تین سالہ بجٹ حکمت عملی سے اہداف بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے بجٹ سازی پر کام تیز کردیا گیا ہے اور رواں ماہ سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کے اجلاس متوقع ہیں اور بجٹ سازی کا عمل مکمل کرکے جون کے پہلے عشرے بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا معاہدہ ہوا ہے لیکن ہمیں حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ2025 کے بعد پاکستان کا اسٹیٹس کافی تبدیل ہوا ہے، جس انداز سے دنیا پاکستان کو دیکھ رہی ہے، امریکا اور یورپ کی پاکستان کی جانب اپروچ تبدیل ہوئی ہے، یہ سب پاکستانی عوام کی یک جہتی، سپورٹ اور افواج پاکستان کی بہادری کی وجہ سے ہوا ہے اور پاکستان کا مکمل اسٹیٹس تبدیل ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، سمجھتے ہیں جنگ نہیں ہونی چاہیے، کل اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ پاکستان اس میں کیا کردار ادا کر رہا ہے، ہم چاہتے ہیں پاکستان بہترین کردار ادا کرے لیکن ہمیں بتائیں تو صحیح کیا مذاکرات ہو رہے ہیں، پاکستان کا کیا کردار ہے اور آپ جو ثالثی کررہے ہیں وہ کس مرحلے پر ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہوا، حرمین شریفین کی حفاظت کے معاہدے پر فخر ہے، بانی پی ٹی آئی نے بھی کہا اور سب نے کہا سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ بہت اچھا ہے لیکن ہمیں حکومت نے آج تک نہیں بتایا کہ سعودی معاہدہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، سیاسی سوچ رکھتے ہیں، تحریک بھی چلائیں گے، احتجاج کریں گے اور عدالتوں میں جائیں گے جبکہ ملاقاتیں نہ ہونا افسوس ناک ہے، ہماری ملاقاتیں اکتوبر سے نہیں ہو رہی ہیں اور جنوری سے سارے تشویش کا شکار ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ لوگ دو دو قدم پیچھے ہوجائیں گے لیکن ہمیں ایک انچ کی اسپیس نہیں مل رہی ہے، اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور عوام کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے تو یہ آپ کی غلط سوچ ہے، برائے مہربانی ملک پر رحم کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی برآمدات کی پیشرفت کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔شہباز شریف نے بیٹری توانائی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہی بجلی شعبے کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات جاری ہیں۔ انہوں نے پی این ایس سی کو سمندری راستے سے ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے بحری جہازوں کا انتظام کرنے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری سے خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی رسد یقینی بنائی گئی ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کے حوالے سے طویل مدتی لائحہ عمل، حالیہ عالمی صورتحال میں ملکی برآمدات کے لئے مواقع اور درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار میں 55 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع اور 45 فیصد حصہ حیاتیاتی (fossil) ایندھن کا ہے جب کہ اگلے 10 سال میں بجلی کی قابل تجدید ذرائع سے پیداوار 90 فیصد تک، جب کہ حیاتیاتی ایندھن سے پیداوار 10 فیصد تک لے جانے کے لیے منصوبہ بندی پر کام جاری ہے۔شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر ملکی برآمدات کے لیے سہولت پیدا کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی زرعی اجناس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا ڈاکٹر احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، ، سردار اویس احمد لغاری، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
خیبر پختون خوا میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 47 افراد جاں بحق جبکہ 117 افراد زخمی ہوگئے۔
صوبے میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے پچھلے 4 روز کے دوران 21 افراد جاں بحق جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے جبکہ 25 مارچ سے جاری بارشوں کے باعث اب تک مجموعی طور پر 47 افراد جاں بحق اور 117 افراد زخمی ہوئے۔
مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 27 بچے، 13 مرد اور 7 خواتین جبکہ زخمیوں میں 45 مرد، 21 خواتین اور 51 بچے شامل ہیں۔
بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 652 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 554 گھروں کو جزوی جبکہ 98 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں, ایبٹ آباد، مردان، باجوڑ، ہنگو، مہمند، کوہاٹ، شمالی وزیرستان، پشاور، خیبر، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، کرم، لکی مروت، شانگلہ، بٹگرام، لوئر کوہستان، مانسہرہ، طورغر، سوات، اپر دیر، چارسدہ، بونیر، مالاکنڈ، لوئر دیر، اورکزئی، جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کو امدادی سامان روانہ کر دیا گیا جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا نیا سلسلہ 6 اپریل سے 9 اپریل کے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بارشوں کے باعث دریائے کابل نوشہرہ کے مقام پر نچھلے سے درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ دریائے کابل سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے۔
عوام سے اپیل کی جاتی ہے کے بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں










